باباگرو نانک جی۔چند پہلو

جس وقت گرونانک جی کی پیدائش ہوئی اس وقت ظلم و زیادتی کا ماحول تھا، اور یہ سب کچھ مذہب اور عقائد کے نام پر ہوتا تھا۔ ایسے میں گرونانک کا پیغام پورے ملک میں ایک انقلاب کی نوید بن کر پھیلا۔ علامہ اقبالؔ اس کا بہترین احوال’ بانگ درا ‘میں پیش کرتے ہیں   ؎
قوم نے پیغام گوتم کی ذرا پروا نہ کی
قدر پہچانی نہ اپنے گوہر یک دانہ کی 
آہ بد قسمت رہے آواز حق سے بے خبر 
غافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے شجر 
آشکار اس نے کیا جو زندگی کا راز تھا
ہند کو لیکن خیالی فلسفہ پر ناز تھا 
شمع حق سے جو منور ہو یہ وہ محفل نہ تھی 
بارش رحمت ہوئی لیکن زمیں قابل نہ تھی 
آہ شودر کے لئے ہندوستاں غم خانہ ہے 
درد انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہے 
برہمن سرشار ہے اب تک مئے پندار میں 
شمع گوتم جل رہی ہے محفل اغیار میں 
بتکدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوا 
نور ابراہیم سے آزر کا گھر روشن ہوا 
پھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے 
ہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے
گرو نانک جی نے لودھی افغانوں کا دور بھی دیکھا اور مغل بادشاہ بابر کا بھی۔ سلطان محمد ابراہیم لودھی بابا نانک کا بہت احترام کرتے لیکن بابر نے انہیں قید کی سزا دی، اس کے باوجود انہوں نے اپنے پیغام میں محبت و اخوت کی تبلیغ جاری رکھی اور محبت کا یہ پیغام ہندوستان سے باہر دوسرے ملکوں میں بھی لے گئے تھے۔افغانستان، ایران اور عرب میں ان کی یادگار اب بھی موجود ہے۔
گرو نانک دیو کی پیدائش شہر ننکانہ صاحب،  لاہور،  پنجاب  موجودہ  پاکستان  میں  15 اپریل، 1469ء کو ہوئی اور وفات 22 ستمبر، 1539 ء  کو شہرکرتار پور میں ہوئی۔ گرونانک سکھ مت کے بانی اور دس سکھ گروؤں میں سے پہلے گرو تھے۔ ان کا یوم پیدائش گروپورب کے طور پر دنیا بھر میں ماہکاتک (اکتوبر–نومبر) میں پورے چاند کے دن، یعنی کارتک پورن ماشی کو منایا جاتا ہے۔گرونانک کو ’’زمانے کا عظیم ترین مذہبی موجد‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ انھوں نے دور دراز سفر کرکے لوگوں کو اس ایک خدا کا پیغام پہنچایا جو اپنی ہر ایک تخلیق میں جلوہ گر ہے اور لازوال حقیقت ہے۔ گرو نانک کا خواب ذات پات سے آزاد معاشرے کا قیام تھا، ان کے مذہب میں عقائد اور تصورات کے بجائے عملی تعلیمات پر زور تھا، انھوں نے ایک منفرد روحانی، سماجی اور سیاسی نظام ترتیب دیا؛ جس کی بنیاد مساوات، بھائی چارے، نیکی اورحُسنِ سیرت پر ہے۔گرونانک کا کلام سکھوں کی مقدس کتاب،گرنتھ صاحب میں 974 منظوم بھجنوں کی صورت میں موجود ہے، جس کی چند اہم ترین مناجات میں جپ جی صاحب، اسا دی وار اور سدھ گھوسٹ شامل ہیں۔سکھ روایات کے مطابق، گرو نانک کی پیدائش کے وقت اور زندگی کے ابتدائی برسوں میں کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ نانک کو خدا کے فضل و رحمت سے نوازا گیا ہے۔
گرو بابا نانک صاحب کی تعلیمات خالص توحید ہے۔گرو گرنتھ صاحب کا آغاز بابا گرو نانک کی مشہور حمد جپ جی سے ہوتا ہے۔ اس نظم میں وہ سکھ مت کے وحدانیت کے نظریے کو فلسفیانہ سطح پر بیان کرتے ہیں۔ ان کی تعلیمات کے مطابق یہاں وحدت ہے کوئی ذات پات نہیں۔ہر سکھ کیس (سر کے بال)، کنگھا، کرو (چھوٹی چھری)، کڑا (ہاتھ کا آہنی حلقہ) کچھ (جانگیا) پانچ کاف اپنے جسم کے ساتھ رکھتا ہے۔ ہر سکھ مرد کے نام کے ساتھ’ سنگھ‘ کا لفظ ضرور ہوتا ہے اور سکھ عورت کے نام کے ساتھ’ کور ‘کا لفظ ضروری ہوتا ہے۔ یہ باتیں سکھ قوم کی یکجہتی کو ظاہر کرتی ہیں، وہ ظاہر پرستی سے زیادہ روحانی جذبے کو اہمیت دیتے تھے۔ ’گرو گرنتھ ‘کی تعلیمات کے مطابق انسان کو غصہ، لالچ، دنیاوی لگاو، تکبر سے بچنا چاہئے، جب انسان میں روحانی جذبہ پیدا ہوتا ہے تو اس سے برائیاں دور ہو جاتی ہیں اور اس پر اچھائی غالب آتی ہے اس کو مذہبی اصطلاح میں’ اودیا کاناش ہونا‘ اور’ سچ کا پرکاش ہونا‘ کہتے ہیں، ان کے مطابق یہ دنیا حقیقی نظر آتی ہے مگر اصل میں یہ مقام فانی ہے، انسان کے لیے دارلعمل ہے، بعد کے سارے گرو صاحبان نے بھی انہی تعلیمات کی تبلیغ کی، الغرض گرونانک کی تعلیمات روحانی اور اخلاقی اصولوں کا مجموعہ ہے۔’سکھ‘ کے لغوی معنی چیلا، مرید کے ہیں۔سکھوں کی اجتماعی بستی کے لئے ’پنتھ‘ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ سکھ مذہب کے مطابق خدا ایک ہے، وہی ساری کائنات کا خالق ہے، خدا کا نور کائنات میں ظہور پذیر ہے، حکم الہی کو صبر و شکر سے برداشت کرنا، خدا کے فضل و کرم کے لیے لفظ ’پرساد‘ استعمال کیا جاتا ہے۔
اردو زبان اور سکھوں کا آپس میں گہرا رشتہ ہے گرونانک دیو جی کے زمانے میں رائج عوامی زبانوں میں اردو بھی تھی، گیانی عباد اللہ لکھتے ہیں :
’’سکھ مذہب کے ساتھ ساتھ پنچابی اور اردو زبانیں بھی ترقی کے مراحل طے کرتی رہی ہیں۔‘‘
گروگرنتھ صاحب میں درج بانی گورمکھی رسم الخط میں تحریر کی گئی ہے، جس میں ایک تحقیق کے مطابق 65 فیصدی الفاظ اردو زبان میں ملتے ہیں۔ گویا کہ یہ الفاظ ہندی، سنسکرت، فارسی، عربی اور ترکی زبانوں کے مستعمل الفاظ اردو کی شناخت ہیں، جمیل جالبی ؔکے مطابق گروگرنتھ صاحب میں عربی اور فارسی الفاظ کی تعداد جو اردو لغت کا جز ہیں تقریباً 1343 ہیں۔ تحقیق نگار گیانی عباد اللہ نے اپنی تصنیف’ گروگرنتھ صاحب اور اردو ‘میں لکھا ہے کہ ’’سکھوں کا مذہبی لڑیچر بھلے ہی پنجابی زبان میں محفوظ ہو لیکن مذہب کے پیشواؤں نے اردو کو اپنے پیغامات کی ترسیل و تبلیغ کا وسیلہ بنایا ہے۔ ‘‘
اردو میں سکھ مت کی کئی کتابوں کا ترجمہ کیا ہے ۔مفتی مشتاق تجاوری نے اپنے ایک مقالے میں دس ایسی کتابوں کا تعارف کرایا ہے، جن میں آدھی گرنتھ، دیوان نانک شاہ، جپ جی وغیرہ قابل ذکر ہیں، ساتھ ہی اس مقالے میں انہوں نے گرونانک جی کی سوانح حیات سے متعلق 12 کتابوں کا تعارف کروایا ہے جو اردو میں لکھی گئی ہیں۔ (گرونانک حیات و خدمات صفحہ 150) اردو کے کئی بڑے شعراء نے گرونانک جی پر نظمیں بھی لکھی ہیں، جن میں نظیر اکبر آبادی، علامہ اقبال، جوش ملیح آبادی، عزیر وارثی قابل ذکر ہیں۔ 
نانک کی تعلیمات سکھ صحیفے گرو گرنتھ صاحب ‘میں موجود ہیں، جو گرمکھی میں لکھے گئے اشعار کا مجموعہ ہے.اس میں ان کی 974 منظوم نظمیں موجود ہیں۔گرونانک اسلام کے فلسفہ توحید سے بے حد متاثر تھے۔’’گوروگرنتھ ‘‘میں اس حقیقت کا اظہار کچھ اس انداز میں کرتے ہیں:
صاحب میرا ایکوہے
ایکو بے بھائی ایکو ہے
آئے مارے آئے چھوڑے
آپ لیو ، دیئے
آپ نذر کریئے
جو کچھ کرنا سو کرربیا
اور نہ کرنا ،جائی
جیسا درتے تیسو کہئے
سب تیری و ڈیاٹی
(گرو گرنتھ صاحب اردو، ص ۵۳۲ بحوالہ گرونانک جی اور تاریخ سکھ مت، ص۔)
’’ترجمہ: میرا مالک ایک ہے ، ہاں ہاں بھائی وہ ایک ہے ۔ وہی مارنے والا اور زندہ کرنے والا ہے۔ وہی دے کر خوش ہوتا ، وہ جس پر چاہتا ہے اپنے فضلوں کی بارش کردیتا ہے۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اس کے بغیر اور کوئی بھلا کر نہیں سکتا۔ جو کچھ دنیا میں ہورہا ہے ہم وہی بیان کرتے ہیں ۔ہر چیز اس کی حمد بیان کررہی ہے۔‘‘(گرو گرنتھ صاحب اردو، ص ۵۳۲ بحوالہ گرونانک جی اور تاریخ سکھ مت، ص ۔)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زبردست عقیدت تھی، کہتے ہیں :
’’پاک پڑھیوس کلمہ بکس دا محمد نال زملانے ہویا معشوق خدائے داہویا تل علائے مہنہ تے کلمہ اکھ کے دوئی دروغ کمائے آگے محمد مصطفی سکے نہ تنہا چھیڑائے ۔(جنم ساکھی بھائی بالا، ص ۱۳۱ تا ۱۵۳،بحوالہ گرونانک جی اور تاریخ سکھ مت، ص ۵۹)
یہ جو سکھ مذہب کے لوگوں میں جذبہ خدمت خلق کا بہت تصور پایا جاتا ہے؛ اس کی بنیادی وجہ گرونانک جی کی تعلیمات ہیں۔ آپ نے لنگر کا تصور دیا جس سے ایک طرف ذات پات کا خاتمہ مقصود تھا؛ وہی سماجی خدمت کا جذبہ بھی پیدا کرنا تھا۔ لوگوں کی نظر میں گرونانک کافی نیک تھے۔ قابل عقیدت و احترام شخصیت۔ لیکن آپ کے والد آپ کی غیر معمولی رجحانات کی وجہ سے بہت پریشان رہتے۔ ایک مرتبہ ان کے والد نے آپ کو بیس روپے دے کر کاروبار کے لئے بھجوایا۔ گرو نانک جی نے وہ روپے فقیروں کو دے دئے۔سکھ تعلیمات کے مطابق آمدنی کا دس فیصد ''دسوند‘‘ فلاحی کاموں پر خرچ کیا جانا چاہئے۔ گرونانک جی کی توحید پر مبنی اور خدمت خلق سے پر تعلیمات کی موجودہ دور میں اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ تقوی اور نیکی کے کاموں میں ہر ممکن تعاون کی ضرورت ہے۔ اچھی تعلیمات کا پرچار بھی ہونا چاہئے اور عمل بھی۔ بین مذاہب مشترکہ تعلیمات پرعمل پیراہوناوقت کاتقاضاہے ۔