بانیٔ انجمن نصرۃ الاسلام

 فطرت کا قانون اور ایک آفاقی و ابدی اصول ہے جس کے تحت کوئی بھی فرد اور قوم یکساں حالات میں نہیں رہتے بلکہ نشیب و فراز، اتار چڑھائو اور عروج و زوال فطرت کے ضابطے ہیں جس سے فرار اور انکار ممکن نہیں۔ مجموعی طور پر انیسویں صدی عیسوی اسلام اور ملت اسلامیہ کیلئے انتہائی تاریک، مایوس کن، ابتلاء اور آزمائش کا دور تھا۔ ریاست جموںوکشمیر میں خاص کر یہ دور نا امیدی اور بیچارگی کا دور تھا۔ عام لوگ اَن پڑھ اور ناخواندہ  تھے، غربت کے مارے تھے اور بدترین استحصال کی چکی میں پس رہے تھے۔ بنیادی ضرورتوں اور سہولتوں سے محروم تھے اورغلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ ایک طرف ڈوگرہ حکمرانوں کے شخصی راج اور ظلم و استبداد نے کشمیر کو ظلمت کدہ بنا رکھا تھا اور لوگوں سے بیگار لیا جاتا تھا، غلامی ، مجبوری، محرومی، مفلسی اورلا علمی کا دور دورہ تھا ۔ ووسری طرف سامراجی قوتیں عالم اسلام پر یورشیں کر رہی تھیں ، افریقہ، مشرق وسطیٰ، برعظیم ہند اور جنوب مشرقی ملکوں کو زیر نگین کرچکی تھیں۔ اسی گھٹاٹوپ اندھیرے میں ایک مرد حق آگاہ مرد کامل اور مرد مومن میرواعظ کشمیر مولوی غلام رسول شاہ صاحبؒ ان تمام چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے زبردست ہمت و قوت اور مصمم ارادہ کے ساتھ میدان عمل میں کود پڑے۔ میرواعظ رسول شاہ صاحب ؒ ایک دور اندیش، حق شناس ، دور بین علامہ وقت، مجلس اور ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے پہلے ہی اپنے مواعظ حسنہ کے ذریعے عوام کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرنے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی بیداری لائی تھی۔ انہوں نے توہمات، شرکیات ، بدعات ، خرافات اور رسوم کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے کامیاب جہاد شروع کررکھا تھا۔ مگر انہوں نے محسوس کیا کہ ملت اسلامیہ کو ذہنی فکری ، سماجی اور سیاسی غلامی سے نجات دلانے کیلئے تعلیم کو عام کرنا ہوگا۔ تاکہ ناخواندگی اور جہالت کے اندھیروں سے عوام کو نکال کر علم کی روشنی سے منور کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق کہ’’ خالق کائنات کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا ، جب تک وہ خود نہ بدلے‘‘ انہوں نے ملت کے باشعور، مخلص اور ہمدرد شخصیات کے ساتھ مل کر ابتر اور مایوس کن حالات کو بدلنے کیلئے باہمی مشاورت اور غور و خوض کیا۔ اور ایک منظم تعلیمی انجمن نصرۃ الاسلام کی بنیاد ڈالی جس کے آپ بانی صدر بن گئے۔ اس پر خلوص تحریک کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے محسوس کرلیا کہ تعلیم جدید کے ساتھ ساتھ اگر کشمیری مسلمانوں کو اپنے ماضی کے ساتھ وابستہ نہ کیا جائے تو مستقبل قریب میں اہل کشمیر بھی طاغوتی قوتوں کے تختہ ؐ مشق بن کر ارتداد کی رو میں بہہ جائیں گے۔ لہٰذا انجمن نصرۃ الاسلام کے زیر اہتمام ۱۸۹۹ء؁ مطابق ۱۳۱۷ھ؁ ربیع الاول میں شہر خاص راجویری کدل میں اسلامیہ اسکول کی بنیاد ڈالی۔پہلے پہل یہ مڈل سکول تھا اور رفتہ رفتہ یہ ہائی اسکول بن گیا اور اس کے ساتھ ہی وادی کشمیر کے طول وعرض میں اسلام آباد، شوپیاں، بجبہاڑہ وغیرہ میں اس کی شاخیں پھیلائی گئیں اور یہ تعلیمی مہم وادی گیر سطح پر جاری رہی۔علاوہ ازیں اسلامیات ، اخلاقیات اور دینیات کی تکمیل کیلئے ’’ اسلامیہ اورینٹل کالج ‘‘کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ۔ اس طرح انہوں نے علم کی ایک ایسی مشعل روشن کی جس سے لاعلمی اور جہالت کے اندھیرے چھٹ گئے اور قوم کے اندر سیاسی، سماجی اور اقتصادی بیداری پیدا ہوگئی اور ملت اسلامیہ کو اپنا مقام اور منزل مقصود نظر آنے لگا اور محرومیت ، بے حسی اور استحصال سے نجات کی راہیں کھل گئیں۔
میرواعظ مولانا رسول شاہ صاحبؒ علوم عربیہ دینیہ کے مبلغ ومناد ہونے کے علاوہ اہل کشمیر اور بالخصوص یہاں کے مسلمانوں کیلئے جدید اور مروجہ انگریزی علوم کے بھی نقیب اور دائی تھے ۔ مولانا رسول شاہ صاحب اپنی دور رس نظر سے پہچان گئے تھے کہ ملک میں آئندہ تعلیمی و سماجی زندگی میں اس شخص کا حقیقی حصہ ہوگا جو علوم جدیدہ سے آراستہ و پیراستہ ہو۔ اس لئے قدیم تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم کی بھی بھر پور وکالت کی۔ یہ یقینا وقت کی پکار تھی ۔ عظیم مقاصد اور قلیل وسائل کا حامل ادارہ انجمن نصرۃ الاسلام کا مقصد سیاسی اور سماجی بیداری کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو تعلیمی طور لیس کر کے زیادہ تر سرکاری ملازمتوں میں حصہ دلانا تھا تاکہ ملکی معاملات اور انتطامات میں ان کا بھر پور حصہ ہو۔ اس میدان میں تاریخی کامیابی حاصل کر نے کے پس منظر میں انہیں ’’سرسید کشمیر‘‘ کے خطاب سے فخراً یادکیا جاتا ہے ۔
 تعلیم وتدریس کی مشعل برداری کے لئے قائم شدہ انجمن نصرۃ الاسلام کے جھنڈے تلے کشمیر کے باشعور مخلص اور ہمدرد لوگوں کا انتخاب کیا گیا جنہوں نے نہایت جا نفشانی اور اخلاص کے ساتھ میرواعظ وقت کا ساتھ دیا۔ تاسیس انجمن کے سلسلہ میں جو لوگ اس وقت موصوف کے معاون و مددگار بنے اور جنہوں نے دامے، درمے، قدمے اور سخنے اس کا ر خیر میں بھر پورمعاونت کی ان میں خواجہ حسن شاہ نقشبندی، خواجہ عزیز الدین کائوسہ، مفتی اعظم کشمیر محمد شریف الدین ، خواجہ عبدالصمد ککرو، مفتی ضیاء الدین ، مولانا سلام الدین فاروقی (امام درگاہ حضرت بل)، خواجہ ثناء اللہ شال کے اسماء گرامی قابل ذکر ہیں۔ ان کی قیادت ومشاورت میں یہ ادارہ خوب پھلا پھولا اور کامیابیوں اور کامرانیوں کی منزلیں طے کرتا گیا ۔میرواعظ رسول شاہ صاحب نے جو مشعل ۱۸۹۹ء میں روشن کی اس کی شعاعیں اور تابناکی کشمیر کے طول و عرض میں پھیل گئیں اور جہالت و ناخواندگی کی تاریکیاں روشن خیالی اور بیداری سے تبدیل ہو گئیں ، عوام اپنا سود وزیاں اور خیر و شر سمجھنے لگے ، جہالت و دانائی ، غفلت و بیداری ، کم ہمتی و جرأتمندی ، محکومی و مختاری سستی و محنت کشی اور دوست و دشمن میں تمیز کرنے لگے اور درس وتدریس کی افادیت سے مانوس ہوئے۔ یہ وادی کا پہلا ادارہ ہے جہاں سے مقامی آبادی تعلیم سے آراستہ ہوئی اور اس مادر علمی سے فراغت پانے و الے آگے چل کر ریاست کے مختلف شعبوں میں مشاہیر ثابت ہوئے اور ریاستی انتظامیہ میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہوکر وطن کی تعمیر و ترقی میں اہم رول ادا کر گئے۔ یہی وہ حُسن ِکارکردگی ہے جو انجمن کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ انجمن نصرۃ الاسلام   کے تحت تین ادارے ہیں(۱) شوریٰ عام ( جنرل کونسل)، (۲) مجلس عاملہ (ورکنگ یا مجلس منتظمہ)(۳)مجلس شوریٰ (ایڈوائزری بورڈ)۔یہ تینوں اکائیاں انجمن نصرۃ الاسلام کے صدر کے تحت کام کرتی ہیں۔انجمن کا ماٹو قرآن کریم کے سورہ محمد آیت ۴۷۔۷ سے اخذ ہے: اگر آپ اللہ کی اعانت کریں گے (یعنی اس کے حکم اور پیغام کو پھیلانے میں کوشش کریںگے) تو وہ (اللہ ) آپ کی مدد کرے گا ور آپ کو مضبوطی اور ثابت قدمی عطا کرے گا۔ اس دارے کے اغراض وہداف یہ ہیں :(۱) کتاب و سنت کی تعلیم و ترویج(۲) اسلامی تعلیم کے علاوہ مروجہ تعلیم سے نئی نسل کو آراستہ کرنا(۳) مسلمانوں کے کردار کو اسلامی اقدار کا آئینہ دار بنانا(۴) مذہبی، اخلاقی، اقتصادی ، تہذیبی اور سماجی امور میں عوام کی مثبت اور صحیح رہنمائی کرنا(۵) جدید تعلیم اور مذہب میں توازن پیدا کرنا۔(۶) اخلاقی اور روحانی اقدار کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی انسانیت کے کاز کو تقویت پہونچانا۔(۷) مسلمانوں میں امت وسط کے تصور کو جاگزیں کرکے ان میں اتحاد پیدا کرنا ۔بانی صدر انجمن نصرۃ الاسلام میرواعظ رسول صاحبؒ کی ناقابل تلافی وفات ( ۱۱؍ رجب ۱۳۲۷ء بمطابق جولائی ۱۹۰۹ء )جن اصحاب باکمال نے انجمن کی صدارت سنبھالی ان کے اسماء گرامی یوں ہیں۔(۱) میرواعظ کشمیر مولوی احمد اللہ صاحبؒ (جولائی  ۱۹۰۹ء؁ سے اپریل ۱۹۳۱ء؁ برادر رسول شاہ صاحب)ؒ۔(۲) میرواعظ کشمیر مولوی عتیق اللہ صاحبؒ(اپریل ۱۹۳۱ء؁ سے  ۱۹۶۲ء؁ برادر رسول شاہ صاحب)(۳) میرواعظ کشمیر مولوی محمد یوسف شاہ صاحبؒ (۱۹۳۱ء؁ سے  ۱۹۴۷ء؁) مہاجر ملت جنرل سیکریٹری فرزند میرواعظ رسول شاہ صاحبؒ(۴) مولوی محمد امین صاحبٍ(مئی ۱۹۶۲ء؁ سے نومبر ۱۹۶۳ء)؁(۵) شہید ملت میرواعظ مولوی محمد فاروق صاحبؒ(نومبر ۱۹۶۳ء؁ سے مئی ۱۹۹۰ء؁ فرزند مولوی محمد امین صاحب)(۶) میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق صاحب(مئی ۱۹۹۰ء؁ تاحال فرزند میرواعظ مولوی محمد فاروق مرحوم صاحب)۔
مولانا رسول شاہ صاحبؒ میانہ قد کے ایک وجیہہ اور باوقار شخصیت کے مالک اور بزرگ تھے۔ چہرہ سے وقار اور سنجیدگی ٹپکتی تھی۔ سر بڑا تھا ، لباس میں اچکن، شرعی پاجامہ اور سر پر سفید مگر گول دستار پہننا زیادہ پسند کرتے تھے ۔ محافل ِوعظ کے موقع پر کامدار مائل بہ سنہری چوغہ جسم پر ہوتا تھا۔ موسم سر ما میں پشمینہ کا دوشالہ اوڑھتے تھے ۔ آپ کے زمانہ میں لوگ حقہ اور بیڑی سگریٹ سے عموماً اجتناب کیا کرتے تھے۔آپ کی مجلس میں انتہائی درجے کی خاموشی ہوا کرتی تھی۔استغنا ء اور بے نیازی کی یہ کیفیت تھی کہ ایک موقع پر مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے سرکاری خزانہ عامرہ سے ایک معقول رقم بطور ہدیہ پیش کرنا چاہی لیکن آپ نے یہ کہہ کر قبول کرنے سے انکار کردیا کہ خدا پر میرا بھروسہ غیر متزلزل ہے اور وہی میرے لئے کافی ووافی ہے۔مولوی رسول شاہ صاحبؒ نے جو رفاہی امور انجام دئے ان میں عالی مسجد عیدگاہ سرینگر کی تعمیر و مرمت بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ جامع مسجد سرینگر کشمیر اور دیگر مساجد کی تجدید و مرمت کا بھی آپ نے بیڑا اٹھایاتھا۔ سرینگر کشمیر کی متعدد خانقاہیں جن میں خانقاہ نقشبندیہ خاص طور پر قابل ذکر ہے ۔ آپ کی مساعی سے مرمت پذیر ہوئی۔ان ایام میں میرواعظ مولوی رسول شاہ صاحبؒ عربی اور فارسی کے جید عالم تھے، شاگردوں اور تشنگان علوم کی بہت بڑی تعداد آپ سے فیض حاصل کرتے تھے۔ مولانا مرحوم کے تلامذہ اور شاگردوں میں قابل ذکر ہستیاں حسب ذیل ہیں:خواجہ حسن شاہ نقشبندی، خواجہ محمد شاہ نقشبندی، میر محمد شاہ قادری ، میر محمد یوسف کنٹھ صفاکدل، مولوی حسن شاہ واعظ، میر بہائو الدین قادری، میر محمد فاضل کنٹھ، مولوی ضیاء الدین (مفتی خانقاہ معلی، والد ماجد پروفیسر مفتی جلال الدین مرحوم صدر مفتی) مولوی محمد حسن، مفتی محمد شاہ سعادت، مولوی احمد اللہ (مفتی حاجن)، مفتی محی الدین جامعی، مولوی غلام محمد لولابی حافظ محمد حسن، مرحوم امام مسجد گاڑیار زینہ کدل۔ان تلامذۂ رشید میں مفتی محمد شاہ سعادت مورخ کشمیر اورینٹل کالج انجمن نصرۃ الاسلام کے معلم بھی تھے۔میرواعظ رسول شاہ صاحبؒ کے چار فرزند تھے سب سے بڑے بیٹے تھے، سب سے بڑے بیٹے کا نام مولوی محمد حسن تھا ۔آٓپ عالم باعمل اور قرآن و حدیث کے عالم تھے۔ شافعی مسلک سے تعلق رکھتے تھے ۔ ۵۴؍ برس کی عمر میں رحمت حق ہو گئے ۔ دوسرے فرزند کا نام گرامی مولوی محمد یوسف شاہ صاحبؒ  تھا، مسلکاً حنفی تھے ۔ آپ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے مولوی فاضل (آنر ز عربک) ہونے کے علاوہ دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل بھی تھے۔ انہتائی نیک صالح اور متقی تھے ۔ اپنے چچا مولوی احمد اللہ صاحب کی وفات حسرت آیات پر مولانا عتیق اللہ کے ایماء پر منصب میرواعظ سنبھالا اور جولائی ۱۹۴۷ء تک یہ فریضہ بحسن خوبی انجام دیتے رہے۔ اگست ۱۹۴۷ء میں’’آزاد کشمیر‘‘ ہجرت کر گئے اور وہیں پر(اسلام آباد پاکستان) میں ۱۶ ماہ رمضان ۱۳۹۱ میں بروز جمعہ ۷۸ برس کی عمر میں انتقال کر گئے ۔ آپ انجمن نصرۃ الاسلام کے جنرل سیکریٹری اور کارگزار صدر بھی رہے، نیز اورینٹل کالج کی توسیع و تجدید کا کام بھی انجام دیا۔ کشمیری زبان میں ’’بیان الفرقان‘‘ تفسیر آپ کی یادگار ہے۔ باقی دو فرزند مولوی محمد یحیٰ اور مولوی محمد شاہ صاحب تھے۔ دونوں یکے بعد دیگر انجمن نصرۃ الاسلام کے جنرل سیکریٹری کے عہدے پر رہ چکے ہیں۔
میرواعظ مولانا رسول شاہ صاحب چند روز ہ علالت کے بعد جمعۃ المبارک ۱۱ رجب المرجب۱۳۲۷ھ؁ (۳۰ جولائی ۱۹۰۹ء؁) کو خدا کے پیارے ہو گئے اس قت ان کی عمر ۵۴؍ سال تھی۔ اس طرح سے روشنی کا یہ مینار، نیر اعظم ،کشمیر میں جہالت کے اندھیروں کو دور کرکے علم کی روشنی اور تابنا کی پھیلا کر خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا لیہ راجعون۔ اللہ۔ ان جملہ مرحومین و مغفورین میرواعظین کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔آمین۔۱۹۴۷ء؁ کی سانحہ کے بعد اسلامیہ ہائی سکول کی حالت بگڑنی شروع ہوئی۔ا دھر میرواعظ محمد یوسف شاہ صاحب پاکستان میںقیام پذیر ہوئے۔،اِدھر حکومت وقت کی عوام مخالف پالیسی خاص کر انجمن نصرۃ الاسلام کے تئیں غیر ہمدرانہ رویے کے نتیجے میں ادارے کی شکل میںتعلیم و تربیت کے اس مرکز کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ پہلے نومبر ۱۹۵۵ء میں تاریخی اسلامیہ ہائی سکول کی بلڈنگ واقع راجویری کدل اور پھر جولائی ۲۰۰۴ء نذر آتش کی گئی مگراللہ کے فضل و کرم ، بہی خواہان ملت اور عوام کے سرگرم اشتراک سے دونوں مرتبہ اسلامیہ اسکول کی تعمیر نو کا کام شایان شایان طریقے پر مکمل کیا گیا۔اپنے دور صدارت میں شہید ملت میرواعظ مولوی محمد فاروق صاحب نے پورے عزم کے ساتھ انجمن نصرۃ الاسلام کی مشعل کو فروزاں رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور اس کے تعلیمی مشن کو ہر ممکن طور پر آگے بڑھانے کی بھر پور کوشش کی۔ اللہ کے فضل و کرم سے مئی ۱۹۹۰ء میرواعظ مرحوم کے جانشین اور فرزند دلبند میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق صاحب نے منصب میرواعظ کشمیر کے ساتھ ساتھ صدر انجمن نصرۃ الاسلام کا عہدہ سنبھالنے کے علاوہ ادارے کے مقاصد جلیلہ کی آبیاری ہمہ تن مشغول ہوئے ۔ ۲۰۰۲ء میں اسلامیہ ہائی سکول کادرجہ ہائر سیکنڈری اسکول (برائے طالبات) بڑھایا گیا اوراب انشاء اللہ محکمہ تعلیم سے منظوری ملتے ہی اسے گریجویٹ سطح کاکالج بنائے جانے کی تجویز ہے۔ اسلامیہ کالج اورینٹل کالج کی بہتری اور ترقی کیلئے بھی کئی سطحوں پر اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ طلباء کو قرآن و حدیث کی تعلیمات سے آراستہ کیا جاسکے۔بہر حال وقت کی پکار ہے کہ قوم کے مخلص ہمدرد اور فرض شناس لوگ آگے آئیں اور ادارے کے نیک مشن میں انجمن کا ہاتھ بٹائیں تاکہ تعلیمی معیار کو مزیدبڑھاوا ملے اور بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت اور اخلاقی نشوونما ممکن ہوسکے۔وادی کے ہو ش مند اور زندہ ضمیر عوام پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس تعلیمی ادارہ سے تعاون کرکے اس کی ترقی و کامیابی میں اپنا رول ادا کریں۔آیئے! ہم سب اپنے اپنے دائرہ کار میں بانی انجمن نصرۃ الاسلام ’’سرسید کشمیر‘‘ مرحوم میرواعظ کشمیر مولوی رسول شاہ صاحبؒ کا نیک مشن آگے بڑھائیں۔ یہی اس مرد درویش اور محسن قوم کے تئیں ہمارا خراج عقیدت ہوگا اوریہی چیز قوم و ملت کی ایک بڑی خدمت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی اعانت کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو۔ اور اللہ سے ڈرو(سوہ المائدہ)