بارصدر دلی سے لوٹ آئے

سرینگر// این آئی اے نے دلی میں بار ایسوسی ایشن صدر میاں قیوم کی مسلسل 7 گھنٹے تک پوچھ تاچھ کرنے کے بعد اُنہیں 14ستمبر کو دوبارہ طلب کر لیا  ہے۔ ہائی بار ایسوسی ایشن نے فیصلہ کیا ہے کہ سنیچر سے وادی کے تمام وکلاء دوبارہ معمول کا کام کاج شروع کریں گے کیو نکہ نئی دہلی میں این آئی اے کے سامنے پیش ہونے کے بعد  بار صدرجمعہ کو واپس کشمیر لوٹ آئے ۔جمعہ کی صبح10بجے ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم ہائی کورٹ پہنچے ۔اس دوران ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا جنرل کو نسل اجلاس منعقد ہوا ،جس میں این آئی کی مہم جوئی اور دیگر کئی اہم امورات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم نے وادی کے تمام وکلاء کا ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیریوں کی رواں جدوجہد کو کمزور کرنے کیلئے نئے نئے حر بے آزما رہا ہے اور  این آئی اے کو ایک ہتھیار کے بطور استعمال کررہا ہے ۔ان کا کہناتھا کہ این آئی اے کی مہم جوئی در اصل مسئلہ کشمیر اوردفعہ 35اے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے اور بھارت وکلاء کو بھی قانون دائو پیچ میں الجھا کر دفعہ35اے کے دفاع کو کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ان کا کہناتھا کہ اس طرح کے حر بوں سے اُنہیں مرعوب نہیں کیا جاسکتا ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ 13ستمبر کو ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے جنرل کونسل کا ایک اور اجلاس طلب کیا ،جس میں تمام امورات پر تبادلہ خیال کیا جائیگا اور مستقبل کے حوالے سے لائحہ عمل مرتب کیا جائیگا ۔ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم کے ساتھ بار ایسوسی ایشن کی ایک8 رْکنی ٹیم بھی تھی جس میں ایڈوکیٹ اعجاز بیدار ،ایڈوکیٹ بشیر احمد ،ایڈوکیٹ میاں مظفر ،ایڈوکیٹ ناصر قادری اور ایڈوکیٹ منظور احمد وغیرہ شامل ہیں ۔