بارشوں اور برفباری سے تحصیل کھڑی اور بلاک گاندری کی سڑکیں منقطع

بانہال // پچھلے کئی روز کی شدید بارشوں اور برفباری کی وجہ سے رام بن کے بلاک گاندری کے کنگا۔بھٹنی رابطہ سڑک کے کئی سو میٹر کا حصہ جمعرات کے روز ڈھہ گیا ہے جس کی وجہ سے جانے کی وجہ سے کئی پنچایتوں کا سڑک رابطہ ضلع ہیڈکوارٹر رام بن سے منقطع ہوا ہے۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ رام بن کے کنگا۔ گاندری۔ بھٹنی رابطہ سڑک کے گیارھویں کلومیٹر میں تین سے چار سو میٹر تک کی سڑک نکل گئی ہے اور بلاک گاندری کی تین پنچایتوں کے ہزاروں کی آبادی کا سڑک رابط ضلع ہیڈ کواٹر سے ختم ہو گیا ہے اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ سڑک کے کھسکنے کا یہ واقعہ چٹا پڑی کے پاس پیش آیا اور سڑک کے اس بڑے حصے کے نکل جانے کی وجہ سے علاقے کی پینے کے پانی کے نلکوں اور بجلی کے کھمبوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے اور جنگلات کا ایک بڑا حصہ سرسبز درختوں سمیت کھسک گیا ہے۔اِدھر جمعہ کے روز  سب ڈویژن بانہال میں ریلوے تعمیراتی کمپنیوں کے زیر کنٹرول ناچلانہ۔کھڑی رابطہ سڑک کا ایک بڑا حصہ ھرنیہال کے مقام مسلسل دھنس رہا ہے جس کی وجہ سے تحصیل کھڑی۔ مہو منگت کی بھاری ابادی ایک بار پھر سڑک رابطے سے منقطع ہوگئی ہے اور لوگوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی پنچایتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ سڑک پچھلے بیس سال سے ریلوے تعمیراتی ایجنسی اِرکان انٹرنیشنل کے زیر استعمال ہے لیکن اس سڑک کی دیکھ ریکھ اور رکھ رکھاؤ کیلئے اب تک کوئی کام نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ہرنیہال کے مقام سڑک تباہ ہوئی ہے بلکہ ناچلانہ سے منڈکباس تک ریلوے کے زیر کنٹرول سڑک خستہ اور شکستہ ہوگئی اور اس بارے میں ابھی تک عوام اور اس کے نمائیندوں کی طرف سے اٹھائی گئی آوازیں صدا بہ صحرا ثابت ہوئی ہیں اور کھڑی تحصیل کی عوام کو کمپنیوں کی ہٹ دھرمی اور من مرضی کی سزا بھگتنا پر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں روپئے کی رقم ہرنیہال کے مقام سڑک کو نکلنے سے بچانے کیلئے خرچنے کے باوجود ہرنیہال کے مقام سڑک کا ایک بڑا حصہ پچھلے کئی سال سے ہزاروں کی آبادی کیلئے درد سر بنا ہوا ہے مگر ریلوے تعمیراتی ایجنسی ابھی تک اس حصے کا کوئی مستقل حل نہیں نکال سکی ہے۔