’بری خبر‘ کی ترسیل کرنے والے کو الزام دینے کے مترادف:عمر، محبوبہ، سجاد

سرینگر//نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمرعبداللہ نے گریٹر کشمیراخبار کو سرکاری اشتہارروک دینے کو ’بری خبر کی ترسیل کرنے والے کو مورد الزام ٹھہرانے‘سے تعبیر کیا ہے۔عمرعبداللہ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا (حقیقت پر مبنی)’’ بری خبر کی ترسیل کرنے والے کو الزام دینے کے ایک کلاسیکی معاملے کی طرح ،بتایا جاتاہے کہ ،ریاستی حکومت نے گریٹر کشمیر گروپ آف نیوزپیپرس کو سرکاری اشتہارات روک دیئے ہیں ۔اگر یہ سچ ہے مجھے یقین نہیں کہ اس قدم سے کیا حاصل ہوگا، سوائے جی حضوری کرنے والے ایک میڈیا کی تخلیق کے‘‘۔ واضح رہے کہ کلاسیکی روایات کا معنی یہ ہے کہ ’’ بادشاہوں کے درباروں میں کوئی خبر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کیلئے قاصد مقرر کئے جاتے تھے،اور اگر کبھی کوئی قاصد ایسی کوئی خبر، جو بادشاہ کو پسند نہیں ہوتی تھی،دیتا تھا، تواسے  بادشاہ کو دکھی کرنے کی سزا دی جاتی تھی‘‘۔محبوبہ مفتی  نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ گورنر انتظامیہ نے یہ اقدام نامعلوم وجوہات کی بناء پر کیا ہے اور اسے صاف ظاہر ہے کہ جموں کمشیر میں گورنر انتظامیہ اپنے منڈیٹ سے بہت آگے چلی گئی ہے اور وہ واپس نہیں آنا چاہتی۔ گریٹر کشمیر اور کشمیر ریڈر کو سرکاری اشتہارات نہ دینا اس بات کی واضح علامت ہے کہ ان اداروں کو سزا دینے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں زیر تسلط رکھا جائے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آزاد میڈیا پر کاٹ رہی ہے ۔ سجاد غنی لون نے بھی کہا ہے کہ ریاستی سرکار کا یہ فیصلہ غیر ضروری اور غیر منصفانہ ہے۔ سجاد نے کہا کہ گریٹر کشمیر ایک ادارہ بن کر اُبھرا ہے ،کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اُس کے خیالات سے متفق نہ ہونے کی بناء پر اُسے سزا دے۔ انہوں نے گورنر سے مخابط ہوکر کہا کہ  ادارے کو پھلنے پھولتے دیا جائے اور معیشی طور پراسے خوفزدہ کیا جائے۔