بجلی سکیم کی بھی ہوا نکل گئی RAPDRP

سرینگر // وادی میں بجلی سکیم آر اے پی ڈی آر پی کی بھی ہوا نکل گئی ہے اور 7سو کروڑروپے کا یہ پروجیکٹ بھی ٹھپ پڑا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں جن ٹھکیداروں نے اس سکیم پر کام کیا ہے اُن کا الزام ہے کہ اُن کی 20کروڑروپے کی بلیں واجب الاد ہیں اور سرکار نے اب سمارٹ میٹروں کو نصب کرنے کا کام بھی غیر ریاستی نجی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے دیا جا رہا ہے ۔پریس کالونی میں جمعرات کوبرفباری کے بیچ جموں وکشمیر الیکٹریکل کنٹریکٹر س ایسوسی ایشن کے بینر تلے ٹھکیداروں نے احتجاج کرتے ہوئے گورنر انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی کی ۔ٹھکیداروں نے دھمکی دی ہے کہ اگر اُن کی بلوں کو واگزار نہیں کیا گیا تو وہ وزیر اعظم کے کشمیر دورے سے قبل نصب کئے گے بجلی ٹرانسفامروں اور بنیادی ڈھانچوں کو ہٹا دیں گے ۔ ایسوسی ایشن کے صدر محمد اقبال وانی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ حکومت کا ساڑھے 7سو کروڑ روپے کا ایک پروجیکٹ جس کی یٹنڈرنگ 2014میں ہوئی ہے ،پر صرف 20سے25فیصد کام ہوا ہے اور اس کے بعد یہ کام ٹھپ پڑا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جن ٹھکیداروں نے ابتدائی مرحلے میں کام کیا وہ پچھلے 2برسوں سے ہر ایک دفتر کی خاک چھان رہے ہیں مگر اُن کی بلیں واگزار نہیں ہو رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں اس وقت181ٹھکیدار اس سکیم کے ساتھ جڑے ہیں جن کی تقریبا 20 کروڑروپے کی رقم حکومت ادا کرنی میں لیت و لیل کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔انہوں نے وادی میں سمارٹ میٹروں کونصب کرنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس سے قبل آر جی جی وی وائی سکیم کے تحت باہر کی ایک کمپنی نے یہاں کے ٹھکیداروں سے کام کرایا اور پھر وہ بھاگ گئے ۔انہوں نے کہا کہ صرف کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے کام ہورہا ہے اورمقامی لوگوں کا نہیں ۔معلوم رہے کہ آر اے پی ڈی آر پی سکیم کو شروع کرنے کا مقصد ریاست کے 30قصبوں میں ترسیلی نظام کو مکمل طور پر بدل کر ہر تین گھروں کیلئے ایک بجلی ٹرانسفامر نصب کرنا تھا لیکن یہ سکیم اب یہاں دم توڑتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے ۔