برف پوش وادی بڈنمبل بنیادی سہولیات سے محروم،چوکی بل بڈنمل سڑک بھاری برف باری کے بعد ہنوز بند

 کپوارہ//برف پوش پہا ڑوں کے بیچ سرحدی تحصیل کرالہ پورہ کا دور دراز اور پسماندہ علاقہ بڈنمل بنیادی سہولیات سے محروم ہے ۔مقامی لوگو ں کے مطابق موسم سرما یہا ں کے لوگو ں کے لئے کسی قیامت سے کم نہیں ہے کیونکہ چوکی بل بڈنمل سڑک رابطہ سے ابھی تک برف نہیں ہٹائی گئی ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ طبی سہولیات ،ہائی سکول ہیڈ ماسٹر کے بغیر اور بجلی سپلائی سے محروم یہ علاقہ اپنی قسمت کا رو نا روتا ہے کیونکہ یہا ں کے لوگ یہ کہہ کر عوامی نمائندو ں سے ناراض ہیں کہ الیکشن کے دوران بھاری ووٹ ڈالکر اس علاقہ کو سرکار نے یکسر نظر انداز کیا ہے ۔لوگو ں کے مطابق الیکشن سے قبل ہر سیاسی پارٹی کے نمائندے بڈنمل آکر لوگو ں سے یہا ں کی ترقی و تعمیر کے جھوٹے وعدے دیکر ووٹ لیتے ہیں لیکن بعد میں اس علاقہ کی طرف ایک نظر کرنے کا بھی گو ارہ نہیں کرتے ہیں ۔بڈنمل کی ایک عوامی وفد نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ چوکی بل بڈنمل کی 22کلو میٹر کی سڑک کو چوکی بل سے بڈنمل ٹاپ تک پہلی ہی برف ہٹائی گئی لیکن سو مو ڈارئیور 11کلو میٹر کے لئے مسافرو ں سے فی کس 50روپیہ وصول کرتے ہیں لیکن انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ۔وفد کا کہنا ہے کہ بڈنمل کے بائے ٹاپ سے ابھی تک سڑک سے برف نہیں ہٹائی گئی اور نتیجے کے طور بڈنمل کے لوگ جن میں مریض ،کا باری ادارروں سے وابسطہ لوگ ،طلبہ اور عام لوگ بڈنمل ٹاپ تک پیدل آتے ہیں جس کے دوران اس دشوار گزار سڑک سے لوگو ں کو خوف محسوس ہوتا ہے ۔وفد میں شامل لوگو ں کا یہ بھی کہنا ہے کہ طویل انتظار کے بعد کئی سال قبل سرکار نے بڈنمل علاقہ کو دین دیال سکیم کے تحت بجلی سپلائی سے جو ڑ دیا اور جبکہ لوگو ں نے بجلی کے بلب چمکتے ہوئے دیکھا تو وہ خوشی کے مارے اپنے گھرو ں سے باہر آئے اور علاقہ میں بجلی کو دیکھ کر جشن منانے لگے لیکن لوگو ں کے مطابق ان کی خوشی کو اس وقت نظر لگ گئی جب بھاری برف باری کے بعد تین سال قبل بجلی کے کھمبو ں اور ترسیلی لائنو ںکو نقصان پہنچ کر زمین پر بکھر گئے اور 3مہینے کے بعد یہ علاقہ پھر اندھیرے میں ڈوب گیا اور3سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی نا ہی بجلی کے کھمبو ں کو کھڑا کیا گیا اور ناہی ترسیلی لائنو ں کو جو ڑ دیا گیا اور اب ترسیلی لائنو ں کے علاوہ متعدد مقامات پر بجلی کھمبے بھی غائب ہوچکے ہیں ۔لوگو ں کا مزید کہنا ہے کہ اس علاقہ میں سرکار نے ایک یونانی اسپتال قائم کیا ہے لیکن ڈاکٹر کی عدم موجود گی کی وجہ سے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے ۔لوگو ں کا کہنا ہے کہ اس اسپتال کے لئے جس ڈاکٹر کو تعینات کیا گیا وہ کبھی بھی اس اسپتال میں اپنی ڈیو ٹی نہیں دیتا جس کی وجہ سے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے ۔لوگو ں نے مطالبہ کیا کہ اس اسپتال کو بند کر کے یہا ں پر محکمہ صحت کی جانب سے قائم سب سنٹر کے لئے ڈاکٹر کو تعینات کیا جائے تاکہ مریضوں کو دردر کی ٹھو کریں کھانے پر مجبور نہ کیا جائے گا ۔لوگو ں کا یہ بھی کہنا ہے کہ4سال قبل محکمہ تعلیم نے یہا ں کے مڈل سکول کا درجہ بڑ ھا کر اس کو ہائی سکول کا درجہ دیا اور اس کے با ضابطہ طور ہیڈ ماسٹر کو تعینات کیا گیا لیکن اس ہیڈ ماسٹر کا 5مہینہ قبل تبادلہ عمل میں لایا گیا لیکن تا حال کسی بھی ہیڈ ماسٹر کو مزکورہ ہائی سکول کے لئے تعینات نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں سکول می ں زیر تعلیم طلبہ کو مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے ۔لوگو ں نے سرکار کے ساتھ ساتھ ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور اس پسماندہ علاقہ کی طرف اپنی توجہ دیکر لوگو ں کے مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کریں ۔اس حوالے سے ضلع ترقیاتی کمشنر کپوارہ خالد جہانگیر نے بتا یا کہ بڈنمل میں لوگو ں کو درپیش مسائل کے حوالہ سے وہ انتظامیہ سے ایک رپورٹ طلب کرے گا اور ان مشکلات کا فوری طور حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی ۔انہو ں نے بتا یا کہ مقامی لوگو ں نے آج تک ان کی نو ٹس میں ایسے معاملات نہیں لائے لیکن وہ کپوارہ کے دور دراز علاقوں میں لوگو ں کو بنیادی سہولیات میسر رکھنے کے لئے کو شاں ہیں