بالاکوٹ اورمنکوٹ تحصیلیں امتیازکاشکار

مینڈھر//نیشنل کانفرنس لیڈرو سابقہ ایم ایل سی ایڈووکیٹ رحیم داد نے سرحدی تحصیل بالاکوٹ اور منکوٹ میں کالج کے قیام کومنظوری نہ ملنے پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے اسے علاقہ کے ساتھ ناانصافی قراردیاہے۔یہاںجاری پریس بیان میں این سی لیڈروسابقہ ایم ایل سی ایڈوکیٹ رحیم دادکاکہناہے کہ بالاکوٹ اورمنکوٹ تحصیل میں کالج کاقیام نہ ہوناعوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دو دن پہلے جب انہوں نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک سے ملاقات کی تو اُنہوں نے حیرانگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اتنے حساس سرحدی تحصیلیں بالاکوٹ اور منکوٹ کے لئے کالج کھولنے کے لئے کسی بھی صاحبِ اقتدار نے آواز نہ اُٹھائی اس دوران ایڈووکیٹ داد نے گو رنر سے مخاطب ہو کر کہا کہ بالاکوٹ اور منکوٹ دونوںعلاقے اکثر گولہ باری کی زد میں رہتے ہیں اور ڈگری کالج مینڈھر ان علاقہ جات سے کوسوں دور ہے جہاں  ان سرحدی علاقوں کے بچوں کو جانے بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہاں کی عوام زیادہ تر غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرتی ہے اور ان سرحدی علاقہ جات میں تمام تر بنیادی سہولیات کا فقدان پایا جاتا ہے۔ایڈووکیٹ رحیم داد نے ریاستی گورنر سے پرزور مطالبہ کیا کہ ان دونوں سرحدی تحصیلوں میں کالج قائم کئے جائیں تاکہ یہاں کے مظلوم عوام اپنے بچوں کو اسانی کے ساتھ تعلیم سے آراستہ کر سکیں اور مزید اُنہوں نے اُنہوںنے کہا کہ سرحدی پٹی پر آباد عوام کو تمام تر بنیادی سہولیات میسر کروائی جائیں ،ایڈووکیٹ رحیم داد نے کہا کہ ریاستی گورنر نے مجھ اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ جلد سے جلد ان کالجوں کے لئے علاقہ سے رپورٹ طلب کر کے غور کیا جائے گا۔