بال تراش غائب !

  ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں کو عرصہ ٔدراز سے یکے بعد دیگرے کسی نئی آفت ، نئی سازش، نئے فتنے ،اور نئی آزمائش سے سابقہ پڑتا رہتاہے۔ سبب یہ ہے کہ آبادی کا یہ کثیر حصہ اپنے بنیادی حق کی خاطر سات دہائیوں سے متواتر برسر پیکار ہے۔ ان لوگوں کو اس بنیادی حق سے با زر کھنے کے لئے ارباب ِاقتدار عوام کے خلاف نت نئی سبیلیں نکال کر انہیںڈرانے دھمکانے، طاقت کے بل پر ہراساں کر نے ، پابند سلاسل رکھنے ، پیلٹ و بُلٹ سے ان کی زبانوں پر تالے لگانے جیسے غیر جمہوری و غیر انسانی حربے بھی تواتر کے ساتھ آزماتے جا ر ہے ہیں ۔ نوے کی ڈائن اور اب بال تراش جیسے اوچھے حربوں سے نہتوں کو فسطائیت کی نہ صرف بھینٹ چڑھایا جاتا رہاہے بلکہ اُن کی نفسیات طور بھی پسپا کر نے کا رقص نیم بسمل کیا جاتا رہا ہے تاکہ خوف و دہشت کے ماحول میں وہ اپنے قومی کازسے ا س قدرمنحرف ہوں کہ اصل مسئلے کے حل کی مانگ بھول جائیں۔ اسی مذموم سلسلہ کے چلتے حال ہی میں کشمیر کی عفت مآب خواتین کو براہِ راست نشانہ بناکر ایک سو سے زائد دختران ِ کشمیر کی چوٹیاں کا ٹی گئیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ یہ شیطانی ہتھکنڈہ وقت گزرنے کے ساتھ بے اثر ثابت ہواکیونکہ لوگوں نے صبر و ثبات اور ہمت سے کام لے کر اس بلا کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور دشمن کے مذموم مقاصد کو پیوند خاک کر کے رکھ دیا۔
  بہر حال زندہ قوموں کی ایک نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماضی کوبھلاتے ہیں نہ حال و مستقبل کو کو فراموش کر تے ہیں۔ وہ گزرے ہوئے زمانے سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنے  روشن مستقبل کا خاکہ کھینچتے ہیں۔ اس تناظر میں مستورات کی جبری گیسوتراشی کی حالیہ لہر سے بھی کشمیری قوم کو سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔کچھ اہم نقطے اس حوالے سے پیش خدمت ہیں۔ اول غور کرنے کے لائق بات یہ ہے کہ کہنے کو ریاست جموں و کشمیر میں ہزاروں کی تعداد میں غیر سرکاری تنظیمیں کام کر رہی ہیں، لیکن یہاں کی عورتوں کے عزتِ نفس کے تحفظ کی بات جب آئی تو اُن کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ ا س بار انہوں نے الل ٹپ عو رتوں کے حقوق کے حوالے سے جو چپ سادھ لی وہ اس حقیقت کی داستان سرائی کر تی ہے کہ یہ لوگ اصل میں کن ایجنسیوں کے پے رولوں پر ہیں ۔ ورنہ جب یہاں کی عورت ذات عدم تحفظ سے کراہ رہی تھی یہ تنظیمیں کیونکر اس پکارکو نظر انداز کر تیں ، ان کی اَن سنی اس انداز سے کر تیں جیسے یہاں کچھ ہو ہی نہیں رہاتھا ۔ ہمیں کوئی گلہ نہیں کہ ارباب اقتدار نے یہ کیوں بکا کہ یہ پُراسرار معاملہ کشمیر میں ہسٹریا (یعنی پاگل پن) کی لہر ہے لیکن تقدیس نسواں کی لوریاں گانے والوں اور عورتوں کی عریانیت کو اُن کی آزادی جتلانے والی تنظیموں سے پوچھا جاسکتا ہے کہ تم نے ہر وقت ’’ عورت عورت ، آزادی آزادی، حقوق حقوق ، مساوات مساوات‘‘ کے نعرے لگائے، عورت کی حالت زار پر مگر مچھی آنسو بہائے ، چا دراورچار دیواری کے تقدس کو غلامی کہنے کے فلسفے  بگارے، بڑی بات تو تب تھی جب کشمیر کی مظلوم بیٹیاں اپنے تحفظ کے لئے چلّاتی تھیں تم ان کی مدد کو آتے، مگر تم نے ان کو نظر انداز کیا کیونکہ تمہیں خدشہ تھا کہ اگر اس مسئلے پر ہم نے تھوڑی سی بھی زبان کھولی تو غیبی ہاتھوں کی کرم فرمائی رُکے گی اور ہم ان کی چھتر چھایہ سے محروم ہوں گے ۔ ان این جی اوز کے بر عکس یہاں کے حریت پسند نوجونوں کاہی یہ کمال ہے کہ جنہوںنے گلی کوچوں اور محلوں میں رات رات بھر پہرہ دے کر اپنی مائوں بہنوں اور بیٹیوںکے تحفظ کو فرض عبادت کا ہم پلہ سمجھا۔ یہ نوجوان تقدیس نسواں کے ضمن میں کسی بھی نتیجے کو بھگتنے کو تیار تھے کیونکہ یہ اسلام کا درس ہے کہ مال و جان اور عزت و عصمت کی حفاظت کرتے ہوئے اگر کوئی اپنی جان بھی گنوا بیٹھے تو وہ اللہ کے ہاں شہید ہے۔ مرحبا ان نوجوانوں کے لئے اور افسو س ان نام نہاد این جی اوز پر !
دوم یہاں کا نظام ِ سیاست ماورائے عقل وانصاف ہے۔ حکومتی منصبوں پر براجمان خواتین و حضرات ریاستی عوام کی فلاح و بہبودی، امن پروری اور سماجی ترقی کے درس دیتے تھکتے نہیں، لیکن یہی لوگ نادیدہ ہاتھوں کے ایماء پر اپنے ہی عوام کی زندگیاں اجیرن بنا نے سے نہیں رکتے ۔ ایک طرف خواتین اپنی عصمت و عفت بچانے کی خاطر یہاں کے حکمرانوں اورکشمیر پولیس سے احساس ِتحفظ مانگ رہی تھیں، ہرسُو سراسیمگی کا ماحول برپاتھا، پریشانی کے عالم میں ہر کوئی مدد مدد کی صدائیں لگا رہا تھا، دوسری طرف عوام کی چیخ و پکار پر کرسی والے کوئی ٹھوس حکمت عملی اپنانے کے بجائے ا س صورت حال کو’’ لوگوں کی نفسیاتی بیماری‘‘ سے تعبیرکر رہے تھے۔ یہ وہی سیاسی جگادھری ہیں جو پُر آشوب حالات میں ’’ بیٹی بچائو ، بیٹی پڑھائو‘‘ کے نعرے دیتے ہیں۔ آپ ا س شرم ناک تضاد کو کیا نام دینا چاہیں گے ؟ 
 سوم اسلام اجتماعیت کو پسند ہی نہیں کرتا بلکہ یہ اس کی روح میں رچی بسی ہے۔ انسان اس دنیا میں اکیلا آتا ہے لیکن اسے دوسرو ں کے آسرے کی وقت وقت پر ضرورت پڑتی ہے۔ یہ ہمہ وقت ضرورت انسان کے معاشی مسائل حل کرنے میںہی مدد گار ثابت نہیں ہوتی بلکہ اُس کے سماجی اور نفسیاتی تقاضے بھی اسی وساطت سے پورے ہوتے ہیں ۔ انسان اگر کبھی یہ سوچ بیٹھے کہ وہ اپنی ذات کی بساط پر مختارکل ہے، تو وہ اپنی ہی فطرت سے بغاوت کر کے بہت سی الجھنوں کا شکار ہو گا۔ گیسو تراشی کے حالیہ دلخراش واقعات کے تناظر میں یہ دیکھا گیا کہ دیہات کے مقابلے میں شہراور قصبوں میں ا س نوع کے واقعات زیادہ وقوع پذیرہوئے۔ اس کا ایک سبب یہ بھی مانا جائے گا کہ شہر و قصبہ جات کے مقابلے میں دیہات میں اجتماعیت اورا یکتا کا عنصر زیادہ ہوتاہے، لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ ملنا جلنا زیادہ ہوتا ہے، ایک دوسرے کی خبر گیری معمولات زندگی میںشامل ہوتی ہے،اس سے وہ ایک دوسرے کے رکھوالے اور خیرخواہ بھی بن جاتے ہیں اور ضرورت  پڑنے پر ایک دوسرے کی مدد  میںبھی پیش پیش رہتے ہیں ۔ شہر باشوں اور قصبہ جات میں بھی اس پُر اسرار مگر ننگ انسانیت آوپریشن کے دوران لوگوں نے ایکا کیا مگر دیہات کے مقابلے میں ان میں تسلسل اور یک جہتی تھوڑا کم نظر آئی۔ ا س سلسلے کو خود اپنے اجتماعی مفاد میں آئندہ سنجیدہ لیا جائے تاکہ کسی بھیڑیئے کو انسانوں کی بستی میں بھول کر بھی جا نے کی ہمت نہ ہو ۔
رابطہ9622939998
ای میل[email protected]