برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیرمیں انسانی حقوق پر بحث

سری نگر//برطانیہ میں ممبران پارلیمنٹ کی طرف سے کشمیر میں انسانی حقوق سے متعلق ایوان زیریں میں ایک تحریک پیش کرنے  پرنئی دہلی نے برہمی کااظہار کیاہے۔ کے این ایس کے مطابق برطانیہ کے کل جماعتی پارلیمانی گروپ(APPG)کے ممبران پارلیمنٹ نے کشمیر میں انسانی حقوق سے متعلق ایک ایوان زیریں میں بحث کیلئے پیش کی جس پر بھارتی حکومت نے اس مباحثے میں حصہ لینے والے ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے استعمال کی جانے والی زبان پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ بھارت کی جانب سے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ملک کے اٹوٹ حصے سے متعلق موضوع پر کسی بھی فورم میں کئے گئے کسی بھی دعوے کو مستند تصدیق شدہ حقائق کے ساتھ درست ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔وزیر خارجہ برائے ایشیا دولت مشترکہ اور ترقیاتی دفتر (FCDO) امانڈا مِلنگ نے گزشتہ روز بحث کا جواب دیتے ہوئے کشمیر کے متعلق برطانوی حکومت کے غیر تبدیل شدہ موقف کو دو طرفہ مسئلہ کے طور پر دہرایا ۔ملنگ نے کہا کہ حکومت کشمیر کی صورتحال کو بہت سنجیدگی سے لیتی ہے لیکن کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے اور مدنظر رکھتے ہوئے بھارت اور پاکستان کو پائیدار سیاسی حل تلاش کرنا ہے، برطانیہ کیلئے کوئی حل تجویز کرنا یا ثالث کے طور پر کام کرنا نہیں ہے۔بھارتی حکومت نے اس مباحثے میں حصہ لینے والے ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے استعمال کی جانے والی  زبان پر مایوسی کا اظہار کیا  خاص طور پر لیبر پارٹی کے ایم پی ناز شاہ پر سخت اعتراض جتایا ہے۔لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے ایک وزیر نے وزیراعظم نریندر مودی پر کی گئی تنقید کی سخت مذمت کی اور کشمیر کی حیثیت کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا۔وزیر نے مزید کہا کہ سابقہ مواقع کی طرح بھارت کے ہائی کمیشن نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ بھارت کے اٹوٹ انگ سے متعلق موضوع پر کسی بھی فورم میں کیے گئے کسی بھی دعوے کو مستند تصدیق شدہ حقائق کے ساتھ درست ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔