بدلہ منگ پل،فوج کے اعتراضات کے بعد اہم منصوبے کی تعمیر التوا کا شکار شہری پریشان ،رکاوٹیں دور کرنے و پل کی تکمیل کا مطالبہ ،جلد اچھی خبر متوقع :ڈی سی 

سمت بھارگو

راجوری//2016میں راجوری قصبہ میں شروع ہوا بدلہ منگ پل کے اہم پروجیکٹ پر کام تعطل کا شکار ہے جبکہ کام پچھلے ساڑھے پانچ سالوںسے فوج کے عتراضات کے بعد سے ہی التوا کا شکار ہو گیا ہے ۔ فوج کی طرف سے پل کے الائنمنٹ پر اعتراضات اٹھائے جانے کے بعد مقامی لوگوں نے پل کے تعمیراتی کام کو دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مکینوں نے کہا ہے کہ اس پروجیکٹ کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ شہر کے اندر بھیڑ کم ہو سکے ۔بدلہ منگ پل نامی پل ان چار نئے پلوں میں سے ایک تھا جو چھ سال قبل راجوری قصبے میں شروع کئے گئے تھے جس کا مقصد مرکزی سڑکوں کے متبادل لنک کو آگے بڑھانا اور مرکزی شہر کے اندر بڑھتی ہوئی ٹریفک کی بھیڑ میں آسانی فراہم کرنا تھا۔کشمیر عظمیٰ کے پاس تفصیل کے مطابق اس پروجیکٹ کو راجوری توی ندی پر ڈبل لین پل کی تعمیر کا نام دیا گیا ہے جس کا مقصد پنج پیر کے علاقے اور بدلہ منگ کے درمیان براہ راست رابطہ فراہم کرنا تھا جو کہ راجوری توی ندی کے مخالف سمت میں واقع ہے۔عہدیداروں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس پل کے منظور شدہ ماڈل اور تکنیکی خصوصیات میں 4*40 میٹر طویل کنکریٹ باکس گرڈر والا پل شامل ہے جبکہ اس پروجیکٹ کو سینٹرل روڈز فنڈ (CRF) کے تحت منظوری دی گئی تھی۔انہوں نے بتایا کہ اس پل پروجیکٹ کا سنگ بنیاد 2 اگست 2016 کو جموں و کشمیر میں محکمہ تعمیرات عامہ کے وزیر عبدالرحمان ویری نے کابینہ کے وزیر چودھری ذوالفقار علی، کیبنٹ وزیر عبدالغنی کوہلی ،سنیل شرما، ایم ایل سی وبود گپتا اور ضلع انتظامیہ کے افسران اور اہلکارکی موجودگی میں رکھا تھا ۔اس پروجیکٹ کی اتھارٹی محکمہ تعمیرات عامہ ہے جبکہ پروجیکٹ کو انجام دینے والی ایجنسی JKPCC ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 2016 میں اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد کام شروع کیا گیا اور پل کے ستون بنائے گئے جبکہ اب وہ تکمیل کے قریب پہنچ گئے تھے جب فوج نے پل پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پل کا کچھ حصہ فوج کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ اعتراضات کے بعد کام روک دیا گیا جس کے بعد ابھی تک تعمیر اتی عمل بحال نہیں ہو سکا ۔پچھلے پانچ سالوں سے پل کا کام معطل پڑا ہے اور تھوڑا سا بھی کام آگے نہیں بڑھایا گیا۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ رکائوٹ کے بعدنہ صرف مقامی لوگوں کے لئے مخمصہ پیدا ہوا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں لاگت میں اضافے کی بھی توقع ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو فوج سے مشاورت کے بعد حل کرنے کی متعدد کوششیں کی گئیں لیکن بے سودثابت ہوئی ہیں ۔مقامی لوگوں و مسافروں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ پل کے پروجیکٹ کو جلدازجلد مکمل کیا جائے تاکہ ان کی دقتیں کم ہو سکیں ۔آفاق مرزا اور چندر کمار نامی مکینوں نے کہاکہ وہ مسلسل پل کو جلدازجلد مکمل کرنے کی مانگ کررہے ہیں تاکہ قصبہ میں بھیڑ کم ہو سکے ۔اس دوران ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری نے بتایا کہ ’’میں زیادہ تفصیلات شیئر نہیں کر سکتا لیکن یہ بتانا چاہتا ہوں کہ فوج کے ساتھ ہمارا رابطہ کامیاب رہا ہے اور اس پل سے متعلق عمل اپنے آخری مرحلے میں ہے اور ہم بہت جلد کچھ اچھے ہونے کی توقع کر رہے ہیں۔