بدنام زمانہ سیکس سیکنڈل: سابق ڈی آئی جی بی ایس ایف اور ڈی ایس پی سمیت5 کو 10سال قید کی سزا

 چندی گڑھ //2006میں ریاست کے حکومتی،سیاسی اورانتظامی ایوانوں میں ہلچل مچادینے والے سرینگرجنسی اسکینڈل کاحتمی فیصلہ سناتے ہوئے چندی گڑھ میں قائم سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے بی ایس ایف کے سابق ڈی آئی جی اورریاستی پولیس کے ایک سابق ڈی ایس پی سمیت5مجرمین کودس ،دس سال قیدکی سزائیں سنادیں ۔ عدالت نے کچھ روز قبل ہی ایک تاجرسمیت2ملزمان کوبری کیا تھا۔خیال رہے سبینہ جنسی اسکینڈل نامی اس کیس میں شامل کل ملزمان کی تعداد56تھی ،جن میں اسوقت کے کچھ وزراء،سینئرسیاسی لیڈر،سیول وپولیس انتظامیہ کے کچھ افسران اورمختلف شعبوں سے وابستہ سرکردہ افرادبھی شامل تھے ۔ 2006کے موسم گرمامیں منکشف ہوئے بدنام زمانہ جنسی اسکینڈ ل کی ابتدائی تحقیقات پولیس نے شروع کی تاہم جلدہی یہ معاملہ مرکزی تفتیشی ادارے (سی بی آئی)کوسونپاگیا،اورسی بی آئی نے ملزمان کی ایک لمبی چوڑھی فہرست مرتب کی ،جس میں اسوقت کے کچھ وزیر،سیاسی لیڈران ،سیول وپولیس انتظامیہ کے کچھ افسران اورمختلف شعبوں سے وابستہ سرکردہ افرادبھی شامل تھے۔ریاستی پولیس کے اشتراک سے سی بی آئی کی ٹیم نے ملزمان سے ایک ایک کرکے پوچھ تاچھ کی جبکہ جنسی استحصال کانشانہ بنائی گئی درجنوں لڑکیوں اورخواتین کے بیانات بھی قلمبندکئے گئے ۔بعدازاں سی بی آئی نے 56ملزمان کو آخری فہرست میں شامل رکھا اور اس کیس کو سرینگر سے چندی گڈھ منتقل کیاگیا، جہاں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے سماعت شروع کی۔ ابتدائی سماعت کے دوران سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے کچھ ملزمان کو بری کردیا جبکہ باقی سبھی ملزمان کیخلاف عائد الزامات کی روشنی میں کیس کی سماعت جاری رکھی گئی ۔ گزشتہ دنوں چندی گڈھ میں واقع سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے بارہ سالہ پرانے اس جنسی اسکنڈل کیس کی سماعت کو سمیٹتے ہوئے مجرمین کی ایک آخری فہرست مرتب کی، جس میں بی ایس ایف کے سابق ڈی آئی جی کے سی پاڈھی ،ریاستی پولیس کے ایک سابق ڈی ایس پی وانکاﺅنٹر ماہر محمد اشرف میر، شبیر احمد لاوے ، شبیر احمد لنگو اور مقصود احمدشامل ہیں ۔ جبکہ سی بی آئی عدالت نے تین ملزمان بشمول ایک تاجر معراج الدین ملک اورسابق ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل جموں وکشمیر انیل سیٹھی کو الزامات سے بری کردیا ۔ بدھ کے روز سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے ریاستی پولیس کی جانب سے پیش کردہ چارج شیٹ ، جس میں یہ بتایاگیا کہ سیکس اسکنڈل کے ملزمان مجبوراوربے سہارا لڑکیوں کو محض 250روپے سے لیکر500دے کر ان کے ساتھ جنسی استحصال کیاکرتے تھے ، کی روشنی میں حتمی فیصلہ صادر کرتے ہوئے پانچ ملزمان بشمول سابق ڈی آئی جی بی ایس ایف، پولیس کے سابق ڈی ایس پی اورتین دیگر مجرمین کو دس دس سال قید کی سزا سنادی ۔بتایاجاتاہے کہ ان سبھی ملزمان کو رنبیر پینل کوڈ کی دفعہ376کے تحت مجرم قرار دیاگیا تاہم ملزمان کو سیکشن 5کا مرتکب نہیں پایاگیا کیونکہ ان پر انسانی اسمگلنگ کے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔ بارہ سالہ پرانے سرینگر جنسی اسکنڈل میں اصل ملزمان کی تعدادآخری مرحلے پر 9رکھی گئی تھی ، جس میں اسکنڈل کی سرغنہ خاتون بھی شامل تھی ۔ تاہم سبینہ دو سال قبل کینسر کی مرض میں مبتلا ہو کر فوج ہوگئی اور اسکا خاوند بھی فوت ہوگیا۔