بجٹ اجلاس اور عوامی مشکلات

پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے ساتھ شروع ہوا جس دوران صدر جمہوریہ نے گزشتہ ایک برس میں حکومت کی حصولیابیوں پر مفصل روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بھارت عالمی سطح پر تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت کے طور سامنے آچکا ہے اور ملک میں سماج کے تمام طبقوں کی ترقی کیلئے جامع اقدامات کئے جارہے ہیں۔صدر کووند نے جہاں سماجی سکیموں پر کھل کر لب کشائی کی وہیں انہوںنے تعلیم، صحت سے لیکر سڑک،ریلوے اور دیگر شعبوں میں بھی کامیابیاں بیان کیں۔صدر کی تقریر کے بعد جس طرح اپوزیشن جماعتوں نے آپ کی تقریر کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ،وہ انتہائی افسوسناک ہے ۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ صدر کا خطبہ ہمیشہ حکومت کی حصولیابیوں کو اجاگر کرتا ہے لیکن چونکہ صدر کا عہدہ غیر سیاسی ہوتا تو صدارتی خطبوں میںبھی ہمیشہ سیاست سے گریز کیا جاتا ہے اور عمومی طور پر صرف ترقیاتی محاذ پرہی بات کی جاتی ہے ۔آج بھی صدر جمہوریہ نے بالکل ویسا ہی کیا اور انہوںنے اپنی طویل تقریر کو صرف ترقیاتی محاذ تک ہی محدود رکھا لیکن بعد ازاں جس طرح کانگریس اور چند دیگر اپوزیشن جماعتوں نے چین اور پاکستان کا ذکر نہ کرنے پر صدر کی تقریر پر انگلیاں اٹھائیں ،وہ کوئی اچھی روایت نہیں ہے اور اپوزیشن جماعتوںکو سمجھ لیناچاہئے کہ صدارتی خطبات پر سیاست نہیں ہوتی ہے اور نہ اب ہونی چاہئے ۔
صدر جمہوریہ کے خطاب کے بعد لوک سبھا میں وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اکنامک سروے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگلے مالی سال میں شرح نمو8سے8.5فیصدرہے گی۔اکنامک سروے کے اعدادوشمار بحیثیت مجموعی انتہائی حوصلہ افزاء ہیں اور اس میں بجا طور کورونا عالمی بحران کی جانب سے2020-21کے دوران مالی مشکلات کا ذکر کیاگیا ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ2021-22میں ملک کی معیشت پھر پٹری پر آنے لگی اور آج معاشی حالت کافی بہتر ہے تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا ہے کہ کورونا کی عالمی وباء نے معیشت کے ہر پرزے کو دم بخود کرکے رکھ دیاہے اور اس کے چلتے اگر ملک میں مسائل رہے تو وہ کوئی غیر فطری عمل نہیں ہے ۔اب معاشی سروے رپور ٹ میں جس طرح کے تخمینے لگائے گئے ہیں ،وہ انتہائی امید افزا ء ہیں اور اگر سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہاتو یقینی طور پر حکومت ان تخمینوں کو حقیقت کا روپ دینے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گی تاہم یہ سب تبھی ممکن ہے جب ملک کی سبھی جماعتیں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر مل کر ملک کی بہبود کیلئے کام کریں۔چونکہ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس دو حصو ں میں مکمل ہوگا اور پہلا حصہ یکم فروری سے11فروری تک چلے گا جبکہ دوسرا حصہ14مارچ سے8اپریل تک چلے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ یہ ایک طویل سیشن ہوگااور اس طویل سیشن کے پہلے روز یعنی کل یکم فروری کو ملک کا نئے مالی سال کیلئے مالی میزانیہ پیش کیاجائے گاجس کے بعد بجٹ پر بحث شروع ہوگی اور بالکل طویل بحث کے بعد بجٹ کی منظوری حاصل کی جائے گی ۔یہ جمہوریت کا حسن ہے کہ یہاں سرکار اپنے مالی مصرف کو بھی عوامی نمائندوں سے منظور کرکے عملی جامہ پہناتی ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ بجٹ تجاویز پر کھل کر بحث ہو اور اپوزیشن ممبران کی تجاویز حاصل کی جاسکیں تاکہ بجٹ پر وسیع اتفاق رائے پیدا کیاجاسکے اور کوئی ایسا نہ کہے کہ سرکار نے کسی سے پوچھے بغیر اپنا بجٹ بنایا ہے ورنہ ہم نے دیکھا کہ دنیا میں کس طرح حکومتیں اپوزیشن کو در خور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے فیصلے لیتی ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی یقینی بناتی ہیں تاہم ہمارے ملک کی عوام کو جمہوریت کی صورت میں یہ نعمت اس ملک کے بانیوںنے عطا کی ہے اور اس نعمت کے طفیل لوگ بالواسطہ طور سرکاری فیصلہ سازی کے عمل میں اپنے چئے ہوئے نمائندوں کے ذریعے شریک بھی ہوتے ہیں۔گوکہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے اور ہر فرد کو اپنی رائے رکھنے کا جمہوری حق حاصل ہے تاہم موجودہ حالات میں اپوزیشن جماعتوں کو بھی چاہئے کہ وہ محض سیاسی پوائنٹ سکور کرنے کیلئے حکومت کی گھیرہ بندی نہ کریں۔ملک کے معاشی اور سیاسی حالات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔جب کورونا کی وجہ سے دنیا کی ترقی یافتہ معیشتیں بھی لرزہ براندازم ہوچکی ہیں تو بھارت جیسے ترقی پذیر ملک کی کیا حالت ہوئی ہوگی ،سمجھ سے بالاتر نہیںہے ۔بھارت ایک ویلفیئر سٹیٹ ہے اور یہاں عوام کو سرداری حاصل ہے اور عوامی فلاح وبہود سرکار کے فرائض منصبی میں شامل ہے ۔اس کیلئے بجٹ کا بیشتر حصہ عوامی بہبود پر ہی خرچ ہوتا ہے ۔اس وقت بھی دنیا کا سب سے بڑاکووڈ ٹیکہ کاری پروگرام مفت میں چلایا جارہا ہے جبکہ اسی طرح راشن کی تقسیم کاری کا عالمی سطح پر سب سے بڑا پڑوگرام بھی چل رہا ہے ۔ظاہر ہے کہ جب اتنے بڑے پیمانے پر فلاحی پروگرام چلائے جاتے ہیں تو حکومت کو اس کیلئے مالی وسائل بھی درکار ہوتے ہیں اور یہ مالی وسائل جٹاپانا آسان کام نہیں ہوتا ہے ۔مخالفت کرنے کو تو سب کرسکتے ہیں لیکن اس کی ٹھوس بنیاد بھی ہونی چاہئے ۔آج جس طرح ملک کی سیاسی جماعتیں حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے میں لگی ہوئی ہیں تو اُنہیں ایسا کرتے وقت یہ قطعی نہیں بھول جانا چاہئے کہ ملک کس دور سے نکل کر آرہا ہے ۔اس مشکل ترین دور میں بھی اگر عوامی بہبود کا مشن جاری رکھا گیا تو اس پر سرکار کو جوابدہ بنانے کی بجائے سرکاری اداروں کی داد دی جانی چاہئے ۔یہ وقت ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے کا نہیں ہے بلکہ مل جل کر ملک کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے کا ہے اور امید کی جانی چاہئے کہ ملک کی سبھی سیاسی جماعتیں اس پارلیمانی سیشن کے دوران یکجہتی کا مظاہرہ کریں گے ۔ساتھ ہی سرکار سے بھی یہ امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسا عوام دوست بجٹ پیش کرے گی جس میں عوام پر مہنگائی اور اضافی ٹیکسوں کا کوئی بوجھ نہ ہوگا بلکہ عملی طور پر عوامی راحت رسانی کا مکمل بندو بست کیاگیا ہوگا کیونکہ آخر میں سرکار عوام کی خدمتگار ہے ۔