برطانیہ اور روس کے ایک سال بعد مذاکرات

جرمنی// جرمنی میں روس اور برطانیہ کے جونیئر وزرائے خارجہ کی ملاقات کو سرد مہری کے خاتمے اور ’نئے سفارتی تعلقات‘ کی ابتدا کے تناظر میں خوش آئند سمجھا جارہا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق لندن کی وزارت خارجہ کے مطابق میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں برطانیہ کے وزیر ایلین ڈینکن اور روس کے پہلے ڈپٹی وزیر خارجہ ولادی میر ٹیٹو نے سائیڈ لائن ملاقات کی۔ خیال رہے کہ گزشتہ برس 4 مئی کو سابق روسی جاسوس سرگئی اسکرپال پر روس کے ہی تیار کردہ اعصاب شل کر دینے والے زہر 'نووی چوک' سے حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد ماسکو اور لندن کے درمیان ’سفارتی تعلقات‘ شدید متاثر ہوئے تھے۔ برطانیہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ’برطانوی وزیر نے ملاقات میں زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان خلیج وسیع ہے اور روس کو ذمہ دارانہ عالمی پارٹنرز کی حیثیت سے رویہ اختیار کرنا چاہیے‘۔ برطانوی وزیر نے اپنے ردعمل کا اظہار ٹوئٹر پر بھی کیا جہاں دونوں رہنماؤں کی مشترکہ فوٹو شائع کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ’تاہم روس کے ساتھ مختلف امور پر تعلقات کے لیے دروازے کھلے ہیں، ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ماسکو سے امید کرتے ہیں کہ وہ عالمی نظام کے وضع کردہ قوانین کی پاسداری کرے‘۔ دوسری جانب روس کی نیوز ایجنسی نے ’سفارتی ذرائع‘ کا حوالہ دیا جس میں مذاکرات سے متعلق برطانوی وزارت خارجہ کے خلاف ’سخت‘ رویہ اختیار کیا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ ’جو کچھ (مذاکرات سے متعلق) لندن میں شائع ہوا اس میں ’زبان‘ اور ’مواد‘ملاقات سے متضاد ہے‘۔ ذرائع کے مطابق ’برطانیہ کی جانب سے روس پر’مذاکرات کے لیے زور دیا گیا‘۔ واضح رہے کہ برطانیہ نے سابق روسی ایجنٹ کو زہر دینے کے واقعے میں روس کے صدر ولادی میر پوٹن کو ’اصل‘ قصور وار ٹھہراتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں معاملہ اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ وزیر سیکیورٹی بین ویلس نے کہا تھا کہ ’ولادی میر پوٹن پر زہر دینے کی تمام تر ذمہ داری عائد ہوتی ہے‘۔