اے محافظ۔۔۔ تیرے کردار پہ رونا آیا

کسی بھی ملک میں پولیس کا شعبہ اس لیے ہوتا ہے کہ وہ معاشرے کو بگاڑنے، اقدار کو پامال کرنے، انسان کے وجود، اس کی آزادی، نجی زندگی، مال و منال کو چیلنج کرنے اور اجتماعی زندگی کو حفظ و امان سے محروم کرنے والے عناصر سے نبرد آزما رہتی ہے۔ معاشرے میں امن عامہ کی صورتحال بحال رکھنا ہو، لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری ہو، جرائم پر قابو پانا اور مجرموں کو سزا کے مراحل تک پہنچانا ہو، ہر موقع پر پولیس کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ معاشرے کے افراد اور پولیس کے درمیان ہم آہنگی تو دور کی بات، رابطہ تک مشکل سے ناممکن کا سفر طے کررہا ہے۔
غریبی انسان کو اپنا گھر، اپنا ملک، اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیتی، ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وطن سے باہر نکل کر جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنی اولاد و بوڑھے والدین کے لئے کچھ کما کر لاؤں تاکہ سب خوش حال زندگی بسر کر سکے، ہر طرح کے عیش و آرام مل سکے، دنیاوی سازو سامان سے فیض یاب ہو سکے۔ اس فکر میں انسان رات دن محنت کر کے کچھ کماتا ہے اور ہر مصیبت میں وہ ملک کے آئین پر مکمل اعتماد کرتا ہے یہ سوچ کر ہمارے کاروبار اور گھر وغیرہ کی حفاظت کے لئے علاقہ کی پولس ہے جو ہماری حفاظت کے لئے چوبیس گھنٹے معمور ہے۔پولس کا نام سنتے ہی ایک انوکھی دنیا میں انسان کھو جاتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ پولس ہے تو یہ عوام محفوظ ہے،غنڈہ گیری، دادا گیری کسی کی نہیں چل سکتی۔
معاشرہ ترقی کرتا ہے جب انصاف کا بول بالا ہو، جب قانون کی نظر میں سب برابر ہوجائیں، جب عدالتیں وقت پر فیصلے کرنا شروع کردیں لیکن شومئی قسمت کہ وطن عزیز میں اس وقت یہ چیزیں مفقود ہیں۔ انصاف آپ کی دہلیز پر ایک نعرہ تو ہے لیکن اس نعرے کو عملی جامہ پہنانے میں شائد ابھی کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں کیونکہ انصاف کی راہ میں سہولت سے زیادہ ہمارے ہاں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، یہ آپ کو اخبارات و تقاریر میں سننے کو تو بکثرت ملتے ہیں لیکن حقیقی معنوں میں صورتحال اس کے بالکل ہی برعکس ہے۔ قانون طبقاتی تقسیم کے درمیان گھن چکر بنا ہوا ہے۔ عدالتیں وقت پر فیصلے کریں، اس بات کی یقین دہانی بھی ہمیں بسا اوقات کروائی جاتی ہے لیکن ایسا ہونا نہ جانے کیوں ممکن نہیں ہوپا رہا اور ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ملزمان لقمہ اجل بننے کے بعد بے قصور ثابت ہوئے۔ نسلیں گزر جاتی ہیں کیسوں کے فیصلے نہیں ہوتے۔ ان سب باتوں کو دیکھ کر عام لوگوں کا بھروسہ متزلزل ہورہاہے،گزشتہ ایام میں دہلی میں مفسدوں نے جو ننگا ناچ کیا وہ آپ کے سامنے ہے اور اس میں پولس کا جو بد بختانہ کردار رہا وہ بھی آپ کی نگاہوں میں ہے، جس کی وجہ سےعوام الناس خصوصاً غریب طبقہ کا اعتماد پولس پر سے ختم وہ گیا ہے ،پھر یہ اعتماد کیوں ختم نہ ہو؟
ایک پولس کمشنر کے سامنے غنڈہ صفت شخص دھمکی دے کر جاتا ہے کہ اگر یہ جعفرآباد کا راستہ نہیں کھلا تو ہم آگ لگا دیں گے اور دوسرے ہی دن دہلی مشرقی دہلی کے علاقے ” موجپور، کردم پوری، گوکل پوری، کراول نگر، وجے پارک، گھونڈا، بھجن پورہ، چاند باغ، کھجوری، پانچواں پشتہ، برہم پوری اور دہلی سے متصل لونی کے بعض علاقوں کو دنگائیوں نے آگ کے حوالہ کر دیا، پولس تماشائی دیکھتی رہی۔ جب کال کیا جاتا تو حفاظت کرنے کے بجائے کال پر گالی دی جاتی اور اس فساد بھڑکانے میں پولس لگاتار دو دن تک ساتھ دیتی رہی ، بعض علاقوں والوں کا کہنا کہ دہلی پولس نے پیسےلے کر دنگائیوں کو دنگا بھڑکانے دیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب دہلی پولس محافظ نہیں رہی بلکہ رہزن بن گئی ہے، آخر کیوں نہ بنے۔ وہ ایک ایسے ماسٹر مائنڈ کے ہاتھ کی کٹھ پتلی جو ٹھری ہے۔ ادھر دہلی ہائی کورٹ کے سابق جج نے جب پولس کو پھٹکار لگائی تو اُسے فورا ہریانہ پنجاب ہائی کورٹ کے ٹرانسفر کا نوٹس تھما دیا گیا۔ خود ہی قاتل اور منصف بھی خود ہو۔
اب میڈیا اور دہلی پولس اپنے اس بدنما داغ کو مٹانے کے لئے ایک مسلم چہرہ کی تلاش میں تھی چنانچہ حاجی طاہر حسین کی شکل میں ایک مرغا مل گیا اور اسے ماسٹر مائنڈ بنا کر ہندوستانی عوام کے سامنے پیش کیا جب کہ ہندوستان کی عوام ساری سچائی سے واقف ہے، ابھی مسلم علاقوں سے مسلم نوجوانوں کو اٹھایا جا رہا ہے آخر مسلم قوم کس انسان کا دروازہ کھٹکھٹائے؟ اب تو دل بار بار یہی کہتا ہے کہ دہلی پولس تیرے کردار پر رونا آیا،اِک ہو اکا جھونکا اور سَرکنڈا یاد آیا۔