بانڈ ی پورہ میں کلوسہ کے لوگوں کا احتجاج،3نوجوانوں کی رہائی کا ڈی سی سے مطالبہ

بانڈی پورہ //ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ آفس کے باہر پیر کو گنائی محلہ کلوسہ کے سینکٹروں مرد و زن نے 3نوجوانوں کے خلاف سیفٹی ایکٹ عائد کرنے پر احتجاج کیا۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر سے مانگ کی کہ انہیں رہا کیا جائے کیونکہ ان پر انکے خ قافلے پر پتھرائو کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔احتجاج میں شامل فہمیدہ بانو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گرفتار شدگان تین نوجوان ،فاروق احمد گنائی ولدغلام احمدگنائی ،سجاد حسین گنائی ولدغلام رسول اوربلال احمدگنائی عرف صاحبہ ولدبشیراحمدگنائی ساکنان گنائی محلہ کلوسہ بانڈی پورہ،جنگل سے واپس لوٹ کر سٹیڈیم بانڈی پورہ میںمیچ دیکھ رہے تھے جس کے دوران پولیس نے انہیں جرم بے گناہی کی پاداش میں گرفتارکیا۔ انہوں نے مزید کہا’’45روز تک ان تینوں کو تھانے میں بند کیا گہا، اور بالآخرسیفٹی ایکٹ لگا کر کوٹ بلوال جیل روانہ کر دیا گیا۔مظاہرین نے کہا کہ تینوں نوجوان کانگڑیاں بنانے کا کام کر کے اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالتے ہیں اور انہیں پولیس نے سیاسی رقابت کی بھینٹ چڑھا یا ہے۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا کہ ان تینوں پر انکے قافلے پر پتھرائو کا الزام ہے لہٰذا وہ ذاتی مداخلت کر کے غریب پروری کا ثبوت دیں۔واضح رہے کہ پولیس نے مذکورہ تین نوجوانوں کے علاوہ  21سالہ عادل بشیربٹ ولدبشیراحمدبٹ ساکنہ نسوبانڈی پورہ، اورمحمداظہرالدین پرے ولدعبدالرحمان پرے ساکن ژندرگیرحاجن کو گرفتار کیا اور بعد میں انہیں جموں جیل بھج دیا۔ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر شاہد اقبال چوہدری نے اس ضمن میں کہا کہ پولیس کی جانب سے ڈوزئرکے مطابق پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے دس کیسوں کو واپس بھیج دیا ۔ انکا کہنا تھا کہ مجسٹریٹ کا کام فیصلہ دینا ہوتا ہے اور کیس پولیس کی جانب سے بھیجے  جاتے ہیں۔