بالائی علاقوں میں تازہ برفباری

راجوری //خطہ پیر پنچال کی بالائی علاقوں میں ہوئی تازہ برفباری کے بعد راجوری اور پونچھ اضلاع کے اندرونی علاقوں میں سیکورٹی کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔انٹیلی جنس اور سیکورٹی ایجنسیوں کو خدشہ ہے کہ پہاڑی علاقوں میں ہوئی تازہ برفباری کے بعد پہاڑیوں سے راستہ بھی بند ہوگیا ہے جس کی وجہ سے جہاں عسکریت پسندوں کی جانب سے تازہ درانداز ی کی کوششیں کی جاسکتی ہیں وہائیں ملی ٹینٹ راستے بند ہونے کی وجہ سے زیادہ وقت اندرونی علاقوں میں گزار سکتے ہیں ۔ہر سال اکتوبر سے نومبر کے درمیان کا عرصہ راجوری اور پونچھ اضلاع کیلئے اندرونی سیکورٹی کے لحاظ سے ہمیشہ حساس سمجھا جاتا ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ راجوری اور پونچھ کے بالائی علاقوں میں تازہ برف باری ہوئی ہے جس کے ساتھ زیادہ تر پہاڑی راستے بند ہو گئے ہیں جبکہ باقی ماندہ راستے آنے والے دنوں میں بند ہونے کی امید ہے اور یہ ہمیشہ سے ایک معمول رہا ہے کہ ان ماہ میں دراندازی کی کوششیں بڑھ جاتی ہیں اور عسکریت پسند تنظیمیں پہاڑی راستوں کے مکمل طور پر بندہونے سے پہلے زیادہ سے زیادہ دراندازی کی کوشش کرتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ برف باری کے پیش نظر لائن آف کنٹرول پر پہلے ہی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ اندرونی علاقوں کی سیکورٹی کو مزید بڑھا دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان دنوں دراندازی کی کسی بھی تازہ کوشش کی صورت میں، دراندازی کرنے والے عسکریت پسندوں کو راجوری اور پونچھ میں زیادہ وقت گزارنا پڑے گا کیونکہ پہاڑی علاقوں میں بند راستوں کی وجہ سے ان کی نقل و حرکت کیلئے کچھ ہی راستے باقی رہتے ہیں ۔ایسے حالات کی وجہ سے ایک ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے جس میں عسکریت پسند پیر پنجال میں زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ سرکاری ذرائع نے مزیدبتایا کہ اس موجودگی کو روکنے اور اس طرح کے عسکریت پسند گروپ کا کامیابی سے سراغ لگانے کیلئے اندرونی سیکورٹی کو مضبوط کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ علاقے پر تسلط، احتیاطی تلاش، فیلڈ انفارمیشن نیٹ ورک کو مضبوط بنانا، اندرونی علاقوں کی حفاظت کو مضبوط کرنے کیلئے اٹھائے گئے کئی دیگر اقدامات میں شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے لائن آف کنٹرول پر دراندازی کی کوششوں میں اضافے کے خدشے کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر پہلے ہی الرٹ جاری کر دیا ہے۔