بجلی چوری اور ضائع ہونے کوروکاجائے

جموں کشمیرکاکوئی بھی صنعتی کلسٹرانتہائی آلودہ علاقے میں نہیں آتا:چیف سیکریٹری 

جموں//جموں کشمیر کے چیف سیکریٹری ڈاکٹرارون کمارمہتہ نے ایک میٹنگ کے دوران محکمہ بجلی کے کام کاج کاجائزہ لیا جبکہ ایک اورمیٹنگ میں انہوں نے جموں کشمیرمیں نیشنل کلین ائرپروگرام کے نفاذ کے ایکشن پلان کومنظوری دی۔  چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے جمعہ کو ایک میٹنگ کی صدارت کی جس میں پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ( پی ڈی ڈی ) کے کام کاج اور جموں وکشمیر میں بجلی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ محکمہ نے جموںوکشمیر میں ٹرانسفارمر کے نقصان کی شرح کو بالترتیب 23فیصد اور 29فیصد تک لایا ہے۔ اِن کوششوں میں تمام ٹرانسفارمروں کو منفرد شناختی نمبروں کے ساتھ ٹیگ کرنا شامل ہے تاکہ ان کی مرمت کی تاریخ کو ٹریک کیا جاسکے اور 4,100 ایم وِی اے شامل کرکے تقسیم کی صلاحیت کو بڑھایا جاسکے۔چیف سیکرٹری نے نقصان کی بڑھتی شرح پر اَپنی تشویش کا اِظہار کیااور انہیں قومی سطح پر قبول شدہ سطح پر لانے کے لئے وقتی کوششوں کی ہدایت دی۔  ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے ائیریل بنڈل کیبلز ( اے بی سی ) کے استعمال کے ساتھ سمارٹ میٹروں کی تنصیب سے اے ٹی اینڈ سی کے نقصانات کو 10فیصد سے کم کرنے پر زور دیا۔بجلی چوری اور لیکیج کومزید روکنے کے لئے محکمہ سے کہا گیا کہ وہ ایک ماہ کے اندر تمام فیڈروں اور ٹرانسفارمروں پر صد فیصد میٹر کی تنصیب کو یقینی بنائے ۔ چیف سیکرٹری نے محکمہ کو ہدایت دی کہ وہ ٹرانسفارمر اور مقام کی بنیاد پر نقصانات کا تخمینہ لگانے کے ساتھ ساتھ ان مرمتی ورکشاپوں کی نشاندہی کریں جو ٹرانسفارمروں میں بار بار ہونے والے نقصانات اور خرابی کا باعث بنتی ہیں ۔ محکمہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اِس معاملے میں قصورواروں کے خلاف تادیبی کارروائی کرے اور سات دِن کے اَندر رِپورٹ پیش کرے۔ محکمہ کو مزید ہدایت دی گئی کہ وہ اَپنے پورے بنیادی ڈھانچے بشمول فیڈروں ، ٹرانسفارمروں ، ترانسمیشن لائنز، میٹروں ، فیوز وغیرہ کی صحت کو کیٹلاگ کرے اور اے ٹی اینڈ سی نقصانات کو کم کرنے اور چوبیس گھنٹے قابل اعتماد بجلی کی فراہمی کے لئے منصوبہ بند جدید کاری اور اَپ گریڈیشن پر کام کرے ۔ چیف سیکرٹری نے تشویش کے ساتھ نوٹ کیا کہ کچھ فیڈراَب بھی 80سے 90فیصد اے ٹی اینڈ سی نقصانات درج کر رہے ہیں جو کہ ناقابل قبول ہے اور ایسے معاملات میں ملی بھگت کے عنصر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اُنہوں نے محکمہ سے مزید کہا کہ باقاعدہ معائینہ ، منقطع اور کنکشن ریگولرائزیشن کے ذریعے سخت نفاذ اور بجلی چوری کے خلاف کریک ڈائون یقینی بنائے۔ مزید برآں ، چیف سیکرٹری نے محکمہ سے کہا کہ وہ بی پی ایل اور ایس اِی سی سی 2011ء کے مستفیدین کے لئے ایک ایمنسٹی سکیم لانے پر غور کرے تاکہ بقایا واجبات کی آسانی سے ادائیگی سے ان کے حق میں بجی کے کنکشن کو ریگو لرائز کر نے میں مدد کی جاسکے۔ایک اورمیٹنگ کے دوران چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے  جموں و کشمیر میں نیشنل کلین ائیر پروگرام کو نافذ کرنے کے ایکشن پلان کو منظوری دی ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں کوئی بھی صنعتی کلسٹر انتہائی آلودہ علاقے میں نہیں آتا ہے ۔ منظور شدہ منصوبے کا مقصد بالترتیب ایک او دو سال کے اندر سرخ اور نارنجی زمرے کی صنعتوں میں پالتو کوک اور فرنس آئل کے استعمال کو ختم کرنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ متبادل توانائی کے ذرایع جیسے سی این جی ، پی این جی اور بجلی کے استعمال کو فروغ دینا ہے ۔مزید براں جموں و کشمیر میں انتہائی الودگی پھیلانے والی صنعتوں کی تمام 17 کیٹیگریز نے سی پی سی بی سرور سے منسلک آن لائین ایمیشن مانیٹرنگ سسٹم ( او سی ای ایم ایس ) نصب کیا ہے تا کہ آلودگی ، اخراج ، اس سے نکلنے والے فضلات کو ٹریک کرنے میں مدد ملے ۔ میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ اورنج اور ریڈ کیٹیگری کے تمام یونٹس کیلئے ائیر پولیوشن کنٹرول ڈیوائسز( اے پی سی ڈیز) کی تنصیب اور یونٹ کے احاطے میں درخت لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ چیف سیکرٹری نے جموں و کشمیر میں ہوا کے معیار کی مسلسل نگرانی پر زور دیا اور محکمہ سے کہا کہ وہ PM10,PM2.5,SO2, NOx,NH3,CO,03 اور بینزین یونین کے علاقے میں حقیقی وقت کی تشخیص کیلئے تمام اضلاع میں کنٹینیوئس ایمبیئنٹ ائیر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنز ( سی اے اے کیو ایم اٰیس) کا ایک گرڈ نصب کرے ۔ منظور شدہ پلان میں ای ویسٹ منیجمنٹ قوانین کی تعمیل میں صنعتی علاقوں میں ای ویسٹ اور ری سائیکلنگ یونٹس قائم کرنے کی پالیسی بھی شامل ہے ۔ اسی مناسبت سے محکمہ صنعت و تجارت موجودہ اور آنے والے صنعتی پارک ، اسٹیٹس اور صنعتی کلسٹروں میں ای کچرے کو ختم کرنے اور ری سائیکلنگ یونٹس کے قیام میں مدد کر رہا ہے ۔ فضائی آلودگی پر قابو پانے کی کوششوں میں مدد کیلئے پرانی کمرشل اور پرائیویٹ گاڑیوں کو بالترتیب 10 سال اور 15 سال میں ختم کرنے کی پالیسی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ پالیسی کے تحت ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ فی بس 5 لاکھ روپے کی سبسڈی فراہم کر رہا ہے تا کہ ایندھن کی بچت اور ماحولیات دوست متبادل کے ساتھ متبادل کی حوصلہ افزائی کی جا سکے ۔ چیف سیکرٹری نے متعلقہ ایجنسیوں سے کہا کہ وہ معائنہ مہم کو سخت کریں اور نجی اور تجارتی گاڑیوں کے ذریعہ پی یو سی کے اصولوں کی تعمیل کو یقینی بنائیں ۔ ڈاکٹر مہتا نے ہاوسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ پر زور دیا کہ وہ پورے جموں و کشمیر میں صد فیصد گھر گھر کچرے کو جمع کرنے کو یقینی بنائے اور سائینسی طریقے سے ٹھکانے لگانے کیلئے ٹھوس کچرے کی علیحدگی کو تیز کرے اس کے علاوہ ایک بار استعمال ہونے والی پلاسٹک کی پابندی پر سختی سے عمل درآمد کرے ۔