برمی مظلومین کی نسل کشی پر انسانی حقوق کے علمبردار خاموش کیوں ؟

پونچھ// نائب مہتمم جامعہ ضیاء العلوم پونچھ وصدر تنظیم علماء اہلِ سنت والجماعت پونچھ مولانا سعید احمد حبیب نے گزشتہ روزنماز جمعہ کے موقعہ پر مرکزی جامع مسجد بگیالاں میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے دنیا بھر میں جاری قتل وغارت گری کی شدید الفا ظ میں مذمت کی فلسطین ، عراق ، لیبیا ،شام افغانستان اور اب برما میں انسانیت کو شر مسار کرنے والے بہیمانہ مظالم کیلئے امریکہ اور اسکے حمایتوں کو ذمہ دارو قصور وار ٹھہرایا۔یہاں جاری بیان میں مولانا نے سوال کیا کہ اسقدر وحشیانہ مظالم کے بعد بھی کیا مسلمانوں کو دہشت گرد کہا جائے گا اور اسلامک دہشت گردی جیسی اصطلاحات استعمال کی جائیگی ۔مولانا نے کہا کہ اگر امریکہ نے اپنی عالمی اجارہ داری کے مقاصدکیلئے اسرائیل کے ناپاک وجود کو جنم نہ دیا ہوتا اور اسکے غاصبانہ قبضے کو تسلیم نہ کیا ہوتا تو آج پوری دُنیا فساد اور قتال سے محفوظ ہوتی ،خطہ عرب میں سیاسی بے یقینی اور معاشی استحصال کی وجہ سے مُسلم دنیا میں ایک بے چینی ہے جسکی وجہ اسرائیلی شرارتیں اور عالمی طاقتوں کا اسرائیل کا غلط اور ناجائز تعاون رہا ہے ۔روہنگیامسلمانوں پرمظالم پر عالمی راہنمائوں کی خاموشی کو مجرمانہ خاموشی قراردیتے ہوئے مولانا نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو یا د دلایا کہ وہ بات بات پر شور مچاتے اور اجلاس طلب کرتے ہیں ،اب اُن کی زبانیں کیوں خاموش ہیںاوراس طرح سے عالمی اداروں کے دوغلے پن اورمنافقانہ کردار نے پوری انسانیت کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔ مولانا نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی اور مسلم حکمرانوں کی خاموشی کی بھی مذمت کی اور برما سے سفارتی تعلقات کے منقطع نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ ان کی بزدلی اور ظلم کی حمایت کرنے کے مترادف ہے ۔مولانا نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے ناطے اسکی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرے اور میانمار حکومت کو اس ظلم وجبر سے باز رکھے ۔مولانا نے ہندوستان میں موجود روہنگیامہاجرین کے حوالہ سے بھی حکومت اپیل کی کہ وہ اپنی شاندار قدیم ہندی روایات کو باقی رکھتے ہوئے ان مظلوم مہاجرین کو ملک بدر نہ کرے جہاں لاکھوں مہاجرین ہندوستان میں آباد ہیں وہاں ان مظلومین مہاجرین کیساتھ اس مشکل وقت میں کھڑارہنا عین انسانی شرافت کا تقاضہ ہے اسلئے حکومت ہند ان مہاجرین کو ملک بدرنہ کرے ۔مولانا نے مسلمانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں فرقہ واریت سے اپنے آپ کو دور رکھیں اور برادرن وطن کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کریں اور حسن سلوک کا معاملہ کریں۔