بانہال گاؤں کے آگ متاثرین کا انتظامیہ سے مطالبہ

بانہال  // گزشتہ ماہ بانہال کے بڈگام پھاگو میں آگ کی ایک ہولناک واردات میں تین کنبے اپنا سب کچھ کھو بیٹھے ہیں اور ابھی تک وہ سرکاری امداد کے منتظر ہیں۔اس واردات میں تین رہائشی مکان مال و اسباب سمیت جل کر راکھ ہوگئے تھے اور ضلع حکام اور فوج کی راشٹریہ رائفلز نے کسی حد تک ان کی عبوری مدد کی تھی۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ آگ کی واردات کے فوراً بعد ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام کی طرف سے انہیں ٹینٹ کمبل اور برتن فراہم کئے گئے تھے جبکہ فوج کی راشٹریہ رائفلز کی طرف سے انہیں سلیپنگ بیگ دیئے گئے تھے لیکن مستقیل چھت کیلئے ابھی کچھ نہیں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آگ کی اس ہولناگ واردات میں وہ تن پر لگے کپڑوں کے سوا کچھ بھی نہیں بچا سکے ہیں اور گھر میں موجود راشن، بستر، کپڑے اور عمر بھر سے جمع گھر گرہستی دیکھتے دیکھتے راکھ کے ڈھیروں میں تبدیل ہوگئی۔ پھاگو ڈولیگام کے مقامی سماجی اور سیاسی کارکن غلام نبی نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ تین رہائشی مکانوں کے جل جانے کی وجہ سے درجنوں افراد کھلے آسمان کے نیچے آگئے ہیں اور ہمسائیوں کے گھروں کے ایک ایک کمروں میں سرد راتیں گزار رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں اور پی ایم اے وائی سکیم کے تحت مفت رہائشی مکانوں کے مستحق ہیں اور انہیں فوری طور پر مفت رہائشی مکانوں کی سکیم میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام نے متاثرین کی فوری مدد کے طور ٹینٹ، برتن اور دیگر سامان بھیجا تھا لیکن اصل اور مستقیل مدد پرائم منسٹر اندر اواس یوجنا کے تحت مفت مکانوں کی صورت میں درار ہے تاکہ ان غریب متاثرین کو۔مذید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔