بال بھوت۔۔۔ غبارے سے ہوا نکلے گی!

کشمیری خواتین کے جبری گیسو تراشی کے بڑھتے ہوئے دلخراش واقعات کے پیش نظر فی الوقت وادی میں ہر سو پریشانی اور حیرانی کا عالم بپاہے اور چہار سوافراتفری اور ذہنی انتشار کا ماحول گہرا اور وسعت پذیر ہوتا جارہا ہے ۔اس  پُر اسرار آوپریشن نے واقعی شمال وجنوب میں جہاں عام لوگوں کو سکتے میں ڈال دیا ہیں ،وہیںمین سٹریم جماعتوں سے لے کر مزاحمتی خیمے تک اور مذہبی جماعتوں سے لے کرملازمین انجمنوںتک ، سب بیک زبان اس طرح کے مذموم واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کشمیری خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں مگرتادم تحریر صدابصحرا ثابت ہورہی ہے۔ وادیٔ کشمیر میں آئے روز عفت مآب بہنوں اور بہو بیٹیوں کی جبری بال تراشی کے خلاف پر تشدد احتجاجی مظاہرے بھی ہورہے ہیں ، لوگ اس کا الزام خفیہ ایجنسیوں پر دھر رہے ہیں جب کہ انتظامیہ اس بارے میں مفلوج اور حکمران بے دست و پانظر آر ہے ہیں جیسے ان کی نگاہ میں یہ کوئی ایسا معاملہ ہی نہیں جس پر ہنگامی بنیادوں پرکوئی قدغن لگانے کی ضرورت ہو ۔پولیس نے  ہفتہ عشرہ قبل اعلانیہ تصدیق کی تھی کہ خواتین کے بال کترائی کے واقعات کی تعداد ایک سو سے تجاوز کر چکی ہے ، اس کے بعد سے جو مزید واقعات رونما ان کو جوڑیئے تو ہو ش اڑجاتے ہیں ۔ تادم تحریریہ مشکوک الحال واقعات سب سے زیادہ جنوبی ضلع کولگام میں پیش آئے،ان کی تعداد26؍ہیں،جب کہ شوپیاں میں3؍اور اسلام آباد(اننت ناگ) میں10؍پلوامہ میں ایسے 9؍واقعات پیش آئے۔ وسطی کشمیر کے بڈگام میں13؍خواتین اور ایک امام مسجد کے علاوہ گاندربل میں 6؍ اور گرمائی دارالحکومت سرینگر میں17؍واقعات رونما ہوئے ہیں۔شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ میں3؍اور بارہمولہ میں8؍واقعات پیش آئے۔ وادی میں اس صورت حال سے خوف وہراس کا ماحول پایا جاتا ہے ، وہیں پولیس اور دیگر سلامتی ایجنسیاں مجرموں کا سراگ لگانے میں پوری طرح عدم دلچسپی دکھا رہی ہیں ۔ کہنے کو وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی ہدایت پر خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں قائم کی گئی ہیں مگر بے سود اور متاثرین کے لئے معا  لجین کی خدمات بھی بے سود ثابت ہو رہی ہیں۔اس بیچ ایک نئی بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب کئی پولیس افسران نے بلا تامل گیسو تراشی کے واقعات کو’’ حواس باختگی‘‘(mass hysteria  ) کا نام دے کے سارے معاملے کو شورش زدہ خطوں میں’’ اجتماعی دیوانگی‘‘ کے تناظر میں دیکھنے کی ناقابل فہم وکالت کی ۔ اس پر حسب ِتوقع ایک تیکھا عوامی ردعمل سامنے آیا ۔ اس سرکاری نقطہ نظر سے باور ہوتا ہے کہ اربا ِب اقتدار بال کاٹنے کے شرم ناک سلسلے میں کوئی جرم یا گناہ ڈھونڈنے کے بجائے اس کا الزام عوام کے سر ہی ڈال کر اپنی پنڈچھڑاتے ہیں ۔ جموں و کشمیر میں خواتین کی جبری گیسو تراشی کو ہسٹیریا اور پیار محبت کا چکر قرار دینے والی ریاستی پولیس کے اس موقف کے بے تکے پن کلام کی بہت گنجائش ہے ۔ وادی میں ماہر نفسیات نے بھی  اسے ماننے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ قریب 100سے زائدواقعات رونما ہوئے ہیں مگر متاثرین میں سے کسی ایک نے بھی ذہنی امراض کے مخصوص اسپتالوں میں علاج و معالجہ کے لئے کسی بھی نفسیاتی ماہر کی رائے طلب نہیں کی، جو اس بات کی تر دید ہے کہ وادی میں گیسو تراشی ’’Mass Hysteria‘‘ ہے۔ ماہر نفسیا ت مانتے ہیں کہ متاثرہ خواتین کا ہسٹریا کی شکایت میں مبتلا ہونا قطعی طور نا ممکن ہے۔ اب اگر فرض بھی کیا جائے کہ شورش زدہ خطوں میں ’’اجتماعی دیوانگی‘‘ کے امکان ہوسکتے ہیں تو پھر وزیر اعلیٰ جو یونیفائیڈ کمانڈ کونسل کی سربراہ بھی ہیں، نے کس بنیاد پر خواتین کی گیسو تراشی کے پیچھے اصل محرکات کو بے نقاب کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔وزیر اعلیٰ کے حالیہ ٹویٹ میں کہا ہے کہ’’ریاست میں خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے واقعات سے اجتماعی دیوانگی پیداکرنے کی کوشش ہے جس کے ذریعے بنت حوا کے تقدس کو پامال کیا جارہا ہے ‘‘  اس سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جبری گیسو تراشی کو نام نہاد ہسٹیریا کے تناظر میں نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے طور دیکھنے اور انہی خوط پر انسدادی کارروائی کی ضرورت ہے ۔   
مبصرین کہتے ہیں کہ اگر بقول پولیس گیسو تارشی کے واقعات کو Mass Hysteria یعنی حواس باختگی سے تعبیر بھی کئے جائیں جو شورش زدہ خطوں میں پھوٹ پڑتی ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جموں وکشمیرگذشتہ 30؍برسوں سے مجموعی طور پر بدترین کانفلیکٹ سے بالعموم جھوج رہی ہے مگر بالخصوص کپوار،سوپور پلوامہ اور ترال سب سے زیادہ ظلم وجبر اور انسانی زیادتیوں کے شکاررہے ، وہاں پر فرضی ہسٹڑیا ہونے کے زیادہ امکان ہونے چاہئے تھے تاہم ایسا نہیں دیکھا جارہا بلکہ بال کٹائی کے سنگین واقعات ان مقامات میں بہت کم وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ یہ بین حقیقت صاف طور پر ہسٹیریا ئی تھیوری کی نفی کرتی ہے ۔ ٹھیک ہے خواتین کے بال تراشنے کے واقعات ابتدائی طور بہار ،پنجاب،اتر پر دیش اور ہریانہ وراجستھان میں پیش آئے لیکن بعد میں یہ وبا بن کر جموں سے گرزتے ہوئے کشمیر میں داخل ہوئے، جہاں یہ لوگوں کے اوسان ہی خطا نہیں کر رہے بلکہ ان کی غیرت کو للکارتے ہوئے انہیں اجتماعی عذاب سے دوچار کر رہی ہے ۔ اب اگر ہم پولیس کا یہ دعویٰ مان بھی لیں کہ یہ خطہ ہائے مخاصمت میں ماس ہسٹیریا کا شاخسانہ ہوتاہے تو اُترپردیش میں بال کترنے کے جو واقعات پیش آئے ، پھر کیا ہم یوپی کوبھی بھارت کا شورش زدہ خطہ مان لیں ؟بالکل نہیں ۔ بہر حال کشمیر کی عفت مآب بیٹیوں کے جبری طور بال کترنے کے حوالے سے پولیس ورشن سے بھی ایسے کسی بھی تیز دھاروالے چاقو یا قنچی کا انکشاف نہیں ہوا جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکے یہ’’ ذہنی مرض‘‘ کی شکایت ہے ۔
بہر حال خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے واقعات میں پولیس کا اب تک کا رول ڈانواں ڈول رہا ہے،اور اتنے سارے واقعات کے باجود بھی پولیس کے ہاتھ میں کوئی بھی سراغ نہیں ۔ کیوں نہیں ہے ، یہ ایک معمہ ہے سمجھنے اور سمجھانے کا۔ پولیس کے انسپکٹر جنرل کشمیر منیر احمد خان نے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ 92؍فیصد بال کترنے کے واقعات گھر کی چار دیواری یعنی بند کمروں میں رونما ہوئے ہیں جب کہ صرف8؍فیصد واقعات راہ چلتے ہوئے متاثرین کو پیش آئے ہیں جس میں کوئی نقاب پوش متاثرہ خاتون پرسپرے پھینک کر ان کے بال کاٹنے کے بعد فرار ہو جاتا ہے۔اس کے باعث پولیس کو تحقیقات میں رکاوٹیں پیش آرہی ہیں ،اور بند کمروں میں پیش آئے واقعات کے ضمن میں متاثرہ خواتین پولیس کو تحقیقات میں کسی بھی طرح کی مدد دینے کے لئے تیار نہیں ۔ اب اگر یہ مان لیا جائے کہ خواتین کے بال کترنے میں وردی پوش ہی ملوث ہیں تو کیا متعلقین کو اس سے موقع فراہم نہیں ہوتا کہ وہ کھل کر اپنا گھناؤنا کھیل کھیلے؟اس کے برعکس اگر پولیس کو تعاون فراہم ہوتا تو ان کے پاس جبری گیسو تراشی کو اجتماعی جنون سے جوڑنے کا کوئی جواز نہیں رہتا ۔ بہرحال اس پیچیدہ اور پُر اسرار معاملے میں کئی باتیں قابل غور ہیںکہ ایسے دلدوز واقعات ان کالونیوں میں کیوں رونما نہیں ہورہے جہاں سر کردہ سیاسی و انتظامی چہرے سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں ؟صرف ایسے حساس مقامات ہی اب تک کیوں نشانہ بنے جو مزاحمتی جدوجہد کے حوالے سے آئے روز افراتفری اور تشدد کی زد میں رہتے ہیں ۔ مزید برآں غور طلب ہے کہ اب تک ومیں رہ رہی کسی ایک بھی غیر مسلم اور غیر ریاستی خاتون مزدور یا گداگرکو ایسی کوئی گزند بال بھوتوں کے ہاتھ نہ پہنچی ۔ ہم دعا کر تے ہیں کہ کشمیر میں اللہ انہیں محفوظ رکھے مگر اس پیٹرن سے صاف طور پر مترشح ہوتا ہے کہ کچھ مشکوک لوگ اور غیبی ہاتھ ہیں جو ایک سوچی سمجھی جنگی حکمت عملی کے تحت یہ اتیاچار صرف مسلم خواتین کے ساتھ روا رکھنے کا ہدف لئے مسلم بستیوں میں گھوم پھر رہے ہیں ۔ لطف یہ کہ پولیس نے ابتداء میں ہی دستانہ پہنے ہوئے ان مشکوک ا لحال بھال بھوتوں کو قانون کی گرفت میں لانے کے حوالے سے اپنے ہاتھ پہلی فرصت میں کھڑا کرکے ان مجرمین کی تلاش سے دامن سے بچالیا۔اس  نے ان مجرموں کی ’’خبر دینے والے ‘‘کو پہلے تین لاکھ اور پھر رقم دوگنی کرکے چھ لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کرنے پر اکتفاکر کے اس حوالے سے لحاف سر کے اوپر تان دی ۔ اس طرزعمل سے بین السطور پولیس کی جانب سے دوسرے لفظوں میں یہ پیغام عوام میں گیا : لوگو! جبری بال کٹائی کی شامت تم جانو اور تمہارے پیچھے پڑے بال بھوت، ہم تماشہ دیکھیں گے اور جس دن تم نے کسی بال بھوت کو پکڑ کر ہمیں سونپ دیا ہم’’ کون بنے گاکروڑ پتی‘‘ شو کی طرح اپنے کسی وردی پوش امیتابھ بچن کے ہاتھوں تمہیں چھ لاکھ کاچیک تھمادیں گے، لیکن خبردار اگر بال بھوت کسی ایجنسی کا کلبوشن یادیو نکلا تو معاف کر نا پھر تو تمہیں ہی لینے کے دینے پڑیں گے ۔  
 یہ اس ساری رام کہانی کا ایک ایسا دلچسپ ٹرن اور ٹویسٹ ہے جو جرم کے اسکرپٹ کے کرداروں کی پہچان بھی کراتاہے اور ان کے ناپاک مشن کو بے نقاب کر تاہے ۔ بدیں وجہ شروع دن سے عام لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بال کترنے کی اس ذلت آمیز سازش میں خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں اور پولیس اس معاملے کو گول کر نے پر مجبور ہے ۔ کشمیر کے سترسا لہ نشیب وفراز کی تاریخ پر نظر رکھنے والے اہل فکر یہ دلیل پیش کر تے ہیں کہ یہ جنگجوؤں کے خلاف آوپریشن آل اَوٹ کے تحت فوج اور نیم فوجی دستوں کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہوسکتی ہے ۔ بزرگ مزاحمتی لیڈر سید علی گیلانی نے اسی لائین کو اختیار کر کے دوٹوک لفظوں میں کہا ہے کہ ’’ یہ سلسلہ خواتین کی عفت پر حملوں کے مترادف ہے جس پر پولیس مجرمانہ خاموشی اختیار کر رہی ہے، جب کہ ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوئے اور دورانِ شب خوف وہراس پھیلا کر جہاں لوگوں کو بھوتوں کی آمد کے تاثر سے خوف زدہ کیا گیا، وہیں جائیداد وںکو بھی پھونک ڈالا گیا‘‘۔ کیا پتہ سنگھ پریوار کا کشمیر حل یہی ہو کہ کشمیر کے لوگ اگر ہماری آقائیت مان لینے سے منکر ہوں تو ہم ان کو اسرائیلی ٹائپ آوپریشنوں سے منیج کر نے سے دریغ نہیں کریں گے۔ واضح رہے کہ تاریخ کی روشنی میں ہم پختہ یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اب کی بار جبری بال کترنے کے مذموم واقعات کے نتیجے میں کشمیری نوجوانوں میں جو احساس عدم تحفظ پیداہورہا ہے وہ حکومت ہند کے لئے سب سے زیادہ ہزیمت انگیز اور نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے اور عوام میں انڈیا کے تئیں احسا س بیگانگی اور نفرت کا اظہار کڑا رُخ بھی ا ختیار کر سکتا ہے ۔ عین ممکن ہے کہ بال کترنے کا خوف پھیلاکر حکومت ہندکشمیر میں مزاحمتی تحریک کاقافیہ تنگ کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں ملی ٹینٹوں کے لئے حمایت کم کرنے کی اسٹریٹیجی پر عمل پیرا ہو ۔   معاملہ جو بھی موجودہ غیر یقینی حالات کے پس منظر میں مزاحمتی قیادت کے لئے عوام کی تیر بہدف رہنمائی کرنا اس کا فرض اول بنتا ہے ۔عوام جذبات کی نمائندگی کا دعویٰ رکھنے والی لیڈرشپ پر لازم ہے کہ وہ اس صورت حال کے مضمرات کا سنجیدہ جائزہ لے کر ایک جامع مدافعانہ حکمت عملی اختیار کرے تاکہ انتشار کے عالم میں خفیہ دشمن اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہ ہوپائے ۔ اس سلسلے میں ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کے علاوہ مزیداقدامات کے منتظر ہیں ۔
اس بات سے بھی قطعی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کشمیر درپردہ جنگ کا ایک اکھاڑہ بن چکا ہے جہاں متحارب قوتیں ایک دوسرے کے خلاف ہر طرح کے اوچھے حربے استعمال کر تے ہیں اور انہیں اس بات کی کوئی پرواہ یا فکر نہیں کہ چکی کے دوپاٹوں کے بیچ میں اہل کشمیری کے سروں ،عزتوں اور آبرؤں کی کتنی بھاری قیمت ادا ہو رہی ہے اور ان عناصر کے سامنے ہمارا سووزیاں نہیں بلکہ اپنا جمع تفریق کا  بہی کھاتہ رہتاہے ۔اس ساری گھمبیر صورت حال میں کئی ایک حلقے یہ مانتے ہیں کہ قوم ذرا ساہوش وحواس اور ایک متحدہ قوت کے ساتھ از خود چوٹیاں کاٹنے والے راکھشسوں کے گریباں تک پہنچنا چاہے تویہ کوئی مشکل کام نہیں لیکن اس کے لئے ثابت قدمی ، حاضر دماغی ، مثبت سوچ اور نتیجہ خیز عمل لازم وملزوم ہے ۔ عوام کوبال کترنے کے حوالے سے ارباب حل وعقد سے کوئی آس لگانے کے بجائے ہنگامہ آرائیوں اور بے صبری کے بغیرایک جامع دفاعی لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا جس کے تحت ہر قصبے ،گائوں اور محلے میں ذی شعور لوگوں کی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو ایک بھر پور حکمت عملی کے تحت نہ صرف دن رات بستیوں کی نگرانی ممکن بنائیں بلکہ خواہ مخواہ غیر متعلقہ افراد کی مار کٹائی سے پرہیز کریں۔اگر یہ کام فوری طور نہ کیا گیا تو دشمن کایہ قابل نفرین مشن یوں ہی جاری رہے گا اور کشمیرایک ایسے طوفان کی زد میں آجائے گا جس میں لوگوں کو تادیر پتہ بھی نہیں چلے گا کہ بھنور کدھر ہے اور کنارا کہا ں ہے ۔ نیز یاد رکھئے کہ بال بھوتوں کا یہ ننگ ِانسانیت مجرمانہ بھرم زیادہ دیر تک یہاں اپنے قدم نہیں جماسکتااور اس غبارے سے دیر سویر ہو انکلے گی کیونکہ اہل کشمیر گزشتہ ستائیس سال کے طویل عرصہ میں مشکلوں، تنگنائیوں اور حالات کی نامساعدتوں میں بھی زندگی کا سفینہ بپھری لہروں پر چلانے کے فن سے آشنا ہوچکے ہیں۔ 
 نوٹ: مضمون نگار ’’کشمیر عظمیٰ‘‘ سے وابستہ ہیں
فو ن نمبر9797205576