بارہمولہ 4بجلی پرجیکٹوں کی موجودگی کے باوجودبجلی کیلئے ترساں

  بارہمولہ //ضلع بارہمولہ کے چار بجلی گھر پورے شمالی ہندوستان کو روشنی سے منور کررہے ہیں لیکن اس ضلع کے لوگوں کو بجلی قسطوں میں کٹوتی شیڈول کے تحت فراہم کی جاتی ہے۔اس دوران اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ ضلع بھر میں اس ماہ کے دوران اب تک116بجلی ٹرانسفارمر جل کر خراب ہوئے ہیں اور وہ محکمہ بجلی کے ورکشاپوں میں مرمت کے انتظار میں ہیں۔اس انکشاف سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ضلع کی آبادی بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ٹھٹھرتی سردی میں کن مشکلات سے دوچار ہوگی۔ محکمہ بجلی کے ذرائع سے معلوم ہواہے کہ ضلع بارہ مولہ کے بارہ مولہ ڈویژن میں سب سے زیادہ60ٹرانسفارمر خراب ہوئے ہیں ،جبکہ ٹنگمرگ ڈویژن میں 11،سوپور میں15اور پٹن میں30ٹرانسفامر ناکارہ ہوچکے ہیں اورجومحکمہ کے ورکشاپوں میں زیر مرمت ہیں۔اس وجہ سے ان علاقوں کی ہزاروں نفوس پر مشتمل آبادی زبردست مشکلات سے دوچار ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ کچھ ٹرانسفارمردس روز سے ،کچھ بیس دن سے اور کچھ ایک ماہ سے بیکارہیں۔مقامی لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ تاہم محکمہ بجلی اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا ہے جس کاخمیازہ عوام کو بھگتنا پڑرہا ہے ۔اس دوران لوگوں نے بتایا کہ 1975میں جب لورجہلم ہائیڈل پروجیکٹ پر کام شروع کیاگیا تو گانٹہ مولہ سے بمیار تک سینکڑوں لوگوں کی زمین اس پروجیکٹ کی تعمیر کیلئے سرکار نے حاصل کی ۔اس وقت حکومت نے وعدہ کیاتھا کہ اس علاقے کی تعمیروترقی کیلئے ہرممکن اقدام کئے جائیں گے اور لوگوں کو ترجیحی بنیادوں پر بجلی فراہم کی جائے گی۔اسی طرح1990میں اوڑی پاورپروجیکٹ کی شروعات کی گئی جس کیلئے اوڑی سے بونیار تک لوگوں کی ہزاروں کنال اراضی حاصل کی گئی ۔480میگاواٹ کی پیداوار کے حامل اس بجلی گھر سے پورے شمالی بھارت کو بجلی فراہم ہوتی ہے ۔اُس وقت بھی لوگوں سے کہا گیا کہ اس پروجیکٹ کی تعمیر کے بعد اوڑی کے عوام کو مفت بجلی فراہم کی جائے گی۔ 2005میںاوڑی دوم بجلی گھر سلام آباد میں تعمیر کیا گیا اور یہاں پیدا ہونے والی بجلی بھی ریاست سے باہر برآمد کی جاتی ہے ۔مہورا کے مقام پر 09میگاواٹ کا بجلی گھر  ناکارہ ہوچکا ہے۔ مقامی لوگو ں نے بتایا کہ ضلع میں اس وقت صرف تاروں اور بجلی کھمبوں اور ٹاوروں کا جال ہے لیکن مقامی آبادی کیلئے صرف بجلی کی آنکھ مچولی ہے ۔بجلی کی عدم دستیابی سے مقامی لوگ خاص طور سے طلباء سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ ضلع میں بجلی کی سپلائی کو باقاعدہ بنانے کیلئے اقدام کئے جائیں۔اس دوران محکمہ بجلی کے سپرانٹنڈنگ انجینئر نے بتایا کہ موسم سرما میں لوگ بجلی کا زیادہ استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ٹرانسفارمروں پر لوڈ زیادہ ہوتا ہے اور وہ جل جاتے ہیں ۔