بجلی کی ترسیل کا اپنی نوعیت کا سب سے بڑا پروجیکٹ، اسٹریٹ لائٹ پاﺅر ریکارڈ مدت میں تکمیل کے قریب

  سرینگر//وادی میں بجلی پروجیکٹوں کی تعمیر میں تاخیر کے تناظر میں بجلی کا ترسیلی نظام نصب کرنے والی بھارت کی سب سے بڑی نجی کمپنی سٹریٹ لائٹ پاﺅرآنے والے دو ماہ کے اندر اندر اپنا ٹرانسمیشن نیٹ ورک مکمل کرےگی، جو کہ پروجیکٹ کی تکمیل کےلئے مقررہ مدت سے قریب دس ماہ پہلے ہے۔اس ٹرانسمیشن لائن کی تکمیل سے وادی کشمیر کو سخت سرمائی صورتحال کے دوران لگاتار بجلی حاصل کرنے صلاحیت حاصل ہوگی ۔یہ نیا بجلی ٹرانسمیشن نظام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور اس کی تعمیر مکمل ہونے سے پنجاب سے1000میگاواٹ بجلی وادی درآمد کی جاسکے گی۔اس پروجیکٹ کے تحت 450کلومیٹر لمبی ٹرانسمیشن لائنوں کے ساتھ ساتھ وادی میں امر گڑھ سوپور کے مقام پر400/200کے وی گیس انسولیٹیڈ سب اسٹیشنز قائم کئے جارہے ہیں۔پروجیکٹ کی تعمیر کے دوران پیر پنچال رینج اور ہمالیائی خطے کے انتہائی دشوار گذار اندرون پہاڑی سلسلے سے ہوتے ہوئے قریب1150ٹاﺅر تعمیر نصب کئے گئے ہیں۔ٹرانسمیشن لائن جموں کشمیر کے11بڑے اضلاع اور قصبہ جات سے ہوکر گذرتی ہے اور مجموعی طور 1.25کروڑ افراد کی زندگیوں پر اثر انداز ہوگی۔ناردرن ریجن سسٹم سٹرینگ تھنینگ 29یعنیNRSS 29کے نام سے منسوب یہ پروجیکٹ وادی کشمیر میں خاص طور پر سرما کے دوران بجلی کے سنگین بحران کے پیش نظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔یہ ملک میں پرائیویٹ سیکٹر کاسب سے بڑا ٹرانسمیشن پروجیکٹ ہے۔اعدادوشمار کے مطابق جموں کشمیر میں اپریل اور دسمبر2015کے دوران بجلی کی 15.4فیصد کمی واقع ہوئی جو ملک کی تمام ریاستوں اور مرکزکے زیر انتظام علاقوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ شرح ہے۔واضح رہے کہ مسلسل بجلی سپلائی تک رسائی کی غیر موجودگی میں ریاستی عوام کو سردیو ں کے موسم میں لکڑی اور ایندھن کے دیگر ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔