باز آباد کاری پالیسی کے الٹے نتائج

 کپوارہ//ریاست جمو ں و کشمیر اور مرکزی سرکار کی جانب سے 8سال قبل ہتھیار چھو ڑ کر پاکستان سے واپس لو ٹنے پر سابق جنگجو کے لئے مشتہر کی گئی باز آ باد کاری پالیسی کاایک دہائی عرصہ اب مکمل ہونے کو ہے تاہم 8سال بعد قومی دھارے میں لو ٹ آئے سابق جنگجو اور ان کے افراد خانہ اب ذہنی کو فت کے شکار ہوئے ہیں کیونکہ وادی لو ٹ آنے کے بعد ان کا حال جاننے کے لئے سرکار نے کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی جس کی وجہ سے آج با زآ باد کاری پالیسی کے تحت لو ٹ آئے سابق جنگجو دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں َ۔شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع سے ڈیڑ ھ سو سے زائد وہ کشمیری کنبے بھی ان سینکڑوں سابق کشمیری جنگجو میں شامل ہیں جنہو ں نے پاکستان میں رہنے کے بجائے اپنے گھرو ں میں دو بارہ سے آ باد ہونے کو ترجیح دی اور اپنی پاکستانی بیوی بچو ں سمیت واپس وادی لو ٹ آئے ۔کپوارہ کے ایک دور دراز علاقہ لولاب سے تعلق رکھنے والے ایک سابق جنگجو کی پاکستانی بیوی فوزیہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ اس با ز آ باد کاری پالیسی کی ہوا ہی نکل گئی کیونکہ جب ہم نیپال سے وادی لو ٹ آئے تو انہیں سرحد پر گرفتار کیا گیا جس کے بعد رہائی بھی عمل میں لائی لیکن بعد میں ہمیں خدا کے رحم و کرم پر چھو ڑ دیا گیا ۔انہو ں نے کہا کہ میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع باغ سے تعلق رکھتی ہوں اور کشمیر کے ایک سابق جنگجو سے وہا ں پر شادی رچائی کیونکہ انہو ں نے پہلے ہی بندوق کو خیر باد کہہ دیا تھا اور وہا ں پر دکانداری کر کے اپنے عیال کا پیٹ پالتاتھا تاہم جب ریاست جمو ں و کشمیر کی سرکار نے سابق جنگجو کے لئے واپس گھر لو ٹ آنے کے لئے با زآ باد کاری پالیسی کا اعلان کیا تو میرے شوہر بھی خوشی سے جھوم اٹھے اور فوری طور وادی لوٹ آنے کی تیاری کی ۔انہو ں نے مزید کہا کہ یہا ں آکر ہمیں سر راہ چھو ڑ دیا۔پاکستان سے باز آ باد کاری پالیسی کے تحت وادی لو ٹ آئے وارسن گزریال کے چودھری علی محمد جو سابق جنگجو یونین جنرل کو نسل کے سینئر رکن ہیں نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ میں وہا ں پر دکانداری کر کے اپنے بچو ں کا بہت اچھے طریقے سیخیال راکھتا تھا اور وہا ں پر اپنا مکان بنایا تھا لیکن جو ں ہی سرکار نے سابق جنگجوئو ں کو باز آ باد کاری پالیسی کے تحت عزت سے گھر لو ٹ آنے کا اعلان کیا تو میں سب کو ڑی کے دامو ں پر فروخت کیا اور وادی لو ٹ آ یا لیکن یہا ں آکر ہمیں اپنے بچو ں کا سکولو ں میں دا خلہ لینے کے لئے بھی بہت تکالیف اٹھانے پڑے اور ہماری رہنے کے لئے جگہ دینا دور کی بات ہے ۔چودھری علی کا مزید کہنا ہے کہ باز آ باد کاری پالیسی کے تحت وادی کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے ساڑھے 4سو سے زائد کنبوں کی حالت انتہائی خراب ہو چکی ہے کیونکہ جس وعدے کے تحت انہیں وادی لایا گیا اس کا یہا ں پر کوئی نام و نشان ہی نہیں ۔علی کا مزید کہنا ہے کہ وادی کے پنڈتو ں کو بھی ملک کے مختلف علاقوں میں با ز آ باد کاری پالیسی کے تحت آ باد کیا لیکن ہم نے تشدد کو ترک کر کے امن کی زندگی گزار نے کے لئے سکون کی زندگی گزارنے کی ٹھان لی لیکن یہاں آ کر ہم بر باد ہوگئے کیونکہ نا ہی ہماری پاکستانی بیویو ں کو اپنو ں سے ملنے کے لئے پاسپورٹ فراہم کیا جاتا ہے نا ہی کوئی ہماری مدد کر نے کے لئے تیار ہے ۔ضلع کے ایک اور گائو ں پازی پورہ کی رقیہ ان خواتین میں سے ایک ہے جو جمو ں و کشمیر کی اور مرکزی سرکار کی جانب سے سرینڈر پالیسی کے تحت اپنے شوہر کے ساتھ وادی لوٹ آئی ،انہو ں نے کہا کہ پاکستان چھوٹ جانے والے اپنے میکے اور آزاد فضائو ں کو یاد کرتی ہوں ۔ان کا کہنا ہے کہ جب سابق جنگجو کی بہبودی کے لئے با زآ باد کاری پالیسی کا اعلان کیا گیا تو میرے شوہر نے وادی لو ٹ آنے کی ضد کی جس کے بعد ان کے ساتھ ہم بھی اپنے بچو ں سمیت واپس لو ٹ آئے ۔ان کا مزید کہنا ہے کہ میری جیسی سینکڑوں لڑکیا ں ہیں جنہو ں نے کشمیری سابق جنگجو سے شادی رچائی اور سب ان کے ساتھ وادی لو ٹ آئیں کیونکہ ہمیں بھی یہا ں آنے کا بہت شوق تھا اور میں بھی اپنے شوہر کے ساتھ وادی لو ٹ آنے پر راضی ہوگئی لیکن یہا ں آ کر سرکار کی سر د مہری سے ہم اس قدر مایوس ہوئی ہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ دن کب آئیں گے جب ہم واپس اپنے میکے جائیں گے کیونکہ نا ہی باز آ باد کاری پالیسی پر عمل در آمد کی گئی اور ناہی ہمارے اپنوںسے ملنے کے لئے پاسپورٹ بنتے ہیں اور ایسا لگتا ہے باز آ باد کاری پایسی نے اب دم تو ڑ دیا ہے جس کی وجہ سے ہم اور ہمارے بچو ں کی زندگیا ں بر باد ہوگئی ہیں اور آج ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہم جیل میں بند ہیںتاہم ہم گو ر نر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں وہ با زآ باد کاری پالیسی پر من و عن عمل کر کے ہم اور ہمارے بچوں کے مستقبل کے لئے ضروری اقدامات اٹھائیں ۔