براے نام ترقیاتی منصوبے

بڈگام //انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے ضلع بڈگام بالخصوص ضلع ہیڈ کوارٹر بڈگام کیلئے حکومت کی تازہ ترین منصوبہ سازی کو عوامی مطالبات اور ناگزیر ضروریات کے منافی قرار دیتے ہوئے گورنر انتظامیہ کی توجہ ضلع بڈگام کی پسماندگی اور ناگزیر ضروریات کی طر ف مبزول کرائی۔ مرکزی امام باڑہ بڈگام میں نماز جمعہ کے بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ ترقیاتی منصوبہ سازی میں انتہائی عوامی ضروریات کے امورات کو اولین ترجہی دینا ازحد ضروری ہے اور ایسے منصوبے جو عوام کی نگاہ میں اہمیت کے حامل نہیں ان پر کثیر رقم خرچ کرنا کوئی سنجیدہ اقدام نہیں آغا نے کہا کہ ضلع کے عوام کئی دہائیوں سے ضلع اسپتال کا درجہ بڑھانے اور اسپتال کو کسی معقول و مناسب جگہ پر منتقل کرنے کا مطالبہ دہرا رہے ہیں جو ہر لحاظ سے ایک مناسب اور اہمیت کا حامل مطالبہ ہے لیکن انتظامیہ نے اسپتال کا درجہ بڑھانے کے بجائے اسپتال کا درجہ گھٹا کر ضلع کے عوام کو مایوس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال کا معاملہ انسانی صحت و سلامتی سے جڑا ہے مذکورہ اسپتال کے لئے کئی سال تک  300 بستر وں کااعلان کیا گیا لیکن آج اسپتال کو  صرف 150 بستروں تک محدود رکھنے کا اعلان کرکے ضلع بڈگام کے عوام سے سراسر فریب کاری کی گئی ۔آغا سید حسن نے کہا کہ ضلع بڈگام کو ضلع سرینگر اور جنوبی کشمیر کے دیگر اضلاع سے ملانے والی سب سے اہم قدیم اور کم مسافت والی ہمہامہ بڈگام سڑک کو سرے سے ہی نظر انداز کرکے ایک غیر اہم اور غیر معروف سڑک کو بڑھانے اور تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا حالانکہ سرکار نے سالہاسال پہلے ہمہامہ بڈگام سڑک کو کشادہ کرنے کیلئے نشاندہی بھی کی ہوئی ہے۔ آغا نے متعلقہ حکام سے سوال کیا کہ انتہائی اہم اور ناگزیر عوامی ضروریات کو نظر انداز کرکے غیر اہم امورات پر رقم کثیر خرچ کرنے سے ضلع بڈگام کے عوام کو کون سی راحت پہنچائی جا سکتی ہے۔