بالاکوٹ اور منکوٹ میں فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ

  مینڈھر//ہند وپاک افواج کے درمیان حد متارکہ پر گولیوں کی گن گرج جاری ہے اورتازہ واقعہ میں مینڈھر کے بالاکوٹ اور منکو ٹ سیکٹر وں میں فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہو اجس کے نتیجہ میں ایک مکان تباہ ہواجبکہ متعدد مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب دونوں ملکوں کے افواج کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا جس کے دوران دونوں اطراف سے خود کار اور درمیانی درجے کے ہتھیاروں کا استعمال کیاگیا۔فائرنگ کا یہ سلسلہ لگ بھگ تین گھنٹے جاری رہاجس دوران اگر چہ کسی طرح کا کوئی انسانی جانی نقصان نہیں ہواالبتہ مقامی آبادی سہم کر رہ گئی ۔مقامی ذرائع کے مطابق اس دوران ایک رہائشی مکان گولہ باری کی زد میں آکر تباہ ہوااوراس کے اندر باندھے گئے کئی مویشی ہلاک ہوگئے ۔یہ مکان محمد فیض ولد با غ حسین سکنہ سندوٹ کا تھا جس پر ایک مارٹر شیل آن گراجس کے نتیجہ میں پورا مکان تباہ ہوگیا اور پانچ سے چھ مویشی ہلاک ہوگئے ۔دفاعی ذرائع کے مطابق پاکستان کی طرف سے شروع کی گئی فائرنگ اور گولہ باری کا بھارتی فوج نے بھی بھرپور جواب دیا ۔ یا درہے کہ جمعرات کو دن بھر بالاکوٹ، منکو ٹ اور مینڈھر سیکٹر میں دونو ں افو اج کے درمیان گو لہ با ری کا تبا دلہ ہوا جس دوران دو رہا ئشی مکان تباہ ہو گئے جبکہ ایک مو یشی خانے کو بھی نقصان پہنچا۔ تا زہ گو لہ با ری سے علاقہ میں خو ف و ہر اس پیدا ہوا ہے اور لو گ اپنے گھرو ں سے با ہر نہیں نکل رہے ۔ مقامی لوگوںنے امن کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ان کے بچوں کی تعلیم بری طرح سے متاثر ہورہی ہے ۔
 

شہری ہلاکتوں پر احتجاج

بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر دفتر خارجہ طلب

نیوز ڈیسک
 
اسلام آباد// کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی طرف سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی کے نتیجے میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ایک شہری کی ہلاکت کو لیکر پاکستانی وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں مقیم بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے سخت احتجاج درج کیا۔جمعہ کو پاکستان میں تعینات بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفترِ خارجہ طلب کیا گیا جہاںجنوبی ایشیاء اور سارک امور کے ڈائریکٹر جنرل محمد فیصل نے بھمبر اور سماہانی سیکٹروں میں بھارتی فوج کی گولی باری سے ہوئی شہری ہلاکت پر احتجاج کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول پر فائربندی کی خلاف ورزی کی شدید مذمت کی۔پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے دانستہ طور پر شہریوں کو نشانہ بنانا قابلِ مذمت اور انسانی اقدار اور حقوقِ انسانی کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر پر زوردیا کہ نئی دلی کو ہندو پاک میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو جموں کشمیر کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی اجازت دینی چاہئے۔ان کا کہنا تھا’’بھارت کی طرف سے سیز فائر کی خلاف ورزی علاقائی امن اور سلامتی کیلئے ایک خطرہ ہے جس کے باعث سٹریٹجک اعتبار سے غلط اندازے لگائے جاسکتے ہیں‘‘۔