بارہمولہ میں6 بچوں کی ماں کا عصمت دری کے بعد قتل

 بارہمولہ //پولیس نے بارہمولہ میں6 بچوں کی ماں کے قتل کا معمہ صرف 6گھنٹوں کے اندر اندرحل کرتے ہوئے قاتل کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس نے خاتون کی عصمت ریزی اور قتل کا اعتراف کرلیا ہے۔اس سلسلے میںایڈیشنل ایس پی بارہمولہ شفقت حسین نے سنیچر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ جمعہ کی صبح قصبہ کے جہامہ علاقے میں اُس وقت سنسنی پھیل گئی جب مقامی لوگوں نے ایک میوہ باغ میں ایک خاتون کی خون میں لت پت لاش دیکھی۔اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم جائے واردات پر پہنچی اور لاش کو اپنی تحویل میںاس کی شناخت  40  سالہ حفیظہ بیگم زوجہ غلام حسن میر ساکنہ کھی ٹنگن بارہمولہ کے بطور کی۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے ڈی ایس پی ہیڈ کواٹر بارہمولہ راہل مرچال ،ایس ایچ او بارہمولہ خالد فیاض اور دلنہ چوکی سے وابستہ سب انسپکٹر محمد اشرف پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی اور ٹیم نے قتل کے اس معاملے کو صرف چھ گھٹوں میں حل کردیا ۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ خاتون6 بچوں کی ماں تھی اور ضلع اسپتال بارہمولہ میں اپنی بیمار والدہ کی تیمارداری کررہی تھی جہاں سے وہ پر اسرار حالات میں لاپتہ ہوئی تھی۔اے ایس پی نے کہا کہ دراصل مذکورہ عورت نائد کھے سمبل کے رہنے والے گلزار احمد ملک ولد غلام محمد ملک کے ساتھ چلی گئی اور جہامہ کے باغات میں اُن کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا اور گلز ار نے اپنا آپا کھویا اور مذکورہ عورت کے سر پر ایک پتھر سے حملہ کیا جس کی وجہ سے اُس کے موت واقع ہوئی اور ملزم فرار ہوا ۔انہوں نے کہا کہ تفتیش کا آغاز ضلع اسپتال سے ہی کیا گیااور اسپتال میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی عکس بندی کا جائزہ لیا۔انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ہی قاتل کی شناخت کرلی گئی اور پولیس نے فوری کارروائی عمل میں لاتے ہوئے گلزار احمدکو گرفتار کیا جس نے میوہ باغ کے اندر خاتون کی پہلے عصمت ریزی اور پھر اسے قتل کرنے کا اعتراف کرلیا ۔انہوں نے کہا کہ ملزم کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے اور پولیس اسٹیشن بارہمولہ میںمعاملے کی نسبت ایف آئی آر زیر نمبر228/17زیر دفعہ302آر پی سی درج کیا گیا ۔