اے پی کابینہ میں ردوبدل 11نئے ارکان کی شمولیت اور5کی برخاستگی

امراوتی// آندھراپردیش کے وزیراعلی این چندرابابو نائیڈو نے 5وزراء کو برخواست اور 11نئے ارکان کو شامل کرتے ہوئے اپنی کابینہ میں ردوبدل کیا۔ گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے نئے ارکان کو عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا۔ چندرابابو کے بیٹے و رکن کونسل لوکیش نئے 11ارکان میں شامل ہیں۔ جون 2014میں اقتدار پر آنے کے بعد تلگودیشم حکومت کی کابینہ میں یہ پہلی ردوبدل ہے ۔ اس توسیع کے ساتھ ہی کابینی وزراء کی تعداد بڑھ کر 26ہوگئی ہے ۔ ان میں وزیراعلی بھی شامل ہیں۔ نئے شامل ارکان میں کے کلا وینکٹ راو' لوکیش ' پی ستیہ نارائنا ' این آنند بابو ' سومی ریڈی چندراموہن ریڈی ' راووینکٹ سوجنا رنگاراو ' کے سرینواسلو ' سی آدی نارائن ریڈی ' کے ایس جواہر' این امرناتھ ریڈی اور بھوما اکھیلا پریہ شامل ہیں ۔ جن وزراء کو کابینہ سے برخواست کیا گیا ان میں کے مرینالینی ' پی سجاتا ' آر کشور بابو ' بی گوپال کرشنا ریڈی اور پلے رگھوناتھ ریڈی شامل ہیں۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے 4ارکان اسمبلی جنہوں نے پارٹی چھوڑکر حکمراں تلگودیشم میں شمولیت اختیار کی تھی ' کو بھی وزراء بنایا گیا ۔ ان میں بھوما اکیلا پریہ ' سی آدی نارائن ریڈی ' این امرناتھ ریڈی اور آر وی سوجنا رنگاراو شامل ہیں۔  اس موقع پر تلگودیشم پارٹی کے بانی وسابق وزیراعلی این ٹی راماراو کے ارکان خاندان بھی موجود تھے ۔ چندرابابو کی جانب سے اس توسیع میں وائی ایس آر کانگریس کے 4ارکان اسمبلی کو شامل کرنے پر تلگودیشم پارٹی میں ناراضگی پیدا ہوگئی اور اس کے نتیجہ میں تنازعہ پیداہوگیا۔ بعض ارکان اسمبلی نے ایم ایل اے اور پارٹی کے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ چندرابابو نائیڈو نے پارٹی کے سینئر لیڈروں سے اپیل کی کہ مستعفی ہونے والوں کے جذبات کو سرد کیا جائے ۔ سینئر لیڈر ڈی گوپال کرشنا ریڈی جنہیں کابینہ سے ہٹادیا گیا ' نے آج ایم ایل اے کے عہدہ سے استعفی دے دیا۔ تلگودیشم کے ایک اور رکن اسمبلی سی پربھاکر نے اعلان کیا کہ وہ رکن اسمبلی کے عہدہ سے مستعفی ہورہے ہیں۔ انہوں نے مغربی گوداوری میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مستعفی ہورہے ہیں اور وہ نئی جماعت قائم کریں گے ۔ وجے واڑہ سنٹرل کے رکن اسمبلی بی اوما مہیشورراو نے کہا کہ وہ مستعفی ہونا چاہتے ہیں۔ پندورتی کے تلگودیشم رکن اسمبلی ستیہ نارائنا جنہوں نے کابینہ میں انہیں شامل نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا تھا نامعلوم مقام پر روانہ ہوگئے ہیں۔ دوسرے رہنما جیسے جی شیواجی ' جے نہرو ' آر سباریڈی نے بھی کابینہ میں شامل نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ گذشتہ دو برسوں کے دوران وائی ایس آر کانگریس کے 21ارکان اسمبلی نے تلگودیشم میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ وائی ایس آر کانگریس نے الزام لگایا تھا کہ کابینہ میں جگہ دینے کے لئے بعض ارکان اسمبلی کو لالچ دی گئی ہے ۔ تلگودیشم پارٹی نے تلنگانہ میں اس سے انحراف کرتے ہوئے کابینہ میں شامل ہونے پر اعتراض کیا تھا۔ کیوں کہ تلگودیشم کے ٹکٹ پرمنتخب بعض ارکان اسمبلی نے حکمراں ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی تھی۔یواین آئی