برطانوی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر کا ذکرکثیر

 سرینگر//حکومت ہند نے برطانوی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر متواتر طور اُجاگر کرنے پرحکومت برطانیہ کے سامنے باضابطہ طور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس سلسلے پر فوری روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔بھارت نے جموں کشمیر کو اس کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے برطانیہ میں کشمیری علیحدگی پسند اور خالصتان نواز تنظیموں کی سرگرمیوں کا معاملہ بھی برطانوی حکومت کے ساتھ اٹھایا ہے۔ برطانیہ میں امیگریشن کے وزیر مملکت برینڈن لیوس کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد بھارت کے دورے پر ہے۔ وفد نے نئی دلی میں امور داخلہ کے مرکزی وزیر مملکت کرن ریجی جو کے قیادت والے وفد کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جس میں وزارت داخلہ کے اعلیٰ اہلکار بھی موجود تھے۔نئی دلی میں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کرن ریجی جو نے مہمان وزیر مملکت کے ساتھ ملاقات کے دوران انہیںبرطانوی پارلیمان میں مسئلہ کشمیر کو کثرت کے ساتھ اُجاگر کئے جانے پر بھارت کی تشویش سے آگاہ کیا۔مرکزی وزیر مملکت نے کہا کہ کچھ پاکستانی نژاد ممبران پارلیمنٹ کی ایماء پر برطانوی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر اٹھایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال ایسے معاملات میں عدم مداخلت کی واضح پالیسی کے برعکس ہے۔ کرن ریجی جو نے کشمیری علیحدگی پسند تنظیموں کے ساتھ ساتھ خالصتان نواز تنظیموں کی برطانیہ میں جاری سرگرمیوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں بہت سارے ایسے لوگ ہیں جو بھارت مخالف سرگرمیوں کے مرتکب ہورہے ہیں، وہ بھارت مخالف پروپگنڈہ چلارہے ہیں اور یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے۔وزیر موصوف نے برطانوی وزیر پر واضح کیا کہ جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ ہے اور برطانیہ کو اپنی سرزمین پر بھارت مخالف سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔