برمی فوج بارودی سرنگیں بچا رہی ہے: ایمنسٹی انٹرنیشنل

ڈھاکہ// انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے میانمار کی فوج کی طرف سے بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد پر بارودی سرنگیں بچھائے جانے کی تصدیق کی ہے۔تنظیم نے عینی شاہدین اور اپنے ماہرین کے حوالے سے کہا ہے کہ بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کم از کم ایک شہری ہلاک اور دو بچوں سمیت تین افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی کرائسس ریسپانس ڈائریکٹر تیرانہ حسن کا کہنا ہے کہ اپنے جانیں بچا کر بھاگنے والے نہتے افراد کے خلاف اس انتہائی گھناونی حرکت کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔بنگلہ دیش کے حکام نے بھی میانمار فوج کی طرف سے سرحد پر بارودی سرنگیں بچانے کے اقدام پر احتجاج کیا ہے۔میانمار کی فوج کے ایک اعلی اہلکار نے برطانوی خبر رساں ادارے روائٹرز کو بتایا کہ یہ بارودی سرنگیں نوے کی دہائی میں بچھائی گئی تھیں اور حال میں فوج نے ایسی کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔دریں اثنا عالمی امدادی ایجنسی ریڈ کراس میانمار میں اپنی کارروائیاں تیز کر رہی ہے کیونکہ اقوام متحدہ پر میانمار کی حکومت کی طرف سے روہنگیا باغیوں کی امداد کرنے کے الزام کے بعد اسے اپنی کارروائیاں کم کرنی پڑ رہی ہیں۔میانمار کے صوبے رخائن میں فوجی کی طرف سے مبینہ قتل عام سے بچنے کے لیے گزشتہ دو ہفتوں میں بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد دو لاکھ نوے ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔گزشتہ روز جمعہ کو بنگلہ دیش میں اقوام متحدہ کے اہلکار سرحدی علاقوں میں ہزاروں ایسے روہنگیا مہاجرین تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے جنہیں اس سے قبل شمار نہیں کیا گیا تھا جس کے بعد مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے دو لاکھ ستر ہزار تک پہنچ گئی۔ ہفتے کو مزید بیس ہزار سے زیادہ مہاجرین کو تلاش کیا گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں بھوکے اور خوفزدہ مہاجرین کا بنگلہ دیش پہنچنے کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔میانمار سے بھاگنے والے افراد کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج نے ان کے گھروں کو جلایا اور ان پر حملے کر رہی ہے۔تشدد کی یہ لہر 25 اگست کو اس وقت شروع ہوئی جب روہنگیا کے شدت پسندوں نے شمالی ریاست رخائن میں پولیس چوکیوں پر حملے کر متعدد پولیس اہلکاروں کو مار ڈالا۔ اس کے بعد میانمار کی فوج نے روہنگیا کے خلاف آپریشن شروع کر دیا۔روہنگیا کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج اور بدھ مت کے پیروکاروں نے ان پر حملہ کر کے ان کے گاؤں کو نذر آتش کیا اور شہریوں پر حملہ کیا تاہم میانمار کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی فوج روہنگیاکے شدت پسندوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ دو ہفتوں میں تقریباً سوا لاکھ روہنگیا مسلمان رخائن صوبے سے نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش منتقل ہوئے ہیں۔روہنگیا اقلیت کو میانمار یعنی برما میں مظالم کا سامنا ہے۔ ان کی اکثریت مسلمان ہے اور ان کا کوئی ملک نہیں ہے۔روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم کی بین الاقوامی سطح پر مذمت جاری ہے اور ملک کی رہنما آنگ سان سوچی کو روہنگیا مسلمانوں کی مدد نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔