بجلی کی مانگ کررہے مظاہرین کا ہجوم بھڑک اٹھا

اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع کی تحصیل کاہرہ میں اسوقت مظاہرین کا ہجوم مشتعل ہوا جب ٹانٹا گاؤں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بجلی کی عدم دستیابی کو لے کر احتجاج کیا جس دوران کئی گھنٹوں تک ٹھاٹھری کلہوتران شاہراہ پر ٹریفک معطل رہا جس میں ڈی آئی جی ڈی کے آر رینج کی گاڑیوں کا قافلہ بھی کچھ دیر تک روکا گیا۔ مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا احتجاج کے دوران پولیس کی گاڑی نے بی ڈی سی چیئرمین کاہرہ فاطمہ چوہدری کو ٹکر ماری جس کی وجہ سے ان کی ٹانگ میں گہری چوٹ لگی، اس کے بعد مظاہرین بھڑک اٹھے اورضلع و مقامی انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی کی۔پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج و آنسو گیس کا بھی استعمال کیا۔ ادھر ایس ڈی پی او گندوہ شہزادہ کبیر متو نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ڈی آئی جی و ایس ایس پی کے دورہ کے دوران وہ معمول کی ڈیوٹی پر تھے اور لوگوں نے گاڑیوں کا گھیراؤ کیاتاہم ڈی آئی جی کے قافلے کو بحفاظت نکالا گیا۔ اس دوران ایس ڈی ایم ٹھاٹھری موقع پر پہنچے اور مظاہرین کو یقین دلایا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائے گی اور اسطرح سے چھ گھنٹے بعد لوگوں نے احتجاج ختم کیا۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے ایس ڈی ایم ٹھاٹھری اطہر آمین زرگر نے کہا کہ کاہرہ تحصیل کے ٹانٹا گاؤں میں حال ہی میں ضلع و مقامی انتظامیہ کی مدد سے بجلی پہنچائی گئی تھی تاہم کچھ گھر رہ گئے تھے۔ انہوں نے مذکورہ گاؤں کے لوگوں نے ٹھاٹھری کلہوتران شاہراہ پر بجلی کی مانگ کو لے کر احتجاج کیا جس دوران پولیس نے سڑک بحال کرنے کی کوشش کی اور مظاہرین بھڑک اٹھے تاہم انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہے اور مذکورہ گاؤں میں رواں ماہ کی سترہ تاریخ تک سو فیصد آبادی کو بجلی فراہم کی جائے گی۔اس دوران ڈی ڈی سی کونسلر کاہرہ معراج الدین ملک و بلاک صدر کانگریس کاہرہ فاروق شکاری نے لاٹھی چارج کی مذمت کرتے ہوئے معاملہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔