برفباری سے پیداصورتحال سے نمٹنے میں انتظامیہ ناکام:تاریگامی

سرینگر// سی پی آئی ایم کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے کہا ہے کہ حالیہ شدید برف باری کے بعد وادی کشمیر میں لوگ شدید بحران سے دوچار ہیں اور رابطہ سڑکوں سے برف نہ ہٹانے اور پانی و بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے میں انتظامیہ ناکام ہوگئی ہے۔ ایک بیان میں تاریگامی نے کہاکہ موسمی حالات اور جغرافیائی صورتحال کے پیش نظر کشمیر میں برف باری کوئی نئی بات نہیں ہے تاہم انتظامیہ کا زمینی سطح پر کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ انہوںنے کہاکہ متعدد رابطہ سڑکوں سے برف نہیں ہٹائی گئی جس کے سبب عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ تاریگامی نے کہاکہ محکمہ موسمیات نے بھاری برفباری کی پیشن گوئی کی تھی لیکن اس کے باوجود حکومت کی طرف سے کوئی پیشگی انتظامات نہیں کئے گئے اور نتیجہ کے طور پر عوام پریشان حال ہیں۔انہوںنے کہاکہ وادی کے دوردراز علاقوں میں لوگوں کیلئے اپنی جان بچانابھی مشکل ہورہاہے اور انہیں حالات کے رحم وکرم پر چھوڑاگیاہے اور وہاں نہ صرف اشیائے ضروریہ کی قلت ہے بلکہ بجلی اور پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے جبکہ ان علاقوں تک جانے والی سڑکیں ابھی بھی بند ہیں۔ تاریگامی نے کہاکہ مریضوں ، خاص طور پر حاملہ خواتین اور کینسر اور دیگر موذی امراض میں مبتلا بیماروں کو علاج و معالجہ کی فراہمی کے حوالے سے دقتیں پیش آرہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ جنوبی کشمیر کے اضلاع کے بیشتر علاقوں میں 5سے 6فٹ برف ریکارڈ کی گئی اور انتظامیہ صورتحال سے نمٹنے سے بالکل بھی تیار نظر نہیں آئی۔ تاریگامی نے کہاکہ جنوبی کشمیر میں بجلی سپلائی کی خرابی سے لے کر سڑکیں بند ہونے تک کئی طرح کی مشکلات سے عوام سامنا کررہے ہیں لیکن انتظامیہ اس سے لاپرواہ ہے۔انہوں نے کہاکہ کئی امیدواروں کو امتحانات دینے تھے لیکن وہ برف میں ہی پھنس کر رہ گئے اس لئے انتظامیہ ایسے امیدواروں کیلئے از سر نو امتحانات کا انعقاد کرے۔تاریگامی نے کہاکہ 270 کلو میٹر طویل سرینگر جموں قومی شاہراہ پچھلے دو ہفتوں سے اکثرو بیشتر اوقات بند رہی جبکہ ضروری سامان سے لدے سینکڑوں ٹرک مختلف مقامات پر درماندہ ہیں جس سے وادی میں اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ ایل پی جی ، پٹرول ، ڈیزل سمیت ضروری اشیاء کی کمی سے مزید پریشانی نہ ہو اور ہنگامی خدمات کی نگرانی کی جانی چاہئے اور بجلی کی ترسیلی لائنوں کی فوری طور پر مرمت کی جانی چاہئے۔