بریگزٹ : تھریسا مے نے معاہدے کے متبادل مسترد کردئیے

لندن// برطانوی وزیر اعظم تھریسامے نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پیش کردہ بریگزٹ معاہدے کے تمام متبادل معاہدوں کو مسترد کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق برطانیہ کی ٹوری پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے تھریسامے کو دئیے گئے ناروے کی مانند یورپی یونین سے اخراج کے مشورے کو فروغ دے رہے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یہ مشورہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے کیوں کہ یہ آزادی کی تحریک کو جاری گا۔ مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی نے موجودہ معاہدے سے بہتر معاہدہ تیار کیا تھا لیکن وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے مناسب متبادل آگے نہیں بڑھایا۔ برطانیہ کی لیبر پارٹی نے 11 دسمبر کو کامنز معاہدے کی منظوری کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں تھریسا مے کے معاہدے کی مخالفت میں ووٹ دینے کی دھمکی دی ہے۔ تھریسا مے کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی برطانیہ کا یورپی یونین سے بغیر کسی معاہدے سے اخراج کی وکالت بہت موثر طریقے سے کر رہی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق لیبر پارٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ کراس پارٹی کی بغیر معاہدے کے یورپ سے اخراج کی ترمیم کو ووٹ دینے کے لیے تیار ہیں۔ لیبر پارٹی لہ قیادت کا کہنا ہے کہ کراس پارٹی کی ترمیم تھریسامے مے کو پابند نہیں کرسکتی لیکن اگر پارلیمنٹ نے اس ترمیم کو منظور کرلیا تو وزیر اعظم کے لیے اسے نظر انداز کرنا مشکل ہوگا۔  یاد رہے کہ برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے ان دنوں دنیا کے امیر ترین ممالک کے اجلاس میں شرکت کے لیے لاطینی امریکا کے ملک ارجنٹینا میں موجود ہیں۔ خیال رہے کہ برطانوی وزیرِ سیکیورٹی نیخبردار کیا ہیکہ بریگزٹ پر کوئی معاہدہ نہ ہونا برطانیہ اور یورپی یونین کے سیکورٹی تعلقات پر نہ صرف اثر انداز ہوگا بلکہ عوام کی حفاظت کو بھی نقصان پہنچائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ان کا کہنا تھا کہ موثر سیکیورٹی کے لیے باہمی روابط بہت اہم ہیں۔