’بات سے ہی بات بنے گی‘

 جموں//پی ڈی پی نے کہا ہے کہ پاکستان اور کشمیریوں سے مذاکرات مخلوط سرکار کے مابین طے پائے گئے ایجنڈا آف الائنس میں پہلی اور آخری شرط ہے۔ امورداخلہ وزیر مملکت ہنس راج گنگا رام اہیر کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مدنی نے کہا ہے کہ کشمیریوں اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان طے پائے گئے ایجنڈا آف الائنس کی پہلی اور آخر ی شرط ہے۔ جموں میں پی ڈی پی کنونشن کے بعد نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت کے دوران سرتاج مدنی نے کہا کہ پی ڈی پی روز اوّل سے مذاکرات اور گفت وشنید کی حمایت کرتی ہے اور ہمارا اس بات پر مکمل اعتماد ہے کہ بات سے ہی بات بنے گی۔ انہوں نے کہا ’’جب مرحوم مفتی محمد سعید نے پی ڈی پی کا قیام عمل میںلایا تو اسے کس بنیاد پر منصہ شہود پر لایا گیا اور ہمارا بنیادی اعلامیہ کیا تھا؟مرحوم ومغفور نے وزیراعظم ہندر نریندر مودی کے ساتھ جو ایجنڈا آف الائنس مرتب کیا، اس میں کئی ماہ لگے تھے اور اس میں بات چیت اور گفت وشنید ہی پہلی اور آخری شرط ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ایجنڈا آف الائنس میں واضح کیا گیا ہے کہ پڑوسی ملک پاکستان سے بات چیت اور دوستی کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا ۔‘‘ سرتاج مدنی نے کہا’’اتحاد کی بنیاد ہی پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ بات چیت ہے کیونکہ ہم دوستی کا ماحول چاہتے ہیں جس میں جموں وکشمیر کے لوگ ایک پرامن اور باعزت زندگی گذار سکیں‘‘۔انہوں نے واضح کیا ’’پی ڈی پی دباؤ کی سیاست میں یقینی نہیں رکھتی۔ ہم صلاح و مشورہ اور دوستی کے ماحول میں یقین رکھتے ہیں۔ ہم پڑوسی ملک اور کشمیریوں کے ساتھ بات چیت کے خواہاں ہیں تاکہ معاملات کو افہام وتفہیم کے ذریعے حل کیا جاسکے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ریاستی عوام نے کافی مصیبتیں جھیلی ہیں اور پی ڈی پی چاہتی ہے کہ جموں وکشمیر کے عوام کے زخموںپر مرہم رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی مذاکرات کار دنیشور شرما جموں وکشمیر آئے ہیں اور ان کی تعیناتی کا مقصد ہی یہ ہے کہ بات چیت کا کوئی راستہ نکل آئے۔