بجلی کٹوتی کا جن بوتل سے باہر، سانبہ امر گڑھ ٹرانسمیشن لائن سے صرف 120میگاواٹ بجلی فراہم

 سرینگر //1000میگاواٹ صلاحیت والی سانبہ امر گڑھ ٹرانسمیشن لائن وادی کو صرف 120میگا واٹ ہی فراہم کر رہی ہے کیونکہ وادی کے گرڈ سٹیشنوں میں صلاحت کی کمی کی وجہ سے فی الحال بجلی فراہم نہیں کی جاسکتی ہے۔وادی کو 24گھنٹے بجلی فراہم کرنے کی غرض سے سٹر لائٹ پاور کمپنی نے سانبہ امرگڑھ ٹرانسمیشن لائن کا کام 2016میں شروع کیا ۔ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر کے دوران یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ وادی میں نہ صرف 24گھنٹے بجلی فراہم کرنے کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا ،بلکہ گرڈ سٹیشنوں کی صلاحتوں میں بھی 70فیصد کا اضافہ ہو گا،لیکن وعدے سراب ثابت ہورہے ہیں۔وادی بھر میں بجلی کٹوتی کا جن بوتل سے باہر آگیا ہے۔دو ماہ قبل اس ٹرانسمیشن لائن کوکار آمد بنادیا گیا ہے تاہم اس ٹرانسمیشن لائن کے شروع ہونے کے بعد وادی کو صرف 120میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے۔محکمہ بجلی کے ایک اعلیٰ افسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس لائن سے فی الحال 120میگاواٹ سے زیادہ بجلی سپلائی نہیں کی جاسکتی کیونکہ وادی میں بجلی کی کھپت کیلئے گرڈ سٹیشنوں میں صلاحت بہت کم ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ آلسٹینگ میں زیر تعمیر گرڈ سٹیشن کا کام جونہی مکمل ہو گا تو یہ صلاحیت بڑھ جانے کا امکان ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ نومبر اور دسمبر میں صورتحال کیسی رہے گی ۔دریں اثناء سٹر لائیٹ پاور کمپنی نے کہا ہے کہ 3000 کروڑ روپے کے نادرن ریجن سسٹم سٹرنتھنگ( این آر ایس ایس) ۔ 29 وقاری پروجیکٹ کی باضابطہ شروعات ہوگئی ہے جو شمالی گرڈ سے جموں وکشمیر کو اضافی بجلی کی سپلائی فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔یہ پروجیکٹ مقررہ مدت سے دو ماہ پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے۔سٹرلائیٹ پاور کے ایک بیان کے مطابق اس پروجیکٹ کے آغاز سے ریاست میں کم سے کم 33فیصد بجلی کے ترسیلی صلاحیت میں اضافہ ہونے سے وادی میں بجلی کی سپلائی کویقینی بنائے جائے گی۔اس ترسیلی لائن سے وادی میں 1000میگاواٹ اضافی بجلی فراہم ہوگی۔