برفباری سے مہو منگت جیسے علاقوں کا رابطہ منقطع زندگی دشوار بن گئی

 حاملہ خاتون کو میلوں کا پیدل سفر کر کے زچگی کیلئے ہسپتال پہنچا یاگیا

محمد تسکین
بانہال // سب ڈویژن بانہال کے کڈجی علاقے سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے جس میں مقامی مرد و خواتین کی ایک بڑی تعداد درد زہ میں مبتلا ایک خاتون کو بھاری برفباری کے بیچ چارپائی میں کندھوں پر اٹھا کر پرائمری ہیلتھ سینٹر منگت پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مہو منگت کا وسیع علاقہ بھاری برفباری کی زد میں ہے اور رسل و رسائیل کے تمام راستے مسددود ہو کر رہ گئے ہیں۔ کْڈجی منگت کے مقامی سماجی کارکن ریاض گل نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ حاملہ خاتون نازہ بیگم زوجہ بشیر احمد لون سکنہ کڈجی گزشتہ رات سے ہی درد ذہ میں مبتلا تھی اور جمعرات کی صبح مقامی لوگوں نے اُسے چارپائی پر اٹھا کر تین سے چار فٹ جمع برف میں پانچ کلومیٹر دور منگت ہسپتال پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ پرائمری ہیلتھ سینٹر منگت میں ضروری ابتدائی طبیِ امداد پہنچانے کے بعد وہاں موجود ڈاکٹروں نے نارمل ڈیلیوری کرانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن شام پانچ بجے تک ایسا ممکن نہ ہو سکا اور بعد میں درد زِہ میں مبتلا خاتون کو برفباری میں مزید چھ کلومیٹرکاسفر کرکے باوا کی بستی تک پہنچایا گیا اور وہاں سے اسے بانہال ہسپتال پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہو منگت کی دونوں رابط سڑکیں بھاری برفباری سے بند ہیں اور مہو منگت کی ہزاروں کی آبادی محصور ہو کر رہ گئی ہے۔

شاہراہ پر راجستھان کالج کے درماندہ بچوں کو بچایا گیا
فوج نے اپنے کیمپ میں قیام و طعام اور طبی سہولیات فراہم کیں
محمد تسکین
بانہال // بانہال میں فوج کی بارہ راشٹریہ رائفلز نے کمال جرات اور مثالی خدمات کا مظاہرہ کرتے ہوئے بانہال کے قریب جموں سرینگر قومی شاہراہ پر پسیوں اور پتھر گر آنے سے بند ہونے کی وجہ سے درماندہ ہوئے راجستھان کے ایک لاء کالج کے 74 طالب علموں اور سٹاف کے سات ممبران کو فوری کارروائی کرتے ہوئے بچا کر انہیں پناہ دیکر نئی زندگی دی ہے۔ شدید بارشوں اور برفباری کی وجہ سے جموں سرینگر قومی شاہراہ پچھلے چار روز سے بند ہے اور سرینگر سے واپس راجستھان جارہے موہن لعل سکھڈیا لاء کالج کے طالب علموں اور سٹاف کے 80 افراد بھی شاہراہ پر پھنس گئے تھے۔ کالج کے ممبران کی طرف سے مدد کی درخواست کی گئی ۔خبر ملتے ہی فوج کی بارہ راشٹریہ رائفلز کے جوان اور افسران حرکت میں آئے اور فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام مسافروں کو آرمی کیمپ بانہال پہنچاکر ان کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا۔ فوج نے شاہراہ پر پھنسے ہوئے طلباء اور عملے کیلئے اپنے کیمپ میں رہائش کرنے ، کھانے پینے اور طبی مدد فراہم کی اور شاہراہ کی بحالی کے بعد ہی انہیں روانہ کیا جائیگا۔درماندگی کا شکار طالب علموں اور سٹاف نے فوج کی بروقت مدد کیلئے فوج کا شکریہ ادا کیا ہے۔