بامنو تصادم 27گھنٹے کے بعد ختم،3جنگجو جاں بحق

  پلوامہ //بامنو پلوامہ میں فورسز اور جنگجوئوں کے مابین 27گھنٹے تک چلے خونریز تصادم میں 3 جنگجو جاں بحق جبکہ 3فورسز افسران اور دو اہلکاربھی زخمی ہوئے۔ منگل کو تصادم کے دوسرے روز فورسز اور نوجوانوں کے مابین جھڑپوں میں مزید 25 افراد زخمی ہو گئے۔ جاں بحق ہوئے جنگجوئوں میں سے ایک کاجسم پوری طرح سے جھلس گیا تھا ۔ایک جنگجو کو ہلاک کرنے کے لئے فورسز نے5 مکانات کو آگ لگا کر پوری طرح تباہ کر دیا۔ ادھر جنگجوئوں کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جبکہ بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں زبر دست احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ 
تصادم
 فورسز اور جنگجوئوں کے مابین یہ تصادم پیر کی علی الصبح شروع ہوا اور پیر کی شام تک دو جنگجو جاں بحق جبکہ فوج کے 2 میجر،سی آر پی ایف کا ایک سب انسپکٹر اور اہلکار زخمی ہوئے۔طرفین کے درمیان شدید فائرنگ کا  تبادلہ ہوتا رہا اور مارے گئے دو جنگجوئوں کی لاشوں کو بھی نہیں اٹھایا جاسکا۔پیر کی سہ پہر سے تیسرے جنگجو اور فورسز کے مابین شب بھر گولیوں کا تبادلہ جاری رہا۔ اس دوران فوج کے پیرا کمانڈوز نے عبدالرشید وگے، محمد یوسف وگے ، محمد رمضان وگے پسران عبدا خالق ، مختار وگے اور علی محمد وگے کے پانچ رہائشی مکانات کو قریباً صبح پانچ بجے آگ کی نذرکر دیا جس کے ساتھ ہی جنگجو کی جانب سے گولیاں چلنا بند ہوگئیں اور تیسرا جنگجو بھی جاں بحق ہوا۔ جنگجوئوں کی شناخت کفایت احمد ساکن بامنو ، جہانگیر احمد ساکن کیلر اور اختر عالم عرف طیب ساکن ریاسی کے طور ہوئی ۔ اس کے بعد کئی گھنٹوں تک تلاشی کارروائیوں کے بعد قریباً ایک بجے تینوں جنگجوئوں کی لاشوں کو باہر نکالا گیا۔ تاہم ان میں سے ایک مقامی جنگجو کفایت احمدکی لاش پوری طرح سے جھلس گئی تھی کیونکہ کفایت ہی رات بھر فورسز کیساتھ لڑتا رہا ۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ فورسز نے گزشتہ شب ساڑے دس بجے عبدالرشید وگے کا مکان آگ کی نذر کیا جس کے بعد محمد یوسف کے گھر سے فائرنگ ہوئی۔ اس کے بعد فورسز نے اس کو بھی گن پاوڈر چھڑک کر آگ لگا دی۔ جنگجو بعد میں محمد رمضان کے گھر میں داخل ہوا۔ اس مکان کو بھی دھماکوں سے اڑا دیاگیا۔  اس کے بعد فورسز نے  ملبہ کو ہٹانا چاہا تو اس جنگجو نے فائرنگ کی جس سے تین اہلکا ر زخمی ہوئے، اور آخر میں فورسز نے مختار احمد کا مکان بھی نذر آتش کیا۔ قریب دو بجے تک فورسز نے یہاں پڑے ملبے میں تلاشی جاری رکھی۔ تاہم اس دوران لوگوں کی جانب سے بے تحاشا پتھرائو کی وجہ سے فورسز نے واپسی کی راہ لی۔ جس کے بعد دونوں مقامی جنگجوئوں کو وارثین کے سپرد کر دیا گیا جبکہ تیسرے جنگجو کو اس کے آبائی گھر ریاسی روانہ کیا گیا۔ ادھر بامنو اور اس کے آس پاس دیہات میں جھڑپوں میں کم از کم 25 افراد زخمی ہوئے ۔ اس طرح 27گھنٹے تک تصادم کے دوران کم از کم 55افراد زخمی ہوگئے۔ بی ایم او کیلر ڈاکٹر سنا اللہ نے بتایا کہ کیلر اسپتال میں دس زخمیوں کو لایا گیا جنہیں پیلٹ لگے تھے اور ان میں نوزخمیوںکا اسپتال میں ہی علاج کیا گیا جبکہ ایک کو سرینگر منتقل کیا گیا۔ ادھر جوں ہی ان جنگجوئوں کی میتوں کو ان کے آبائی گائوں پہنچایا گیا تو دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہوئے  اور آزادی کے حق میں زبردست مظاہرے کئے۔ لوگوں کی بھاری تعداد کے سبب جہانگیر احمدکی پانچ بار نماز جنازہ ادا کی گئی۔کفایت احمد کے جنازے میںبھی ہزاروں لوگو ںنے شرکت کی جبکہ اس سے قبل یہاںزبردست احتجاجی مظاہرے ہو ئے جس میںمردو زن اور بچوں نے حصہ لیا۔ اس واقعہ کے باعث پلوامہ اور دیگر ملحقہ علاقوں میں مکمل ہڑتال کی گئی اور بعض مقامات پر پتھرائو اور شلنگ بھی ہوئی۔