برہان وانی کی پہلی برسی،وادی میں سخت سیکورٹی انتظامات

سرینگر// حزب کمانڈر برہانی وانی کی پہلی برسی پر مزاحمتی اور عسکری خیمے کی طرف سے دی گئی کال کے پیش نظر ممکنہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے فورسز اور پولیس کو چوکناکیا گیا ہے جبکہ حساس علاقوں میں اضافی فورسز و پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔سماجی رابطہ گاہوں اور انٹرنیٹ کی سروس کو منقطع کرنے کے احکامات بھی صادر کئے گئے جبکہ حساس اضلاع میں موبائل سروس بھی ممکنہ طور پر بند کی جائے گی۔ جنوبی کشمیر کے بمڈورہ علاقے میں ایک برس قبل خونین جھڑپ میں جان بحق حزب کمانڈر برہان مظفر وانی کی پہلی برسی کے مناسبت سے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے احتجاجی پروگرام و ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔کال کے پیش نظر انتظامیہ اور پولیس متحرک ہوگئی ہے اور کسی بھی طرح کی صورتحال سے نپٹنے کیلئے ایک ہفتہ قبل سے تیاریاں جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے سیکورٹی کی کئی میٹنگیں منعقد ہوئیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس روز جنگجوئوں کی طرف سے ممکنہ حملوں کو مد نظر رکھتے ہوئے پہلی ہی فورسز،فوج اور پولیس کو متحرک رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔سیکورٹی ایجنسیوں کو خدشہ ہے کہ برہان کی پہلی برسی کے موقعے پر نہ صرف علیحدگی پسندوں کی طرف سے احتجاج منظم کرنے کی کوشش کی جائے گی بلکہ جنگجو بھی پولیس اور فورسز پر حملوں میں تیزی لاسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق خفیہ اداروں نے بھی اسی طرح کے خدشات ظاہر کئے ہیں اور اس سلسلے میں خاص طور پر جنوبی کشمیر کا نام لیا جارہا ہے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ان خدشات کے پیش نظر برہان وانی کی برسی کے موقعے پر سیکورٹی کے مثالی انتظامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ امن و قانون کی صورتحال کو قابو میں رکھا جائے۔ذرائع کے مطابق اس مقصد کیلئے ریاستی اور مرکزی حفاظتی اداروں کے درمیان کچھ عرصے سے صلاح و مشورہ جاری تھا جس دوران برہان وانی کی برسی کے موقعے پر حفاظتی انتظامات کے حوالے سے ایک خاص حکمت عملی کو حتمی شکل دی گئی ہے جس کے تحت پوری وادی بالخصوص جنوبی کشمیر کے4اضلاع پلوامہ، اننت ناگ، کولگام اور شوپیان میںپولیس اور نیم فوجی دستوں کے ساتھ ساتھ فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد میں تعیناتی عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت بھی برہان وانی کی برسی کے موقعہ پر کشمیر کی صورتحال پر نظر بنائے رکھی ہوئی ہیں،اور اس سلسلے میں ریاستی حکومت کو ہر طرح کا تعاون بھی پیش کر رہی ہے۔داخلہ سیکریٹری راجیو مہاریشی نے نئی دہلی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا’’ کشمیر میں ہم ہر سطح کی صورتحال  سے نپٹنے کیلئے تیار ہیں جبکہ مرکزنے امرناتھ یاترا کے بیچ 8جولائی کو ممکنہ صورتحال سے نپٹنے کیلئے فورسز کی214کمپنیوں کو روانہ کیا‘‘۔ادھر صورتحال کو بنائے رکھنے کیلئے  انٹرنیت اور مواصلاتی پر بھی پابندی عائد کرنے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔صوبائی پولیس سربراہ کی طرف سے اس سلسلے میں وادی میں سماجی رابطہ گاہوں کو بند کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ آئی جی کشمیر منیرا حمدخان کی طرف سے جاری حکم نامہ میں لیز لائن انٹرنیٹ فرہم کرنے والوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ’’ملک دشمن عناصر کی طرف سے انٹرنیٹ سروس کا غلط استعمال کرنے کی خدشات کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام سوشل سائٹس کو بند کرنے کے احکامات دئیے جاتے ہیں تاکہ ممکنہ امن و قانون کی صورتحال پیدا نہ ہو‘‘۔آئی جی کشمیر نے کہاکہ اگر سماجی رابطہ گاہوں کو بند کرنا نا ممکن بن جائے،تو اس صورت میں انٹرنیٹ سہولیات ہی جمعرات شام10بجے سے آئندہ احکامات تک بند کی جائے۔ممکنہ طور پر انتظامیہ و ادی میں احتیاطی طور پر موبائل سروس کو بھی بند کرے گی۔حفاظتی اداروں کی طرف سے مرتب کی گئی حکمت عملی کے تحت بیشتر علیحدگی پسند لیڈران، عہدیداروں اور کارکنوں کو گرفتار یا خانہ نظر بند کیا جائے گا جبکہ سنگبازوں کو پولیس اسٹیشن طلب کرکے کچھ دنوں تک حراست میں رکھا جائے گا۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے افواہ بازی سے بچنے کیلئے جمعرات کی رات سے موبائیل انٹر نیٹ خدمات بھی معطل رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس سلسلے میں ریاستی محکمہ داخلہ کی طرف سے مواصلاتی کمپنیوں کو پہلے ہی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ سرینگر میں مقیم سی آر پی ایف کے ترجمان راجیش یادو نے اس بات کی تصدیق کی کہ8جولائی کو جنوبی کشمیر کے حساس مقامات کے ساتھ ساتھ وادی کے دیگر علاقوں میں فورسز کی معقول تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ یقیناحفاظتی انتظامات معمول کے مقابلے میں انتہائی سخت ہونگے ۔ آئی جی کشمیر منیر احمدخان نے بتایا کہ جہاد کونسل اور مزاحمتی جماعتوں کی طرف سے دی گئی کال کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام طرح کے سیکورٹی انتظامات کئے گئے ہیں،جبکہ تمام پولیس افسران اور انتظامی افسران کو بھی ہدایت جاری کی گئی ہے۔انہوں نے کہا امن میں نقص پیدا کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے گا جبکہ غیر قانونی طور پر لوگوں کو جمع ہونے کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔منیر احمد خان نے کہا کہ پولیس اور فورسز کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے،جبکہ سیکورٹی کے ہر طرح کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔