بانہال ، رامسو و رام بن کے لوگوں کا جذبہ ایثار

بانہال // جموں سرینگر شاہراہ منگل کی شام سے رام بن اور بانہال کے سیکٹر میں گر آئی پسیوں کی وجہ سے جمعہ کو تیسرے روز بھی بند رہی۔ شاہراہ کے اچانک بند ہونے کی وجہ سے رام بن اور پنتھیال کے درمیان گر آئی پسیوں کے بیچ میں اڑھائی سو سے زائد مسافر بردار گاڑیاں جمعہ کی چار بجے تک درماندہ تھیں۔ رام بن ، پنتھیال ، مکرکوٹ ، رامسو، قصبہ بانہال اور ریلوے سٹیشن بانہال میں سینکڑوں کی تعداد میں درماندہ مسافروں نے جمعرات کی رات مساجد ، مدارس، مسافر خانوں ، کیمونٹی ہالوں اور سکولوں کے علاوہ رام بن ، پنتھیال ، مکرکوٹ اور رامسو کے علاقوں میں لوگوں کے گھروں میں گذاری اور انکے کیلئے مقامی لوگوں ، دینی جماعتوں ، رضاکار انجمنوں ، علماء کرام اور ضلع انتظامیہ نے انتظامات کئے تھے۔ پنتھیال پسی کے مقام پرکئی درجن مسافر اوپر پہاڑی پر واقع پنتھیال کی بستی میں چل کر جانے کے بجائے ایک زیر تعمیر فورلین ٹنل میں ٹھہرائے گئے جہاں مقامی لوگوں نے ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا تھا۔ پنتھیال پنچایت ماروگ کے سرپنچ ظہوراحمد شیخ نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کی رات سے درماندہ مسافروں کیلئے مقامی آبادی متحرک ہوئی اوررات کو ہی گرتے پتھروں کے مقام سے مسافر گاڑیوں کو ہٹانے کیلئے گاوں کے درجن بھر افراد شاہراہ پر مدد کیلئے بھیج دیئے گئے جبکہ جمعرات کو لنگروں کے علاوہ کل سے درماندہ مسافروں کیلئے گھروں میں رہنے کے علاوہ کھانے پینے کا انتظام کیا گیا کیونکہ پنتھیال علاقے میں گرتے پتھروں کی وجہ سے درماندہ پڑی230 گاڑیوں میں مسافروں کا رہنا خطرناک ہوسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پنتھیال ، مکرکوٹ اور رامسو میں 700 کے قریب درماندہ مسافروں کیلئے مقامی لوگوں نے کھانے پینے اور رہنے کا انتظام کیا اور مزید کسی مشکل کی صورت میں لوگ مسافروں کی مدد کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا جولوگ شدید بارش میں پہاڑی چڑھ کر بستی میں نہ پہنچ سکے انہیں زیر تعمیر فورلین ٹنل کے اندرٹھہرایا گیا اوران کے کھانے پینے اور دیگر انتظامات کئے گئے اور جموں سے نکلے بیشتر مسافروں کے ساتھ کمبل اور تھرمو کول وغیرہ ساتھ تھا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں اور رامسو اور مکرکوٹ کے لوگوں کے تعاون سے کھانے پینے کا بندوبست کیا گیا۔