بانہال بائی پاس کی تعمیر میں تاخیر سے قصبہ بانہال میں ٹریفک جام معمول

محمد تسکین
بانہال//بانہال فورلین بائی پاس کی تعمیر میں تاخیر کی وجہ سے جموں سرینگر شاہراہ پر واقع قصبہ بانہال میں آئے روز کا ٹریفک جام عام لوگوں اور دکانداروں کیلئے درد سر بنا ہوا ہے اور دو طرفہ بھاری ٹریفک کی وجہ سے قصبہ بانہال کے بیچوں بیچ سے گذرنے والی سڑک اب تنگ پڑتی جارہی ہے۔ پیر کے روز بھی قصبہ بانہال میں کئی گھنٹوں تک وقفے وقفے کا ٹریفک جام رہا جس کی وجہ سے ٹریفک کی نقل و حرکت نہایت ہی سست رہی اور مسافروں اپنی منزلوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹریفک جام کی وجہ سے روزانہ کی بنیادوں پر سرکاری ملازمین ، سکولی بچوں ، مریضوں ، عام لوگوں اور شاہراہ کے مسافروں کو گرمی کے ان دنوں میں ناقابل بیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جام میں پھنسی گاڑیوں کو چھوڑ کر پیدل ہی سفر کرنا پڑت ہے ۔ ٹریفک پولیس ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پیر کے روز ڈاک بنگلہ بانہال کے پاس سیکورٹی فورسز کی ایک بس سڑک پر بریک ڈائون ہوگئی جس کی وجہ سے اس علاقے میں ٹریفک کی نقل وحرکت سست رفتار رہی اور گاڑیوں کو اپنی منزلوں تک پہنچنے میں تھوڑی بہت تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں اس گاڑی کو وہاں سے نکال کر معمول کا ٹریفک بحال کیا گیا۔واضح رہے کہ قصبہ بانہال کو بائی پاس کرنے کیلئے فورلین شاہراہ کا کام ایک دہائی سے زائد عرصہ سے پہلے شروع کیا گیا تھا لیکن نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا کی طرف سے اس کام کیلئے ٹینڈرز حاصل کرنے والی رام کی کمپنی قریب دس سال تک کام شروع کرنے میں مکمل طور ناکام رہی اور بعد میں اس کمپنی کو کام سے ہی بلیک لسٹ کیا گیا۔ اب پچھلے ایک سال کے زائد عرصے سے یہ کام ایم۔ جی کمپنی کے حوالے کیا گیا ہے جو سب لیٹ ٹھیکیداروں کی مدد سے کام کو تیز رفتاری سے آگے بڑھا رہی ہے لیکن اسے مکمل کرنے میں ابھی بھی ڈیڑھ سے دو سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ نیشنل ہائے وے آتھارٹی آف انڈیا کی ڈھلی گرفت کی وجہ سے ” بانہال بائی پاس ” پچھلی ڈیڑھ دہائی سے تعمیر نہیں ہو سکا ہے اور اس کی براہ راست سزا قصبہ بانہال میں بھاری ٹریفک جام کی صورت میں مسافروں ، قصبے کا رخ کرنے والے ہزاروں لوگوں ، راہگیروں اور تاجر برادری کو بھگتنا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فورلین ٹنل سے ریلوے چوک بانہال تک سڑک فورلین شاہراہ ہے اور اس کے بعد سے قصبہ بانہال سے گذرنے والی تنگ شاہراہ مقامی لوگوں کیلئے بار آبر کے ٹریفک جام کی وجہ سے درد سر بنی ہوئی ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کھارپوہ اور سیڈ ہاس پل بانہال تک کے قریب دو کلومیٹر کے حصے کو جلد از جلد مکمل کیا جائے اور اسے حصے کو بہتر بنا کر ایک طرف کے ٹریفک کو اس سے چلائے جانے کے اقدامات کئے جائیں۔