بار بار قتل کیوں؟قاتل کون؟

سرینگر //مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاوق اور محمد یاسین ملک نے بارہمولہ میں تین نوجوانوں کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے ۔ مشترکہ قیادت نے کہا ہے کہ بار بار لوگوں کو اس طرح قتل کیا جاتا ہے اور کسی کو معلوم نہیں کہ قاتل کون ہے کیونکہ وہ نامعلوم بندوق بردار کہلاتے ہیں۔ جہاں ایک طرف حکومت آسانی سے اس طرح کی ہلاکتوں کیلئے مسلح نوجوانوں کو ذمہ دار قرار دیتی ہے وہی دوسری جانب مسلح نوجوانوں کی تنظیمیں ایسے واقعات کی مذمت کرتے ہیں اور ان کیلئے حکومت کی ایجنسیوں کو ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ تاہم یہ زبردست تشویش کا معاملہ ہے اور اس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔قیادت نے اقوام متحدہ سے اپیل کہ ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے اور ان ہلاکتوں کی غیر جابندارانہ تحقیقات کرائے۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے دہرایا ہے کہ سیاسی یا تنظیمی وابستگیوں کی بنیاد پر کسی کو قتل کرنا غیر انسانی اور غیر اسلامی ہے اور اس طرح کے قتل کشمیری عوام اور کشمیری قیادت کو قابل قبول نہیں ہے۔ مشترکہ قیادت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھاجپا کے کویندر گپتا کی جانب سے کٹھوعہ میں آٹھ سالہ بچی آصفہ کی عصمت دری اور قتل کو’ ’ایک چھوٹا واقعہ‘ ‘قرار دئے جانے کوآر ایس ایس کے قابل فخرفرد کہنے والے کی بیمار فرقہ دارانہ ذہنیت قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ عصمت دری کے مرتکب مجرموں کے حق میں ریلیاں آرگنائزکرانے والے روندرجسروٹیا کی ریاستی کابینہ میں شمولیت سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ بھاجپا محض وئوٹ حاصل کرنے کیلئے سماج میں تقسیم اور ایک مخصوص طبقے کو خوش کرنے کی اپنی پالیسی سے ذرا بھی ہٹنے کیلئے آمادہ نہیں ہے۔مزاحمتی قیادت نے 
 
 

حزب کی عوام سے اپیل

قاتلوں کی تلاش میں مدد کریں

نیوز ڈیسک
 
سرینگر //بارہمولہ ہلاکتوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حزب المجاہدین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قاتلوں کو ڈھونڈ نکالنے میں مدد کریں۔ بیان کے مطابق حزب ڈپٹی چیف سیف اللہ خالد اور فیلڈ آپریشنل کمانڈر محمد قاسم نے اولڈ ٹائون بارہمولہ میں 3عام شہریوں کو نامعلوم بندوق برداروں کی جانب سے ہلاک کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بیان کے مطابق انہوں نے کہاکہ یہ ہندوستان ہے جو کشمیریوں کو قتل کررہا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان ہلاکتوں کے پیچھے کام کررہے چہروں کو بے نقاب کرنے کی خاطر حزب المجاہدین کی مدد کریں۔ادھرتحریک المجاہدین امیر شیخ جمیل الرحمان نے وادی میں بھارت کی ریاستی دہشگردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پلوامہ میں ایک کم سن طالب علم اور بارہمولہ میں تین نوجوانوں کا قتل ریاستی دہشتگردی کی بدترین مثال ہے۔بھارت کشمیریوں سے تحریک آزادی کا انتقام لے رہا ہے ۔ نہتے اور معصوم نوجوانوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا اور ان کا وحشیانہ قتل بھارتی فورسز اور ان کے آقائوں کی غیر پیشہ واریت اور تیزی سے گرتامورال ہے۔