بدکاری کی کھلی چھوٹ!

کرۂ ارض کوہرنوع کے نظم ونسق سے منضبط کر نے ، انسانی تہذیب و تمدن کے اُجالے میںاقوام وملل کا قافلۂ حیات چلانے اور فرداوراجتماع کوشرو فساد اور افراط وتفریط سے بچانے کے لئے خالق ِکا ئنات اور مالک ِدوجہاں نے انسانوں کی ہدایت کے لئے وقتاًفوقتاً انبیائے کرامؑ کی وساطت سے شرائع نازل کیں ، دینی قوانین دئے اور فطری قواعد کا درس دیا تاکہ انسان فرداًفرداً بھی اور اجتماعاً بھی شاہراہ ِ حیات پر چلتے ہوئے اللہ کا مطیع وفرمان بردار بن کر جیئے اور مرے ۔ نقاشِ ازل نے انسان کی سرشت میں ابد تک کے لئے علویت اورشہوت دونوں کی آمیزش کی ہوئی ہے اور ساتھ ہی شریعت کے دائرے میں ان کے تقاضے پورا کر نے کی مشروع راہیں بھی سجھائی ہیں ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی انسانی جذبات کی تسکین اور نسل انسانی کی بقاء کے لئے اسلام کا دیا ہوامربوط نظام تزویج بھی ہے ۔دین ِ حق میں اس منفرد نظام کو ایک خاص مقصدیت اور مقام ورتبہ حاصل ہے ۔ اسلام کا یہ اختصاصی پہلو قابل غور ہے کہ یہ مسلم مرد و خواتین کو عقد ِنکاح میں باندھنے کا مشروع  نظام عمل باریک سے باریک تر تفاصیل سمیت دیتا ہے ، یہ زوجین کو اُن کے حقوق ہی نہیںدیتا بلکہ اُن کی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کر تا ہے ۔ ان لگے بندھے اصولوں کی مکمل ما تحتی میں ہی تعلقات ِ زن و شو میاں بیوی کا رشتہ حلال وطیب کہلاتا ہے ، اور جہاں کہیں ان اصولوں اوراوامر سے سرتابی کا شائبہ بھی پایا جائے ،وہاں رشتہ ٔ ازدواج شریعت کی نگاہ میں ساقط الاعتبار ٹھہرتاہے۔ اسلام میں صرف اسی پروسس پر کاربند ہو کر شادی بیاہ کے بندھن میں بندھنے والے مرد اور عورت کو زوجین ماناجاتاہے ،جن سے ایک گھرانہ ، ایک کنبہ ، ایک خانوادہ جنم لیتا ہے، جس میں افراد کا ایک دوسرے سے ایک نسبتی تعلق ہوتا ہے اور ایک خاص ضابطہ کے تحت وہ حق ِوراثت بھی پالیتے ہیں ۔ جب بھی اور جہاں بھی انسان نے ان فطری قوانین سے سرتابی کرکے من مانیاں اور سر کشیاں کیں، وہاں بدکاریوں اور سیاہ کاریوں کی شکل میں طوائف الملوکی کا ایک ایسا منہ زور سیلاب اُمنڈ آیا جسے روکنا انسان کے بس کی بات ہی نہ رہی ۔ اس نوع کے سیل ِرواں میں تہذیبیں مٹ گئیں، مملکتیں بر باد ہوئیں، انسانی قدریں پامال ہوئیں ، حلال وحرام کی تمیزفنا کے گھاٹ اُتریں اور فساد بر وبحر کی ان تندوتیز  لہروںمیں کچھ باقی رہا تو انسانی روپ میں  شیطنیت اور ابلیست کا ملبہ۔ 
 حال ہی بھارتی سپریم کورٹ نے ہم جنسیت اور شادہ شدہ جوڑوں کو بدون ِ نکاح زن وشو کے غیر ازدواجی تعلقات کے حوالے سے بہت ہی حیرانکن  فیصلے دئے ۔بی بی سی کے مطابق چیف جسٹس مسٹر دیپک مشرا کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے کہا کہ ایک ہی صنف کے دو بالغ لوگوں کے درمیان باہمی رضامندی سے جنسی تعلقات( ہو مو سیکچو یلٹی) کوئی جرم نہیں۔عدالت نے مزید کہا کہ ’’فرد کے انتخاب کا احترام آزادی کی رُو سے ہم جنس پرست برادری کو ملک کے دیگر شہریوں کی طرح آئین کے تحت برابری کا حق حاصل ہے ،دفعہ 377کی شقوں کے تحت مرد اور مرد یا عورت اور عورت کے درمیان جنسی ربط وتعلق کو جرم قرار دیا گیا تھا جو کہ فرد کی آزادیٔ اظہار اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔واضح رہے کہ برطانوی دور میں بننے والے اس قانون کے تحت ایک ہی صنف کے دو افراد کے درمیان جنسی تعلق قابلِ دست اندازی ٔ قانون جرم مانا جاتاتھا اور مجرم کو دس سال کی سزا بھی ہوسکتی تھی ۔ یہ برطانوی قانون اب خود ولایت میں بھی ’’ترقی اور آزادی‘‘ کے نام پر زمین بوس کیا گیا ہے مگر یہاں جوں توں اس قانون سے سماج ایک اخلاقی بندھن میں بند ھا ہو اتھا جسے ایوان عدل نے بیک جنبش قلم تار تار کر کے رکھ دیا ۔ نرم سے نرم لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ عدالتی فیصلہ فطرت کے باغیوں کے لئے جرم اور گناہ کی سرحد کو کھولنے کے مترادف ہے۔ یقینی طورا س فیصلے سے مسخ شدہ فطرت کے حامی مٹھی بھر ذہنوں کو سکون  وآرام ملا ہو ، اس قبیل کے لچھے لفنگوں اور مادر پدر آزاد تہذیب کے متوالوںکے گھرمیں گھی کے چراغ بھی جلے ہوں لیکن سنجیدہ ، باوقار،حساس طبع ،سلیم الفطرت اور اخلاقیات سے زندگیوں کا رشتہ قائم ودائم رکھنے والے لوگ اس پر سر بہ گریباں ہیں ، اشکبار ہیں ، دل فگار ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ یہ عدالتی فیصلہ محض مغربیت کی بھونڈی نقالی کا شاخسانہ ہے، یہ غیر جنسی وغیر فطری مکروہ عمل ہے ، یہ انتہائی کریہہ اورغلیظ تعلق ہے جس پرمتلی کرنے کو جی چا ہے ،جس سے فی الواقع انسانی معاشرے کی اخلاقی چولیں ہلیں گی، جس سے اغلام بازی اور لواطت جیسی بد فعلیوںکو فروغ ملے گا، جس سے نکاح کا تقدس ، خاندان کا تصور اور تہذیب کا اُجالا ملیا میٹ ہوگا ۔ ان نتائج کے بین بین فطرت سے روگردانی کے اس اقدام سے اللہ تعالیٰ کے اُسی عذاب کی لاٹھی قوم پر ٹوٹ سکتی ہے جس کے اندوہناک مناظرتاریخ نے اپنے صفحات میں قوم لوط پر پتھروں کی بارش کی صورت میں درج کئے ہیں ۔
واضح رہے کہ جنسی جذبہ انسان کی فطرت میں ودیعت ہوا ہے، جہاںاس کو دبا نا فطرت کے خلاف جنگ ہے، وہاں اس کے ساتھ ہی ساتھ اس فطری تقاضے کو بے لگام چھوڑنا بھی انسانیت اورتہذیب سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو اقوام اس نوع کے گھناونے جرائم میں ملوث ہوئیں ، وہ مآل کاربدترین انجام دیکھے بغیر نہ رہیں ۔اسلام اس گندے اور غلیظ جرم وگناہ پر مکمل قدغن لگاتا ہے کیونکہ یہ اللہ کے بنائے ہوئے فطری نظام کی صریحاً مخالفت ہے ، لہٰذا اس ناقابل معافی جرم میں ملوث کسی بدفطرت انسان کی اپنی ذات ہی بار گاہ ِ الہٰیہ میں راندہ ٔ درگاہ نہیں ٹھہرتی بلکہ اسلامی سماج بھی ایسے بدمعاش مجرم کو انسانیت کے ماتھے پر کلنک سمجھتا ہے ۔اس  جرم میں ملوث احمق کاسب سے پہلے نفسیاتی تشخص درہم برہم ہوتا ہے ، اس کے بعد اس کاخاندانی نظام بگڑ کر رہ جاتا ہے، اس کا سماجی رتبہ پیوندخاک ہوتا ہے ۔ بے شک اللہ کی مشیت یہ ہے کہ نسل انسانی بڑھے جو بیوی اور شوہر کے مابین جنسی تلذذ اور مرافقت سے مشروط ہے مگریہ بد فعل اس میں سیندھ  لگاکرجہاں نسل انسانی کی افزائش میں رُکاوٹ بنتا ہے، وہاں انسانی صحت کو ایسی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں کہ الامان والحفیظ ۔ایڈز جیسی بھیانک اور مہلک بیماریاں تک  اس جرم کے مرتکبین پرحملہ زن ہوتی ہیں ۔دنیا کے تمام آسمانی والہامی مذاہب بد فعل کے شدید مخالف ہیں اور اباحیت کی کسی طور اجازت نہیں دیتے۔اسلام نے اس گناہ وجرم کے رسیا قوم لوط کے بدترین انجام سے پہلے ہی انسانی دنیا کو مفصل طور آگاہ بھی کیا ہے اور انتباہ بھی دیا ہے : ’’کہ اللہ کے عذاب کے فرشتے آگئے ،حضرت لوطؑ کے گھر میں داخل ہوئے، خوش رو نوجوان کی شکل میں تھے ، دیکھ کر بستی کے لوگوں کی شیطانیت جاگ اٹھی اور خواہش ِبد دلوں میں موجزن ہوئی اور وہ بیت لوطؑ کی جانب دوڑ پڑے ( سورہ ہود)۔ان بے حیا مجرموں نے حضرت لوطؑ سے مطالبہ کیا کہ (خوش شکل وخوب رو) نوجوانوں کو ان کے حوالہ کردیا جائے ،آخر پر یہ لوگ بدترین عذاب کا شکار ہوئے ۔پوری بستی کو تل پٹ کیا گیا ۔ان پر پتھروں کی بارش ہوئی اور انہیں تا قیام قیامت نمونۂ عبرت بنا دیا گیا (ہود،الحجر ،عنکبوت ) مورخین کا کہنا ہے کہ آج جہاں بحر مردار (Dead Sea)واقع ہے، یہ وہی مقام ہے ،پوری بستی میں زلزلے آئے تھے اور پتھروں کی ایسی بارش ہوئی تھی کہ زمین دھنس گئی، پانی اوپر پھیل گیا تھا ، آج بھی وہاں جانے والے سیاحوں کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی اس جگہ نحوست برستی ہے اور یہ جائے عبرت ہے ۔
 یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حیوانات بھی جو انسان جیسا شعور و فہم یا سدھ بدھ اور اخلاقی ذکاء کا عشر عشیر بھی نہیں رکھتے، کبھی غیر فطری عمل کی جانب نہیں جاتے اور نہ اس قبیح حرکت کا مرتکب پائے جاتے ہیں۔ ان کی جبلت انہیںاس کی اجازت ہی نہیں دیتی ۔بس یہ دوٹانگوں والا حیا باختہ  او رعقل سے پیدل حیوان ِ ناطق ہے کہ فطرت سے منہ موڑ کر اور پاکیزہ اور لذت یاب فطری طریقہ کو چھوڑ کر ایسی گندگی اور غلاظت کے سنڈاس میں لت پت ہوتا ہے یا ہونا چاہتا ہے، جس سے خدائی قانون کو ہی نہیں بلکہ انسانی تہذیب کو گھن آتی ہے۔ حیوان کبھی فطرت وجبلت کے خلاف نہیں جائیں، اسی کے عین مطابق اول تاآخر زندگی گزاریں ،شاہراہِ فطرت پر قانع ہوں اور حضرت انسان اپنی آزادی کا غلط اور ناجائز فائدہ اٹھاکر فطرت کے خلاف عَلم بغاوت بلند کرے کہ مقام آدمیت سے گرجائے، یہی آثارِ قیامت ہیں ۔یہ دلیل دینا کہ جنسی عمل فرد یا افراد کے مجمع کا انفرادی اور ذاتی عمل ہے، دُرست نہیں بلکہ الٹی کھوپڑی و الی سوچ ہے ۔ بدفعلی میں ایک ذات تک ہی محدود ہو مگر اسے سماجی عمل  ماناجاتاہے جس کے ا نسانی معاشرہ پر ،گھر پر،ملک و ملت پر ،خشک و تری پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ظاہر ہے خلاف ِفطرت عمل کے اثرات ہر حال میں بھیانک ہوں گے اور دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ فطرت کے خلاف جنگ میں ہمیشہ انسان کی بساط ہی اُلٹ کے رہ گئی ہے اور وہ بس اپنی ہار کامنہ تکتارہا، نتیجے کے طورہوش رُبا حالات کا شکار ہوا ، بیماریوں نے آدبوچا، رشتوں اور علائق کی معنویت کھوگیا ۔ بہر صورت ہم جنس پرستی کے لرزہ خیز نقصانات کو جتنا گنا جائے کم ہے ۔ ڈاکٹر محمود حجاز نے بس چند ایک کا تذکرہ کیا کہ یہ لت ایڈز کی جان لیوا بیماری کا باعث بن جاتی ہے ،جس سے انسانی قوتِ مدافعت ختم ہوکر رہ جاتی ہے کہ رفتہ رفتہ انسان موت کے منہ میں چلا جاتا ہے ،جگر کی بیماریاں بھی اس سے لاحق ہوتی ہیں ، زہری کا مرض اپنی گرفت میں لیتا ہے ، متاثرین کوسیلان کی بیماری لگ جاتی ہے ، جرثومی میلان کی جلن ہوتی ہے،ٹائیفایڈ گھیر لیتا ہے ،اننیمیا کا مرض متاثرین کو کہیں کا نہیں رکھتا ،انتڑیوں میں کیڑے پڑجاتے ہیں ،خارش کا سامنا ہوتا ہے ،زیر ناف جوئیں پڑجاتی ہیں ،سائٹو مگک وائرس سرطان کی بیماری کا شکار بناتا ہے ۔علاوہ ازیں تناسلی امراض کے خطرات بہر حال لاحق  ہوکر ہی رہتے ہیں ۔بہر صورت یہ گناہ گارانہ عمل جہاں انسانی اخلاق و کردار ،سیرت و شبیہ کو بگاڑ کر رکھ چھوڑتا ہے ، وہاں اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھی دعوت دینے کا محرک بن جاتاہے ۔
تاریخ گواہ ہے کہ اپنے جنسی جذبات کی تسکین کے لئے انسان نے جب بھی فطرت کے خلاف بد فعلی کا راستہ اختیار کیا تو اللہ کی مار اُس پر ایسے آن پڑی کہ عبرت باک قصۂ پارینہ بن کے رہا ۔’’روشن خیال‘‘ مغرب کی جنس زدہ اور اباحیت پسند فکر وعمل نے ایس ے گناہ گارکی آنکھوں کو اس قدر خیرہ کردیا کہ مادر پدر آزادی کا نعرہ دے کر ہم جنسیت کو بہت جگہ قانونی حیثیت د لوا دی ۔ بہر کیف ہم جنسیت پسندوںکی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ایوان ِ عدل نے 27؍ستمبر کو ایک ایسا فیصلہ دیا جس کے انسانی معاشرے پر سخت ترین اثرات مرتب ہونا طے ہے ۔  شاید اس بات کا  نوٹس نہیں لیا گیا کہ ایک مٹھی بھر گروہ کے لئے پورے سماج کو گناہوں کے دلدل میں جھونک دیتا ہے جس کے بھیانک نتائج سے کوئی مفر نہیں ۔ اور قانو ن قدرت ہے کہ جب کوئی اجتماعی بلا یا شامت سماج پرٹوٹتی ہے تو معاشرے کے برے اور بھلے حصوں کی کوئی تمیز کئے بغیر سب کے سب گرفتار ِ بلا ہوجاتے ہیں ۔ ہمارے سماج میں میں جب پہلے سے ہی رشتوں کا تقدس پامال ہورہا ہو،فساد و بگاڑعروج پر ہو ،اس میں ہم جنسیت کی وبا  اور دبد کاری کامرض بھی درآئے اور اصلاح کاری کورجعت پسندی ، قدامت پرستی اور مانع ٔ ترقی کا الزام دیا جائے تو کیا کہئے ۔اس فیصلے میںمیر عدل کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے تعزیرات ہند (Indian panel code)کی دفعہ 497کو یک بہ یک منسوخ کردیا  جس کی رُو سے اگر کوئی مرد کسی شادی شدہ عورت کے ساتھ اس کی مرضی سے تعلقات بنائے لیکن اس کا خاوند اس کا روا دار نہ ہو ،تو اُسے مجرم مانا جائے گا اور پانچ برس تک جیل کی سزا دی جاسکتی ہے۔اب یہ دفعہ منسوخ کردی گئی اور غیر ازدواجی جنسی تعلقات جرم کے دائرہ سے باہر مانے گئے۔ اس فیصلے کے وجوہ ودلائل میںیہ منطق گھڑ لی گئی پچھلی قانونی بندش خواتین کے احترامِ آزادی کے خلاف تھی جب کہ انہیں ہمیشہ مساوی حقوق ملنے چاہئیں۔عورتوں کی آزادی کا احترام کا نظریہ اپنی جگہ لیکن واحسرتا کیا یہ بھی سوچا گیا کہ آزادی ٔ نسواں کے اس فیصلہ کی رُو سے سماج کس قدر اخلاقی بحرانوں کاغلام ہوگا ؟ایک شوہر کے حقوق کہاں کہاں زد آئے گی ؟ ایک بیوی کے حقوق کد ھر کدھر روندھے جائیں گے ؟ کیااس جانب کوئی  توجہ دی گئی یا نہیں؟یہ بات ظاہر و باہر ہے کہ میاں بیوی کا رشتہ محبت و مودت اور اعتماد کی تعلق داری پر مبنی ہوتا ہے اور یہ رشتہ محض حصولِ لذت کے محور پر نہیں گھومتا بلکہ زوجین کے اس مطہر ومعطر ربط وتعلق کے سبب ہی اولاد پیدا ہوتی ہے جو اُن شفقتوں اور محبتوں کا مر کز بن جاتی ہے ۔اس کی تربیت ،پرورش اور پرداخت دونوں میاں بیوی یسر و عسر ہر حال میں اور ہر قیمت پر کرتے ہیں ،مرد اپنی کمائی اپنے اہل و عیال پر پھونکنے میں راحت محسوس کرتا ہے ،انہیں حادثاتِ زمانہ سے بچانے کے لئے کبھی اپنی جان اور سلامتی تک کو بھی داؤ پر لگانے سے نہیں ہچکچاتا اور اگر شوہر کے کانوں میں یہ بھنک پڑے یاشک  وگمان گزرے یا یقین ہو کہ اس کی بیوی کسی اور سے پینگیں بڑھا رہی ہیں یا کسی اور کی جھولی میں ہے، پھر بھلا انسانی غیرت و حمیت اُسے کیا کہے گی کہ تم اپناخون پسینہ ایک کر کے بیوی بچوں کے لئے محنت مزدوری کرو اور تمہیں یہ یقین بھی نہ ہو کہ تمہاری اولادین واقعی تمہارے پشت سے بھی ہیں؟ کیاا س مرد کی انا اس کو اجازت دے گی کہ وہ ایک بے وفا بیوی کوبرداشت کرے ؟ ایسا مرد بھی دوسروں کی بیویوں سے گناہ گارانہ تعلقات نہ بڑھائے ،اس کی کیا ضمانت ہے؟ ا س صورت میں کیا بچے ماں باپ کے پیار اور توجہ سے محروم نہ ہوں گے ؟ یاد رہے کہ ہر شخص کی آزادی مسلمہ حقیقت ہے لیکن یہ بھی انسانی زندگی کا تسلیم شدہ اصول ہے کہ کسی شخص کی آزادی کی حد وہاں ختم ہوتی ہے جہاں دوسرے شخص کی آزادی شروع ہوتی ہے ۔کسی کا حق پامال ہوتا ہو تو کیا وہ اپنا حق بزور بازو حاصل کر نے میںکوئی دریغ کر ے گا ؟ یہ کون سی آزادی ہے کہ کوئی عورت و مرد بے محابہ آزدی سے لطف اندوز تو ہو لیکن خاندان کی ذمہ داریاں نہ اُٹھائیں۔خوب جانئے  کسی بھی نوع کی بے قید جنسی بے راہ روی کے نتیجے میں جو بھی نسل دنیا میں آئے گی اُن کا بار کفالت کون اٹھائے ؟کون ان کا والی وارث ہوگا ؟کون اُن کی تعلیم وپرورش کا بندوبست کرے گا ؟کون ان کے خورد و نوش کے اہتمام کا مکلف ہوگا ؟کون انہیں اخلاقیات کا درس دے گا؟ ایک مرد کی بیوی دوسرے عورت کے شوہر سے غیر اخلاقی قربت بنائے چاہے یہ بالرضا  یا بالجبر ہو ، دونوں صورتوں میں یہ سنگین گناہ و جرم ہے۔بات یہاں پر آکر رُکتی ہے کہ بس اسلام کا پیغام ونظام ِرحمت ہی ہے جو فطرت سے ہم آہنگ ہے ۔ مسلمانوں کو اس اہم ایشو کے حوالے سے قرآن و سنت نے جو دائمی رہنمائی کی ہوئی ہے، وہی ہمارے لئے واجب الاتباع ہے ، جس میں کوئی عدلیہ یا کوئی مقننہ ردوبدل نہیں کرسکتی ۔ ان  پر بے عیب  عمل درآمد ہی ان کو فلاح و کامرانی اور سکون و چین کے اعلیٰ مدارج تک لے سکتی ہے۔بس قرآن ہمہ وقت کھولا جائے اور احادیث سے ہمیشہ رہبری حاصل کی جائے تو یہ دنیا  ایسے خوش نصیبوں کے لئے رشک ِجنت بن سکتی ہے ۔
رابطہ 7006055300