بدناڑ کا عارضی پل یا موت کا کنوں | آمدورفت کے دوران متعدد لوگ بہہ گئے، انتظامیہ کی نیند پھر بھی نہیں ٹوٹی

مہور//سب ڈویژن مہور کے بدناڑ میں لکڑی کا بنا ہوا ایک عارضی لوگوں کیلئے موت کا کنوں ثابت ہو رہا ہے کیونکہ اس پل سے ابھی تک متعدد افراد اپنی جانیں گنوں چکے ہیں اور آج بھی اس پل سے مقامی لوگ جان کو جوکھم میں ڈال کر سفر کرتے ہیں ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس پل کے نیچے سے ایک بہت بڑا دریا گزرتا ہے اور اس پل کے اُپر سے ہی شبراس اور اڑبیس کے لوگ گزرتے ہیں جنہیں اس پل کو عبور کرنے میں کافی دقتیں پیش آتی ہیں ۔مقامی لوگوں نے کہا کہ اس پل سے ابھی تک کئی ایک لوگ نالہ میں بہہ گئے ہیں لیکن پھر بھی انتظامیہ کی نیند نہیں ٹوٹ رہی ہے کیونکہ اگر انتظامیہ سنجیدہ ہوتی تو علاقے کے لوگوں کے عبور ومرور کیلئے ایک پل کی تعمیر کا کام ہاتھ میں لیا گیا ہوتا لیکن انتظامیہ خاموش لوگوں کے مشکلات کا تماشہ دیکھ رہی ہے ۔مقامی لوگوں نے مزید کہا کہ برسات کے موسم میں جب پانی کا بہائو بڑھ جاتا ہے تو پانی عاضی پل کے اوپر سے بہنا شروع ہو جاتا ہے اور اس صورتحال کی وجہ سے لوگوں کا عبور ومرور متاثر ہو کر رہ جاتا ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکام اس پل کی جگہ متبادل پل کی تعمیر کرانے میں بھی مکمل طور پر ناکام ہے ۔مقامی لوگوں کے مطابق اگرچہ کئی سال قبل گاڑیوں کی آمد ورفت کو یقینی بنانے کیلئے یہاں پر ایک پل کی تعمیر کا کام ہاتھ میں لیا گیا لیکن یہ پل بھی مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔مقامی لوگوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص بیمار ہو جائے تو اس کو ہسپتال لیجانے کے دوران بھی پل کو عبور کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے ۔مقامی لوگوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ لوگوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگوں کیلئے ایک پل تعمیر کیا جائے تاکہ انہیں عبور ومرور میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔