بانڈی پورہ کی مشہور روایتی کانگڑی کے بعد پیش ہے بانڈی پورہ کی الیکٹرانک کانگڑی ۔65سالہ اسماعیل نیوٹن کی حیرت انگیز اختراع، سردی میں گرمی اور گرمی میں سردی کا حسین امتزاج

عازم جان

بانڈی پورہ// بانڈی پورہ ضلع کے وٹہ پورہ سے تعلق رکھنے والا ایک ادھیڑ عمر جدت پسند شخص اپنی شاندار تخلیقات سے دیہی وجود کے روایتی تصورات کو توڑ رہا ہے۔ضلع بانڈی پورہ کی کانگڑی وادی بھر میں اعلیٰ سمجھی جاتی ہے جوعمومی طور پر کلوسہ میں دستیاب ہوتی ہے لیکن کلوسہ سے آدھا کلو میٹر دور وٹہ پورہ میں الیکٹرانک میکنک محمداسماعیل عرف نیوٹن جس کی عمر 65 سال کے آس پاس ہے،نے خوبصورت الیکٹرانک کانگڑی ایجاد کی ہے ۔اس ایجاد کے ذریعے محمد اسماعیل نیوٹن نے حیرت انگیز فن کا مظاہرہ کیا ہے۔

محمد اسماعیل نیوٹن نے کشمیرعظمیٰ کے ساتھ بات کرتے کہا ’’ پہلے میرے ذہن میں کانگڑی کاخیال آیا، پہلے مرحلے میں اس کو انگیٹھی یا آتشدان کی ضرورت پڑتی ہے، اس قسم کی انگیٹھی یا آتشدان بنانے کے لیے بہت سے کمہاروں سے رابطہ کیا لیکن وہ اس قسم کی انگیٹھی یا آتشدان بنانے میں ناکام رہے ،پھر میں نے ڈیزائن کردہ دھاتی انگیٹھی یا آتشدان کا انتخاب کیا‘‘۔وہ کہتے ہیں’’ میری کانگڑی کی خصوصیت یہ ہے اس کو کبھی بھی آگ خراب نہیں کرسکتی ،بچے جل نہیں سکتے، خاص طور پر مریضوں کیلئے 100فیصدمحفوظ ہے، اس کانگڑی سے حادثات کو الوداع ہوگا، آپ کی چٹائی ،کپڑے اور عمارتیں اب کانگڑی کے حادثات کی وجہ سے ہمیشہ محفوظ ہے۔ اسے بلوور، کولر اور پانی کی بوتل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کانگڑی کو محنت سے تیار کرکے آگ والی کانگڑی کے متبادل کے طورکمال مہارت سے منظر عام پر لایاہے‘‘۔ اسماعیل نے کہا ’’میںنے 12ویں جماعت تک تعلیم حاصل کی لیکن گھر میں مالی مشکلات کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ چھوڑنا پڑاتاہم میںنے ہمیشہ تکنیکی ایجادات کیلئے ایک جوش کو پالے رکھا‘‘۔اسماعیل نے کہا کہ اس کے بعد انہوںنے تکنیکی تعلیم حاصل کرنے کیلئے سکول چھوڑنے کے بعد آئی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی، لیکن اسے اس وجہ سے وہ سلسلہ ترک کرنا پڑاکہ وہ اپنے پروفیسروں کو مسلسل چیلنج کرتے رہتے تھے اور یہ معاملہ حکام تک پہنچاجس کی وجہ سے انھوں نے قبل از وقت اپنی آئی ٹی آئی کی تعلیم ترک ک

ی۔اسماعیل نے کہا’’2019 میں ایک خودکار ریسپائریٹر بنایا جو انتہائی بیمار مریضوں کو بے پناہ امداد فراہم کرتا ہے۔ یہ مریض کو صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکن یا کسی کی مدد کی ضرورت کے بغیر علاج کرنے کے قابل بناتا ہے تاکہ اسے برقرار رکھنے کے لیے ایئر ڈیوائس کو مسلسل پمپ کیا جا سکے‘‘۔اسماعیل نے کہا کہ خودکار سانس لینے والے کو بوسٹن، امریکہ میں ہارورڈ میڈیکل اسکول نے قبول کیا ہے۔ انہوں نے کہا’’میں نے ہارورڈ میڈیکل سکول سے ایک شناختی سرٹیفکیٹ حاصل کیا اور اس خودکار سانس لینے والے ماڈل کی تعمیر کیلئے 5,000 روپے کا نقد انعام حاصل کیا‘‘۔اسماعیل نے کہا کہ’’ جب کووڈکی دوسری لہر اپنے عروج پر تھی اور ہر کوئی آکسیجن کیلئے ترس رہا تھاتو میں نے آکسیجن کنسنٹریٹر کا بلیو پرنٹ تیار کیااور ایک آکسیجن کنسنٹریٹر قائم کیا کیونکہ کووڈوبائی مرض کی وجہ سے اس کی زبردست مانگ تھی۔ اس طرح میں نے سوچا کہ اگر کوئی کمپنی اسے یہاں تیار کرنا شروع کر دے تو میں نے ایک منصوبہ بنایا‘‘۔اسماعیل نے کہا کہ پہلے بھی الیکٹرانک پروٹو ٹائپ کا تنوع پیدا کیا ہے۔ عوام اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد کے ذریعہ ان کے کاموں کی بڑے پیمانے پر قدر کی گئی ہے۔اس

ماعیل نے 2019 میں اپنے بڑے بیٹے ڈاکٹر جمشید کی کینسر سے موت کا تجربہ کیا، لیکن اس سے ان کی اختراعی طبیعت نہیں رکی۔ اب ان کے مرحوم بیٹے کے کئی دوستوں نے بانڈی پورہ میں ان کی رہائش گاہ پر 5 لاکھ مالیت کی ان سیٹوFab Lab قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسماعیل نے کہا کہ اس نے اپنی پہلی ایجاد 2008 میں کی تھی جب اس نے فائر الارم کی تنصیب کے ساتھ موشن سینسر کے ساتھ لالٹین تیار کی تھی۔اسماعیل نے حال ہی میں روایتی کشمیری موسم سرما کے گرم کرنے والے آلہ کانگڑی میں ترمیم کی اور اس کی پیداواری صلاحیت کو بڑھایا، جس سے یہ کسی بھی قسم کے موسم میں استعمال کیلئے موزوں ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ صرف سردیوں کے استعمال تک محدود نہیں رہے گی بلکہ گرمیوں کے موسم میں اسے کولنگ سسٹم کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔اسماعیل مختلف قسم کی حالیہ ایجادات پر بھی کام کر رہا ہے۔انکاکہنا ہے’’میں اپنے حصے کی کوشش کر رہا ہوں کہ جو کچھ بھی ممکن ہو اس سے معاشرے کو فائدہ پہنچے۔ تخیل اور تخلیقی صلاحیتیں دو ایسی صلاحیتیں ہیں جو آج کے معاشرے میں انتہائی قابل قدر ہیں ‘‘۔انکامزید کہناتھا’’ہمارے پاس ایک ایسا ماحول ہے جو ایجاد کو پاگل پن کا نام دیتا ہے، لیکن میں اپنی ایجادات میں مگن ہوں اور کوشش کروںگا کہ انسانیت کیلئے مزید کچھ ایجادات کرسکوں ‘‘۔