برصغیر……قیامِ امن کا بے تابہ انتظار!

پاکستان میںقومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کےلئے انتخابات کے بعد نتائج کا جو رجحان سامنے آیا اس میں اگر چہ کسی جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملی ہے تاہم عمران خان کی تحریک انصاف پارٹی نے116نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے ایسی جماعت ہونے کا ثبوت دیا ہے ، جو حکومت کی تشکیل کرسکتی ہے۔ اس طرح چھوٹے گروپوں کی مدد سے عمران خان کی طرف سے حکومت بنانا طے ہے اورانہوں نے اس امرکا اشارہ بھی دیا ہے کہ وہ 11اگست کو وزارت عظمیٰ کا حلف لے لینگے۔ عمران خان نے انتخابی نتائج آنے کے فوراً بعد بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھتا ہے تو وہ دو قدم آگے بڑھینگے۔ دونوں ممالک کے درمیان برسہا برس سے چلے آرہے کشیدہ تعلقات کے بیچ یہ  بیان خوش آئندہ ہے اور اسی وجہ سے کئی حلقوں کی جانب سے اسکا خیرمقدم کیا جا رہا ہے ۔ خاص کر ریاست جموںوکشمیر میںبھاجپا کو چھو ڑ کر کم و بیش سبھی مین اسٹریم جماعتوں ، جن میں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور کانگریس کے علاوہ کئی چھوٹی جماعتیں بھی شامل ہیں، نے اس بیان کا خیر مقدم کرکے مرکزی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ انکی پیشکش کا مثبت جواب دیں، جسکی کم ا زکم ریاست جموںوکشمیر کے لئے زبردست اہمیت ہے کیونکہ گزشتہ ستر برسوں کے دوران حدمتارکہ کے آر پار اس ریاست سےتعلق رکھنے والے لوگوں کو بھارت پاک کشیدگی کا جس عنوان سے خمیازہ بھگتنا پڑا ہے، اسکی مثال برصغیر میں کہیں اور نہیں مل سکتی۔ آئے روز حد متارکہ پر اور بین الاقوامی سرحدر پر فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات سے شہریوں کی ہلاکتیں پیش آتی رہتی ہیں اور لوگوں کی املاک تباہ ہو رہی ہیں۔اکثر سرحدی مکینوں کو اپنی جانیں بچانے کےلئے بار بار نقل مکانی کرنی پڑتی ہے۔ یہ بات شاید کہنے کی نہیں کہ جب تک دونوں ممالک مل بیٹھ کر کشیدگی کے اسباب کو رفع کرنے کی کوشش نہیں کرتے تب تک کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہونے کی توقع رکھنا عبث ہے۔ ایسے میں پُر امید حلقوں کی جانب سے اگر اس پیش کش کا خیر مقدم کرنے پر زور دیاجا رہا تو غالباًنہیں۔یہ بات اپنی جگہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ اس معاملے میں کسی نہ کسی طور مزاحمتی خیمے اور مین اسٹریم جماعتوں کی فکر میں واضح یکسانیت ہے ، کیونکہ بہر حال دو نوںخیموں کی جڑیں عوامی حلقوں میں پیوست ہیں اور ظاہر بات ہے کہ دونوں ممالک کی کشیدگی سے عام لوگوں کو جو نقصان اُٹھانا پڑتا ہے وہ سبھی سنجیدہ فکر حلقوں کے لئے تکلیف دہ ہوتا ہے۔بھلے ہی کچھ حلقےیا جماعتیںمخصوص سیاسی وجوہ کی بنا پر یہ باور کرانے کی کوشش کر یںکہ جموںوکشمیر کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن گزشتہ ستر برسوں کی تاریخ گواہ ہے کہ اسی مسئلے کے طفیل دونوں ممالک کے درمیان تین بھر پور جنگیں ہوئی ہیں جبکہ مقامی نوعیت کے فوجی آپریشنوں کا کوئی حساب ہی نہیں۔ دونوں ممالک اپنی افواج کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کرنے کےلئے جس پیمانے پر اخراجات برداشت کر رہےہیں وہ برصغیر میں رہنےو الی اکثریت کی غربت کا بنیادی سبب ہے۔ بھلے ہی ترقی اور عروج کے کتنے ہی ڈول پیٹے جائیں گے اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آج بھی دنیا کے اس حصے میں کروڑوں لوگ غربت، بے کسی اور بےبسی کی ایسی حالت سے دوچار ہیں کہ وہ جانوروں بھی بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔دونوں ممالک کے اندر کارپوریٹ سرمایہ دار طبقے اور حکومتی اداروں کے وابستگاں کے ایک حلقے کے اقتصادی مفادات اس کشیدگی کے ساتھ جڑگئےہیں لہٰذا وہ کسی نہ کسی سطح پر اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے سے احتراز نہیں کرتے۔ باریک بینی کے ساتھ اس کا تجزیہ کیا جائے تو سینکڑوں مثالیںپیش کی جاسکتی ہیں۔چونکہ جموںوکشمیر کے اندر گزشتہ تین دہائیوں سےموجود حالات بھی دونوں ممالک کے پالیسی ٹکرائو اورکشیدہ صورتحال کا ہی نتیجہ ہے ، لہٰذا اگر نئی دہلی کشمیر کے اندر حالات میں بہتری کی خواہاں ہے تو نیک نیتی اور سنجیدگی پر مبنی ہندوپاک مذاکرات کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ فی الوقت ہمسایہ ملک کے متوقع وزیراعظم کی جانب سے جو پیشکش کی گئی ہے اسکا مثبت جواب دینا ہی برصغیر میں قیام امن و امان اور اقتصادی ترقی کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔