بار بار پی چکے ہو تم جوانوں کا لہو

اپنے ملک کشمیر کے لوگ بھی بڑے دلچسپ ہیں ، بات کا بتنگڑ ہ بناتے ہیں ،رائی کا پہاڑ بناتے ہیں ۔خود ہی کہتے ہیں کہ الہ کُلِس چۃِ تُلہ کُل بناوان (یعنی کدو کے پودے کو توت کا درخت بناتے ہیں)۔مطلب صاف ہے کہ جس کے پیچھے دُم نہ ہو اس کی جگہ جھاڑو باندھ دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی کسی منسٹر صاحب کے ساتھ واقعہ جوڑا کہ اس نے میٹنگ شروع کرنے سے پہلے کانا پھوسی کرکے یہ پوچھا کہ کیا سرکاری ترجمان آیا ہے۔اسے تو پریشانی تھی کہ اگر سرکاری ترجمان نہ آیا ہو تو اس کی تقریر کا خلاصہ کون ریڈیو ٹی وی پر نشر کروائے گا۔کوئی نہ کوئی تو سرکاری سرشتے کا ترجمان ہوتا ہے ، پر اپنے لوگ اسے’’ ٹرجمان ‘‘کہتے ہیں۔لوگوں کے کہنے سے کیا ہوتا ہے ، صحافت کے مچھلی بازار میں اسی کا سکہ ہے اور کوئی اس سے اختلاف کرے تو بھکت جن اس پر مزید ٹروں (سفید جھوٹ)کی بوچھار کرتے ہیں ۔پھر دیکھتے دیکھتے اسے مملکت خداداد روانہ کرنے کا حکم نامے کا اجراء ہوتا ہے۔ویسے اس’’ ٹرجمان ‘‘نے غلط کیا بولا جو اس نے دیکھا بھالا وہی بیان دیا۔کچھ باقی رہا تو اپنے لوگوں کی زبانی روداد سنی تو بیان کردی ۔جب بھیڑ میں سے پتھر برسے ،پھر پٹرول بم برسے تو جوابی کاروائی کو کون روک سکتا ہے۔مانا کہ عندلیب چودہ پندرہ سال عمر کی ہے لیکن ہے تو آتنک وادی۔کلاس میں رول نمبر ایک ہونے کے باوجود اس کے روم روم سے دہشت ٹپکتی ہے ۔اس کے ایک ہاتھ میں پتھر دوسرے میں اینٹ رہتی ہے تاکہ پتھر اینٹ کا جواب دے سکے۔اس پر بچی کی ہمت دیکھو پائوں سے پٹرول بم اچھال رہی تھی،ہے تو پڑھائی کرتی بچی لیکن جو اسکول بیگ اچھالا تو اس میں رکھے آدھ درجن گرنیڈ پھٹ گئے اور تو اور یٹفن میں چاول کے بدلے آر ڈی ایکس بھرا تھا۔جو پھینکا تو دھماکے سے پھٹ گیااور پھر فوج میں ایسی کھلبلی مچا دی کہ نہ جانے کتنے زخمی ہوئے ۔مطلب ایسی ہی بچیوں کے لئے وہ ترانہ خوب لکھا ہے ۔ کشمیر کی بیٹیاں ،نڈر دلیر بچیاں۔زخمی فوجیوں کی تفصیل ’’ٹرجمان ‘‘جمع کررہا ہے بلکہ ساتھ تحقیقات بھی کروا رہا ہے ۔ تحقیقات سے پتہ چلے گا کہ کون زخمی فوجی کس یونٹ یعنی کس خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور پھر بقول فلمی ہیرو (شعلے کا ویرو) خاندان کا پتہ چلتے ہی آپ کو اطلاع کردیں گے ، بقول بشیر داداؔ   ؎

اپنے حقیر خواب میں بھرتے رہو لہو 

تم بار بار چاٹ چکے ہو جواں لہو 

اک بار زندگی میں کبھی شرم بھی کرو

معصوم عندلیب گلستان کے قاتلو

اور تو اور اقوام متحدہ کے بشری حقوق سرشتے نے جو حال حال ملک کشمیر سے متعلق رپورٹ جاری کردی اس پر ادارے کے سربراہ زید  الحسین پر الزام لگا کہ رپورٹ یک طرفہ ہے۔کیا پتہ اہل کشمیر نے زید الحسن کو رستہ گوشتابہ کھلا کر رپورٹ لکھوائی۔ عندلیب جیسی جنگجو بچیوں کے ہوتے ہوئے اصل میں بہادر فوجی اور نیم فوجی دہشت کا شکار ہوجاتے ہیں ۔بشری حقوق کی پامالیوں کی یہ رپورٹ اس طرح مرتب ہو سکتی ہے سمجھ سے بالا تر ہے ۔کہنے کو تو وہ ذیابیطس کا معروف معالج ہے لیکن مودی مہاراج کا دست راست تصور کیا جاتا ہے ۔دست راست ہی کیا چپ و راست ،خورد و کلان گنا جاتا ہے ۔ اسی لئے تو مودی سرکار کا پی ایم آفس کا وزیر با تدبیر ہے ۔دروغ بر گردن راوی جو قلم والے ممبران کی سیل ریٹ پر نظر رکھے ہیں کہ ان کا ریٹ د ن بدن اوپر نیچے ہو رہا ہے کیونکہ وہ اب ممبران نہ رہے بازار حصص کے شئیر بن گئے ہیں ۔ اس کا کہنا ہے یہی ڈاکٹر ملک ِکشمیر کا کنول بردار اور قلم برباد پارٹی کا وزیر اعلیٰ بننے والا ہے۔وہ ہے تو معالج لیکن آج کل قلم کنول ایجنڈا آف الائینس کی دھجیاں جمع کررہا ہے جو بقول اس کے بانوئے کشمیر نے بکھیر دیں،یعنی اب پتہ چلا کہ بانوئے کشمیر اپنے لوگوں کا زدوکوب اور مار کاٹ ہی نہیں کروارہی تھی بلکہ ایجنڈا کے بخیے اُڑا رہی تھی تاکہ یہ دھجیاں بکھر جائیں۔کیا بات ہے  ؎ 

میری کرسی کے ٹکڑے ہزار ہوئے 

کوئی ادھر گرا کوئی ادھر گرا

کنول بردار کہیں پاکستان کو دھمکا رہے تھے، کہیں گئو ماتا کے گن گا رہے تھے ،کہیں مسلم و دلت اقلیتوں کی ما ر کاٹ میں مصروف تھے ،اسی لئے اب اڑھائی سال کے بعد سونہ مرگ سے مادھوپور تک دھجیاں بکھری ہوئی دیکھیں۔شاید اسی لئے کنول بردار وں کا مادھو اب قلم والی پارٹی کے حصے بخرے کرنے میں مصروف ہے کہ چیتھڑوں کو پھر سلا جا سکے۔کہیں سجاد لون، کہیں انصاری ٹولہ سوئی دھاگہ اور پیوند جمع کرکے لا رہا ہے کہ بھائی لوگو سل لو جبھی تو اہل جموں و کشمیر کی خدمت ہو سکتی ہے۔حالانکہ کون نہیں جانتا بے چارے عام خام لوگ تو بس بدنام ہیں، البتہ ان کے نام پر ہی ساری ڈکیتیاں ڈالی جاتی ہیں۔ادھر بانوئے کشمیر کہاں خاموش بیٹھنے والی کہ وہ بھی اپنے چیتھڑے سینے لگ گئیں۔مانا کہ دمحال والا ابھی دور ہی ہے لیکن سنا ہے اکیس ٹیلر ماسٹر اپنے طور رفو کرنے پہنچے کہ سبز رومالوں والا گائون پھر سلا جائے جس کا خواب مرد مومن نے کب کا دیکھا تھا۔
ہاں خواب پر یاد آیا کہ اب کی بار مودی سرکار کا آٹا گوندھنے والے امبانی نے بھی اک خواب دیکھا کہ جیو نام سے یونیورسٹی بنائی جائے لیکن الیکشن کا قرضہ چکانے کے لئے اپنے خواب کی تعبیرکے ساتھ مودی سرکار نے اس بے نشان ادارے کو شرف ِاعجاز   excellence award  سے نوازا اور افواہ گرم ہے کہ بے چارے غریب اور نادار امبانی کی اس یونیورسٹی کے لئے ایک ہزار کروڑکی  امدادی گرانٹ منظور کرلی مگر سوال یہ ہے کہ ادارے کی بلڈنگ وغیرہ ہے کہاں؟  چلئے ہم بھی اعلان کرتے ہیں کہ مستقبل قریب میں ایک کتاب لکھنے بیٹھ جائیں ،کیا پتہ اسے بھی اعلیٰ ترین مودی انعام سے نوازا جائے کیونکہ آج کل چلن ایسا ہی ہے۔رہا سوال امبانی کی جیو یونیورسٹی کا نام پتہ معلوم کرنے کا مسلٔہ۔ ہو نہ ہو مملکت خداداد نے سراغ رسان سیٹلائٹ ،جو چین سے اُڑایا گیا ،اسے ٹوہ لینے میں استعمال کیا جائے اور جیو ادارے کی تفصیلات معلوم کی جا سکیں۔چھتیس گڑھ کی چندر منی کسان عورت ہے اور اب کی بار مودی سرکار نے ویڈیو کانفرنس میں اس سے پوچھا کہ تمہاری آمدنی کتنی بڑھی ؟ اس نے فوراً جواب دیا کہ دوگنی ہو گئی ہے مگر بعد میں اس عورت نے خلاصہ کیا کہ کیسے ایک سرکاری افسر نے اسے سکھایاتھا کہ جواب کیا اور کیسے دینا ہے یعنی ادھر مودی سرکار کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ رہے ہیں ادھر نادار و مفلس اور ان پڑھ خواتین کو طوطے کی رَٹ سکھائی جا رہی ہے۔کو ن جانے اس عورت کی دوگنی آمدنی کی کھوج کے لئے بھی یہی سیٹلائٹ استعمال کیا جائے   ؎

ہوئے وکیل جو پیدا تو شیطان نے یہ کہا

لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہوگئے

اس شعر کے ساتھ ہم اپنے وکیل دوستوں کو چڑِاتے بھی تھے اور ہنسی مذاق کا نشانہ بھی بناتے ، لیکن ہمیں کیا معلوم تھا کہ شاعر گرامی مردم شناس ہیں ۔دلوں کا حال جانتے ہیں چہروں کی ساخت پہچانتے ہیں۔سالہا سال پہلے وکیلوں کی ایک کھیپ کا اندر باہر کالا پن بھانپ لیا تھا جبھی تو ان کا کچا چٹھا بیچ بازار میں بس ایک شعر سے بکھیر دیا۔یعنی ان کے کالے جسم کے ساتھ ان کا دل و روح کا کالا پن ہمارے سامنے آگیا۔آٹھ سال کی معصوم بچی کا درد بھی انہیں نہ رُلا سکا ، اس کی آہ کا اثر بھی ان کی آنکھوں میں تری پیدا نہ کرسکا بلکہ مبینہ قاتل کی طرف داری میں سڑکوں پر نکل آئے جیسے عدالتی افسران نہ ہوں گلی محلوں کے غنڈے ہوں۔اسی پولیس فورس کا راستہ روکا جس کی واہ واہ تب کرتے جب وہ بانہال کے اس پار گولیاں پیلٹ چلاتے ہیںاور پھر اتنا ہی نہیں مبینہ بد کرداروں کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے اور ان کی واہ واہ کرتے  شاید یہ بھی نعرہ لگایا ہو کہ سانجی رام آگے بڑھو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔اور دلچسپ بات یہ ہے کہ سانجی اپنا گھنائونا کام اکیلے نہیں کرتا بلکہ سانجھے انداز میں کرتا ہے ۔ ہے تو وہ سانجی رام پر رام کا یہ بھکت رام مندر میں سب کچھ انجام دیتا ہے ،جس مندر کی قسمیں کھاتا ہے ،وہیں کی آستھا کو گندا کردیتا ہے ۔ عجب نہیں کہ سیتا میا بھگوان رام سے کہہ دے ،اچھا ہوا راون نے اغوا ء کیا نہ کہ آج کے رام بھکتوں نے۔کیس  عدالت میں زیر سماعت ہے۔عدالت عظمیٰ نے سی بی آئی منتقلی سے انکار کیا پر کالے کوٹ والے کی جرأت کہ پریس بریفنگ میں اعلان کردے اس کیس کے پیچھے جہادی کارفرما ہیں۔تب ہم سمجھے شاید سانجھی رام اور اس کے حواریوں کو نام نہاد جہادیوں نے ماہانہ تنخواہ پر رکھا ہوا ہے ۔ بقول حبیب جالب ؔ    ؎

خاک میں مل گئے نگینے لوگ

حکمران بن گئے کمینے لوگ

مودی سرکار کا منسٹر جینت سنہا ہاورڈ بزنس اسکول کا تربیت یافتہ ہے ۔ہم تو سوچتے تھے کہ مغربی تعلیم حاصل کر کے کچھ تو مودی سرکار کو بھی سمجھائے گا ۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ بھکت جنوں کی تربیت کا زیادہ اثر قبول کرچکا ہے ۔یقین نہ آئے تو سن لو کہ ایک مسلم فرد کی مار پیٹ میں ملوث ملزمین کا سواگت کیا بلکہ ہار پہنائے ۔کنول برداروں کی تاریخ ایسی ہے کہ ایک مسلم کا خون بہایا تو منسٹر ہار پہنائے کیونکہ دو ہزار کا خون بہائے تو پہلے چیف پھر پرائم منسٹر بن جائے۔جب ووٹ کے لئے ترسا جائے تب خون کی بہائی بوندیں یاد آئیں۔خون مسلم و دلت تو الیکشن کے لئے سونے پہ سہاگہ ہے۔اس لئے جتنے قطرے خون بہائے اتنے ہی پھول پرِو کر ہار بنائے کہ حساب برابر ہوجائے۔حیف کہ ایسا کام کیا ہے   ؎ 
یہ سواگت منسٹر صاب کیا کہنا 

اقتدار کا سراب کیا کہنا 

کیا پڑھایا ہے کیا سکھایا ہے

جینت سنہا جناب کیا کہنا

……………….
(رابط[email protected]/9419009169  )