باز آبادکاری منصوبہ

26جنوری کو یوم جمہوریہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جس وقت گورنر ستیہ پال ملک جنگجوئوں کو ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دے رہے تھے، عین اسی وقت گرمائی راجدھانی سرینگر سے چند ہی کلو میٹر کی دوری پر فورسز کے محاصرے میں پھنسے جنگجو ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کا جواب گولیوں سے دے رہے تھے ۔نئے سال کے پہلے مہینے کے اٹھائیس دنوں میں جنگجو مخالف آپریشنوںکے دوران ہوئے معرکوں میں اٹھارہ جنگجو جاں بحق ہوئے اور بیشتر محاصروں کے بعدفورسز نے جنگجوئوں سے ہتھیار ڈال دینے کیلئے کہا لیکن ایک بھی جنگجو نے ہتھیار ڈالنے کی حامی نہیں بھری بلکہ جب بھی اس پیشکش کا اعلان ہوا ، جواب میں گولیاں چلیں ۔اس سے پہلے بھی گزشتہ کئی سال کے دوران کسی بھی جنگجو نے ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کا مثبت جواب نہیں دیا ۔یہ جاننے کے باوجود بھی گورنر ستیہ پال ملک کچھ عرصے سے نہ صرف جنگجوئوں سے تشدد سے باز آکر ہتھیار ڈالنے کی اپیلیں کررہے ہیں بلکہ باز آبادکاری کے ایک منصوبے کا بھی انکشاف کررہے جسے ترتیب دینے کا کام جاری ہے ۔منصوبہ اگرچہ ابھی زیر ترتیب ہے اور اس کی کوئی تفصیل منظر عام پر نہیں آئی ہے تاہم کئی ذرایع سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس منصوبے کے تحت ہتھیار ڈالنے والوں یا جنگجویت چھوڑ کر عام زندگی گزارنے پر آمادہ ہونے والوں کو ماہانہ چار سے پانچ ہزار روپے کی رقم اور پانچ سے چھ لاکھ روپے کی فکسڈ ڈیپازٹ سرٹیفکیٹ ،جو تین سال کے اندر واجب الادا ہو، سے سرفراز کیا جائے گا ۔
گورنر ملک کا یہ منصوبہ سرکاری طور پر اس لحاظ سے ایک بڑی پہل ہے کہ اس سے پہلے کی منتخب حکومتوں نے اس طرح کی کوئی پہل نہیں کی۔منتخب حکومتوں کے دور میں جنگجویت کو ختم کرنے کیلئے کائونٹر انسر جنسی کا تجربہ ہوا ۔ فوج کے اختیارات میں اضافہ ہوا ۔آل آئوٹ جیسے آپریشن ہوئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر وزیر اعلیٰ بار بار یہ جملہ دہراتا رہا کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں، اسلئے نوجوان تشدد کا راستہ ترک کریں ۔ بہت پہلے محفوظ راہداری اور باز آباد کاری کے ایک منصوبے کا اعلان بھی ہوا جس کے تحت کئی جنگجو سرحد پار سے نیپال کے راستے واپس بھی آئے لیکن کئی پکڑے بھی گئے اورپوچھ تاچھ کے کڑے مراحل سے گزرنے کے ساتھ ان کی بازآبادکاری کا وعدہ بھی دھرے کا دھرا رہا جس کے نتیجے میں کئی واپس بھی لوٹ گئے اور یہ آدھا ادھورا منصوبہ نہ صرف ناکام ہوابلکہ نوجوانوں میں یہ تاثر اور بھی پختہ ہوا کہ ان کے ساتھ ہمیشہ سے ہی دھوکا ہوتا آیا ہے ۔اس کے بعد کسی حکومت نے کسی پیش کش کے بارے میں سوچا بھی نہیں اور ان نوجوانوں کو صرف مشورے اور نصیحتیں دی گئیں جو کلاشنکوف بندوق ہاتھ میں لیکر دنیا کی ایک بڑی فوج کو للکار رہے ہیں ۔
منتخب حکومتوں کے زبانی جمع خرچ کے برعکس گورنر ایک ایسا تجربہ کررہے ہیں جس کی کامیابی کو زمینی حقائق کسی طرح بھی سپورٹ نہیں کررہے ہیں ۔ وہ زمینی حقائق کی کٹھنائیوںکو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی یہ رسک لینے سے دلچسپی رکھتے ہیںجو ان کے کیریر کو بھی دائو پر لگا سکتا ہے ۔مرکزی حکومت کو ایسے کسی منصوبے کا کوئی خیال ہوتا تو وہ اس کا کریڈٹ مخلوط حکومت کو ہی دیتی۔ اس حکومت کے اختتام تک ایسی کوئی سوچ ظاہر نہیں ہوئی اور اب جبکہ پارلیمانی انتخابات قریب ہیں ،مرکز ی سرکار اس طرح کا کوئی منصوبہ اپنے لئے فایدہ مند نہیں سمجھ سکتی ۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ انہی کے ذہن کی پیدا وار ہے اور وہی مرکزی حکومت کواس موقعے پرجبکہ انتخابات ہونے جارہے ہیں ،اس کے لئے راضی بھی کرچکے ہیں حالانکہ بحیثیت گورنر حلف لینے سے آج تک وہ برابر اس بات کا مشاہدہ کررہے ہیں کہ عسکریت پسند اس کے باوجود بھی سرنڈر کرنے کے بجائے اپنی جانیں قربان کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں کہ آئے روز وہ فورسز کے جال میں پھنس جاتے ہیں اور مارے جاتے ہیں ۔
گزشتہ سال کے دوران ڈھائی سو کے قریب جنگجو مارے گئے اور اس سال ابھی تک اٹھارہ جنگجو جاں بحق ہوئے ہیں ۔انہیں بستیوں میں بھی گھیرا جارہا ہے اوربستیوں سے باہر کمین گاہوں میں بھی لپکا جارہا ہے ۔اس کے باوجود وہ مقابلہ کررہے ہیں اور شدید تر دبا ئو میں بھی جیسے بھی ممکن ہوتا ہے ،فورسز پر حملے بھی کرتے ہیں ۔ایسے میں باز آبادکاری کے منصوبے کی کامیابی کے امکانات کو نظر انداز کرکے ایک تجربے کے طور پر اسے روبہ عمل لانے کا فیصلہ کرنا ایک بڑا جوا کھیلنے کے مترادف ہی قرار دیا جاسکتا ہے یا اس منصوبے کے خالقوں کو اس بات کا یقین ہے کہ جنگجوئوں پر جس طرح کا دبائو روز بروز تیز ہورہا ہے، وہ انہیں ایک روز یہ پرکشش پیشکش قبول کرنے پر آمادہ کرلے گا۔لیکن اس کے اس امید افزاء پہلو کے ساتھ اس کا ایک اور پہلو وہ کیسے نظر انداز کرسکتے ہیں کہ اگر یہ منصوبہ ناکام ہوا تو اس کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔اس کی ناکامی سے وہ اثر بھی زائل ہوسکتا ہے جو فورسز کے دبائو کے نتیجے میں جنگجوئوں پر پڑا ہے اور جس کے نتیجے میں مایوسی کا ایک عنصر ضرور پیدا ہوا ہے ۔ نوجوانوںکے ایک بڑے طبقے ،جو عسکریت میں شامل نہیں ہوا ہے، لیکن عسکریت کا حامی اور مددگار ہے ،کی نفسیات پر بھی اس کا الٹا اثر پڑے گا ۔اس سے ان کے اندر کامیابی کا ایک احساس بھی پیدا ہوسکتا ہے جو انہیں جنگجویت کی طرف مائل بھی کرسکتا ہے ۔
فوج اور سرکاری ذرائع کئی بار اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں کہ اس وقت بھی دوسو کے قریب جنگجو وادی میں سرگرم ہیں۔دو سو جنگجو ایک بہت بڑی تعداد ہے ۔ اتنی بڑی تعداد کی موجودگی میں مستقل امن کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی ہے کیونکہ دستی بم کا ایک بھی دھماکہ اس صورتحال کو برقرار رکھنے کا باعث بن سکتا ہے جسے تبدیل کرنے کیلئے نئے نئے حربے آزمائے جارہے ہیں ۔جس تیزی کے ساتھ جنگجو گزشتہ کچھ عرصے سے مارے جارہے ہیں ،اگر یہ سلسلہ بھی جاری رہتا ہے تب بھی کافی عرصہ درکار ہوسکتا ہے اگر کوئی نئی ریکروٹمنٹ بھی نہیں ہوتی ہے لیکن جنگجوئوں پر دبائو کے نتیجے میں تبدیلی کی ہوا کے جھونکے محسوس کئے جارہے ہیں ۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ،جو عسکریت کو ہی نجات کا واحد راستہ سمجھ کر اس کی طرف راغب ہورہے تھے، اب مسئلہ کشمیر کو ساتھ لیکر اسمبلی اور پارلیمنٹ میں جانے کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں ۔ شاہ فیصل کے استعفے کے بعد بانڈی پورہ کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ سکالر نے بھی نوکری سے استعفیٰ دیکر انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے ۔ بائیکاٹ سیاست پر نکتہ چینی ہورہی ہے ۔اس بات پر بھی سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ تیس سال کی عسکری جدوجہد اور بے مثال قربانیوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کا کونسا راستہ کھول دیا ۔تبدیلی کے اس ہلکے سے جھونکے نے ہی غالباً بازآبادکاری منصوبے کا حوصلہ پیدا کیا ہے ۔ اس کے باوجود یہ ایک بہت بڑا جوا ہے جس میں امید کے ساتھ خطرات بھی موجود ہیں ۔
ریاست کے مجموعی ماحول پر اگر نظر ڈالی جائے تو وہ بہت ہی نازک ، حساس اور پیچیدہ ہے بہت ساری قوتیں میدان میں سرگرم عمل ہیں جو اپنے اپنے انداز میں اپنے اپنے مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوششوں میں سرگرداں ہیں ۔حکومت جہاں ماحول میں تبدیلی کے لئے جبر اور صلہ رحمی دونوں طرح کے حربے آزما رہی ہے وہیں پر قومی دھارے کی سیاسی جماعتیں انتخابی کامیابی کے حصول کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہیں ۔کسی کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ قوم کا سب سے بڑا اثاثہ کس بے دردی کے ساتھ ضائع ہورہا ہے ۔کیسی جوانیاں خاک میں مل رہی ہیں اور پورے سماج پر کیسے دور رس اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ایک باعزت راستہ تلاش کرنے اور ان خطرات سے نمٹنے کیلئے، جو اس وقت ریاست کی انفرادیت اور تشخص پر منڈلا رہے ہیں ،کسی فکری اور عملی جدوجہد کا خیال تک کہیں موجود نہیں ۔ مزاحمتی قیادت بھی مجموعی صورتحال کی سنگینیوں کا احساس کرنے سے قاصر ہے ۔اس قوم کے وجود سے زیادہ اسے اپنا موقف عزیز ہے ۔کسی کو اس بات سے انکار نہیں کہ موقف اگر صداقت پر مبنی ہے تو اس سے انحراف گناہ عظیم ہے لیکن موقف جس قوم کو عزت و آبرو کے مقام سے سرفراز کرنے کیلئے ہے ،اگر اس کا وجود ہی خطرے میں ہو تو اس وقت موقف اورقوم کے وجود میں سے کس کو فوقیت دی جاسکتی ہے یہ سوچنا بھی تو ضروری ہے ۔اپنے موقف پر کسی سمجھوتے کے بغیر بھی راستے تلاش کئے جاسکتے ہیں جن سے قوم کے وجود کو بھی بچایا جاسکتا ہے اور احداف حاصل کرنے کی گنجائش بھی باقی رکھی جاسکتی ہے ۔
 بشکر یہ ہفت روزہ ’’نوائے جہلم‘‘ سری نگر