بجلی کی لوڈ شیدنگ جاری

 
سرینگر //گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ نے اہل وادی کو موسم بہار میں بھی ناک میں دم کر رکھا ہے اورسرما سے برقی رو سے پریشان وادی کے صارفین کو بہار میں بھی بلا خلل بجلی فراہم کرنے میں محکمہ مکمل طور ناکام ہے ،تاہم محکمہ بجلی کا کہنا ہے کہ شیڈول کو بدل کر صرف دن میں 2گھنٹے ہی بجلی کاٹی جاتی ہے اور آنے والے دنوں میں بجلی سپلائی میں بہتری آئے گئی ۔معلوم رہے کہ اکتوبر کے مہینے میں بجلی محکمہ نے وادی کیلئے ایک بدترین شیڈول جاری کر کے لوگوں کو اندھیرے میں رکھالیکن اُس اندھیرے سے ابھی بھی وادی کے لوگوں کو جھٹکاراہ نہیں مل رہا ہے محکمہ بجلی اگرچہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ شیڈول میں تبدیلی لائی گئی ہے تاہم اکثر علاقوں سے لوگ یہ شکایت کر رہے ہیں بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ برابر جاری ہے اکثر رات کے دوران بھی بجلی کا کہیں نام ونشان نہیں ہوتا ۔ مقامی لوگوں کے مطابق سرما میں بجلی محکمہ نے یہ دلیل دی تھی کہ اورلوڈنگ اور ندی نالوں میں پانی کی قلت کے سبب لوگوں کو شیڈول کے مطابق بجلی فراہم کی جائے گئی لیکن اب سرما کے 6ماہ بعد یعنی اپریل میں بھی لوگ بلا خلل بجلی حاصل کرنے میں ناکام ہیں ۔
وادی کے کپوارہ ، لولاب ، ہندوارہ ، کے علاوہ بارہمولہ ، اوڑی ، رفیع آباد ، کنڈی بارہمولہ ، بانڈی پورہ، سوپور ،پٹن ، بڈگام ، خان صاحب،چرارشریف پلوامہ شوپیاں کولگام اور اننت ناگ ، گاندربل اور کنگن کے اکثر علاقوں سے لوگوں کی شکایت ہے کہ اُن کو بلا خلل بجلی فراہم کرنے میں محکمہ ابھی بھی ناکام ہے۔اس طرح شہر کے اولڈ زیرو بریچ ، کرسو راج باغ بنڈ ، چھان پورہ ، نٹی پورہ ، جواہر نگر ، برزلہ ، بمنہ ،ایچ ام ٹی ، ٹینگ پورہ ، پٹہ مالو ، کرانگر کے علاوہ شہر خاص کے رعنا واڑی ، قمرواڑی ، سیدہ کدل ، کاٹھی دروازہ، جوگی لنکر ، نادیار ، روزبل ، شیش گری محلہ ، کائو محلہ کوری پورہ ، نوپورہ ، سرٹینگ ، روز بل ، نارورہ ، نوہٹہ ، راجوری کدل ، کائو دارہ ، عید گاہ ، نواکدل، صفا کدل،نور باغ میں بھی بجلی کی آنکھ مچولی سے لوگ پریشان ہیں ۔شہر کے تاجروں کا کہنا ہے کہ بجلی نظام کی بدتر حالت سے تاجروں کے کاروبار پر بھرا اثر پڑھا ہے اور محکمہ خاموش تماشائی بن کر لوگوں کو مزید مشکلات میں دھکیلنے میں لگا ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ موسم میں بہتری کے بعد اورلوڈنگ میں کمی آئی ہے جبکہ ندی نالے میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے لیکن اُس کے باجود بھی شیڈول جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔مقامی صارفین نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جان بوجھ کر محکمہ بجلی صارفین کو تنگ کر رہا ہے جبکہ ماہانہ بجلی فیس بھی صارفین سے زبردستی حاصل کی جاتی ہے ۔کشمیر عظمیٰ نے جب کمشنر سکریٹری پاور ہردیش کمار سے بات کی تو انہوں نے کہا نیا شیڈول بنانے کے حوالے سے وہ چیف انجینئر سے بات کریں گے او ر جلد لوگوں کو بلا خلل بجلی فراہم کی جائے گئی، جبکہ چیف انجینئر بجلی کشمیر قاضی ہشمت نے پلو جھاڑا اور کہا کہ پہلے سے بجلی میں بہتری آئی ہے اُن کا کہنا تھا کہ سرکا کے شیڈول کو بدل کر صرف 2گھنٹے بجلی کی کٹوتی رکھی گئی ہے اور جیسے جیسے موسم بدلتا رہے گا بجلی سپلائی میں بھی بہتری آتی رہے گئی۔
 

موسم بہار میں بھی سرمائی بجلی کٹوتی جاری

صنعتوں،کارخانوں اور سیاحتی شعبے کی سرگرمیاں مفلوج:تاجر و صنعتکار 

سرینگر//وادی میںمحکمہ بجلی کی طرف موسم بہار آنے کے بعد بھی کٹوتی شیڈول جاری رکھنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تجارتی پلیٹ فارم کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن نے کہا کہ تجارتی و کاروباری سرگرمیوں کیلئے یہ پروگرام ناسور ہے۔کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے صدر حاجی محمد صادق بقال نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اگر چہ موسم سرما بھی ختم ہوا،اور موسم بہار نے دستک دی،تاہم محکمہ بجلی کی طرف سے ابھی کٹوتی شیڈول جاری ہے۔ حاجی محمد صادق بقال نے کہا کہ محکمہ کی جانب سے ایک گھنٹے تک برقی رو فراہم کرنے کے بعد اسے اچانک منقطع کیا جاتا ہے حالانکہ اس دن کٹوتی کاکوئی پروگرام نہیں ہوتا ہے بلکہ جان بوجھ کر برقی رو منقطع کرکے صارفین کو مصائب ومشکلات میں مبتلا کر دیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ پی ڈی ڈی محکمہ کی جانب سے اس بات کی بھی جانکاری فراہم نہیں کی جاتی ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں صارفین کو کتنے گھنٹوں تک برقی رو فراہم کی جائے گی اور کتنے وقت تک بجلی منقطع رہے گی،جس کا مطلب یہ ہے کہ پرانا کٹوتی شیڈول ابھی بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کارخارنہ دار ،تاجر،کاروباری برقی رو کی عدم دستیابی کا رونا روتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ وہ وقت پر بیوپاریوں تک اپنا مال نہیں پہنچا سکتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں مالی خسارے کا بھی سامنا کرناپڑتا ہے ۔انہوں نے کہا ہر سال بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرنے ، نئے بجلی پروجیکٹ تعمیر کرنے کے بڑے بڑے دعوئے کئے جاتے ہیں ، سرکاری خزانے کا منہ بجلی پروجیکٹوں کی تعمیر کیلئے کھول دیا جاتا ہے ۔کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے صدرنے کہا کہ حکومت جان بوجھ کر محکمہ پی ڈی ڈی کو کھلی چھوٹ دے رہی ہے اور پی ڈی ڈی محکمہ کو کھبی بھی جوابدہ بنانے کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ بقال نے کہا کہ ضلع ترقیاتی بورڈ میٹنگوں کے دوران عوام کی فلاح و بہبود کیلئے رقومات مختص کی جاتی ہیں اور اگر یہ رقومات وقت پر خرچ نہیں کی جاتی ہیں تو اس کی ذمہ داری عوام پر نہیں سرکاری آفیسروں ، وزراء ، ممبران اسمبلی ، بیروکریٹوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ مراعات کی بارش کے تلے دب کر عوام کی خون پسینے کی کمائی سے ادا کئے جانے والے ٹیکس پر عیش وعشرت کی زندگیاں گزار کر اپنے لوگوں کو مصائب ومشکلات میں مبتلا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ پی ڈی ڈی کے اہلکار بہتی ہوئی گنگا میں ہاتھ ڈبو کر اپنے لئے شکم سیری کا سامان پیدا کر رہے ہیں جبکہ الزام صارفین پر لگایا جا رہا ہے کہ وہ ایگریمنٹ سے زیادہ بجلی کا استعمال کر رہے ہیں ۔