اے دلِ نادان

شعبۂ اردو،جے این یونئی دہلی
لکھنؤ کے’’ ٹنڈے کباب‘‘ میں کباب اگر جسم ہے تو ٹنڈے اس کی روح۔ دونوں میں جسم و جاں کا رشتہ ہے۔ لیلیٰ مجنوںاور شیریں فرہاد کی طرح ’’ٹنڈے کباب‘‘ کے درمیان بھی ازلی رشتہ ہے۔ ٹنڈے اور کباب کے رشتے پر ٹیڑھی نظر ڈالنا لکھنوی تہذیب کی شان میںعین گستاخی ہے۔ٹنڈے کباب اپنی سیرت و صورت دونوں اعتبار سے قابل رشک ہے۔اس کے تقدس کی تفہیم کے لیے بصیرت اور بصارت کی نظر درکار ہے۔ٹنڈے کباب کے دیدار محض سے سطح ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ٹنڈے کباب کے سامنے شیراز کے میخانے اور خیام کی رباعیاںبے اثر ہیں۔ بس صرف یہ کسر ہے کہ اس میںکوثر وتسنیم اور آب ز مزم کی پاکی اور کوہِ قاف کا حسن موجود نہیں ہے۔
سرزمینِ لکھنؤ پر قدم رکھنا اگر فرض ہے، تو’’ ٹنڈے کباب‘‘ سے لطف اندوز ہونا ناگزیرقرار پاتا ہے۔اسی لیے لکھنؤ آنے والا ہر خاص و عام ’’ٹنڈے کباب‘‘ کو سلام عقیدت پیش کرنا عین سعادت مندی تصور کرتا ہے۔اس سے محرومی پر فرشتے نحوستیں بھیجتے ہیں۔اہل لکھنٔو’’ٹنڈے کباب‘‘کو توشۂ آخرت سمجھتے ہیں۔ان کا عقیدہ ہے کہ ’’ٹنڈے کباب‘‘ کی برکت سے گناہِ صغیرہ سوکھے ہوئے پتوں کی طرح جھڑ جائیں گے۔قبر کے عذاب میںبھی تھوڑی بہت رعایت ممکن ہے۔ اس کی سماجی و تہذیبی اہمیت کا اندازہ اس شہرِ نشاط میںدر پیش ایک واقعے سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک دفعہ حسب وعدہ باراتیوں کی خاطر تواضع میں’’ ٹنڈے کباب‘‘ کا اہتمام نہ ہونے سے دولہے نے عین موقع پر نکاح سے انکار کر دیا۔قابل غور ہے کہ ’’ ٹنڈے کباب ‘‘سے خاکسارکا رشتہ روحانی نوعیت کا ہے۔میرا عقیدہ ہے کہ وصال عشق کی موت ہے۔اس لیے دل میں جب بھی’’ٹنڈے کباب‘‘ کی تمنائیںجاگتی ہیں تواس کا ورد شروع کردیتا ہوں۔اس عملِ بابرکت کی بنیاد پرہی ’’ٹنڈے کباب‘‘ کی روحانی خوشبو سے دل و دماغ دونوںمعطر ہوجاتے ہیں یعنی عشق میں اگر گرمی ہو توہجر میں بھی وصال کا لطف آتا ہے۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ لکھنؤ میں ایک بزرگ نواب صاحب ہوا کرتے تھے۔ ان کی بتیسی جھڑ چکی تھیں لیکن حضرت کباب کے بہت شوقین تھے۔ لہٰذاانہوں نے کبابیوں کے درمیان مقابلہ آرائی کا اعلان کیا۔شہر در شہر سے کبابیے جوق در جوق شاہی دربار میںجمع ہوئے۔انواع واقسام کے کباب تیار کیے گئے۔دربارکی پوری فضا کباب کی خوشبو سے مہک اٹھی۔ کبابیوں نے اپنے اپنے کباب ترتیب سے میز پر سجا دیے۔ دربارکا سارا منظر کبابی بازار جیسا ہوگیا ۔نواب نے باری باری سے سب کے کباب چکھے۔ نواب کوحاجی مستان علی کا گلاوٹی کباب بہ شکل شامی کباب بے حد پسند آیا۔حاجی مستان علی کو انعام و اکرام سے نوازا گیا۔عزت افزائی کے بعد انہوں نے لکھنؤ میں کباب کی دکان کھول لی۔ان کے کباب کی شہرت جلد ہی دور دور تک پھیل گئی۔بہت سے کبابیوں نے ان کی نقل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے کیوں کہ ایک سوبارہ قسم کے مسالے کہاں سے لاتے؟حاجی مستان علی کو پتنگ بازی کا بھی شوق تھا۔بدقسمتی کہیے کہ ایک روز پتنگ اڑاتے ہوئے چھت سے نیچے آن پڑے اور ایک ہاتھ تڑوا بیٹھے۔اس حادثے کے بعد حاجی مستان علی ٹنڈے میاں اور ان کا کباب’’ ٹنڈے کباب‘‘ کے نام سے مشہور ہوا ۔ ’’ٹنڈے کباب‘‘ کی زلف عنبریں کو سنوارنے میں ان کی کئی پشتیں گزر گئیں ۔
ویسے تو لکھنوی ’’ٹنڈے کباب‘‘کی شہرت سرحدوں میںقید نہیں۔اس کی لذت و خوشبوتو عرشِ معلی تک پہنچتی ہے لیکن آج کل اس کاچرچہ ملک کے ہر کوچہ و بازار میں ہے۔کیوں کہ لکھنوی ’’ٹنڈے کباب‘‘ ان دنوں طوفان کی زد میں ہے۔کم و بیش گزشتہ سوبرسوںمیں ’’ٹنڈے کباب‘‘ پہلی دفعہ فاقہ کشی کا شکار ہوا ہے۔یہ سچ ہے کہ ’’ٹنڈے کباب‘‘ پر سیاسی گرہن لگا ہواہے۔ارے بھائی! گرہن تو چاند اور سورج کوبھی لگتا ہے۔ در اصل زوال ہر عروج کا مقدرہے۔ جب لکھنوی حکومت کا سورج ڈھل گیا تو’’ٹنڈے کباب‘‘ کی کیا بساط ؟ ملک کے مختلف حصوں سے ٹنڈے کباب کی تعزیت کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ خاص طور پر لکھنؤ میں توصف ماتم بچھی ہوئی ہے۔بعض صاحبان کا خیال ہے کہ ’’ٹنڈے کباب‘‘کے دم پرہی لکھنوی تہذیب زندہ تھی۔لیکن اب چراغوں میں روشنی نہ رہی   ؎
محفلیں اب کہاں نوابوں کی
صحبتیں اب کہاں جنابوں کی
کھینچ لاتی ہے لکھنو ہم کو
ٹنڈے خوشبو تیرے کبابوں کی
خدا ’’ٹنڈے کباب‘‘ کو ہر بلا سے محفوظ رکھے!!!ایسے مایوس کن حالات میں ’’ٹنڈے کباب‘‘ کے حق میں دعائیں ضروری ہیں۔ ’’ٹنڈے کباب‘‘ پر قہر نازل ہوتے ہی لکھنوی تہذیب کا آخری ستون بھی گر پڑا۔ درحقیقت اس کے ذکر کے بغیر اودھ اور اس کی تہذیبی تاریخ ادھوری ہے۔ اس ستم ظریفی پر شہرکا ذرہ ذرہ اداس ہے۔عبادت خانوں میں ماہ ِمحرم کی فضا طاری ہے۔ لکھنو کا دسترخوان اجڑ سا گیا ہے۔عیش و عشرت اورعیش ونشاط کا یہ شہرسائیں سائیں کر رہا ہے۔یہاں کی رونقیں، چہل پہل ،ریل پیل سب کچھ غائب سب کچھ مفقود ہیں۔
کبھی نخاس اورامین آبادکے علاقوں میں انسانوں کا جم غفیر موجودہوتا تھا۔ جہاں ہوائیںبھی مشکل سے گزر پاتی تھیں۔ بدن سے بدن چھلتا تھا لیکن اب ہر طرف سناٹا ہی سناٹا۔جیسے گلیوں،بازاروں اور کوچوںمیں بیوگی طاری ہو۔جیسے پورا شہر روٹھ گیا ہو۔جیسے چاند،سورج اور ستارے اپنی گردش بھول گئے ہوں۔کبھی لکھنؤ کی شامیں رومانی ہوا کرتی تھیں۔شب وصال کے سامنے شب فراق دھول چاٹتی پھرتی تھی۔ مے خانوں سے زیادہ کباب خانوں میں رونق رہتی تھی لیکن اب ٹنڈے کباب کے فراق میں لکھنؤکا حال کچھ یوں ہے۔بقول  میرؔ     ؎
شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
  ’’ٹنڈے کباب‘‘ کے ہجر میں اس کے عاشق بیمار بیمار سے نظر آتے ہیں۔اس سے بے پناہ چاہت و رغبت رکھنے والے دیوانوں کی نوک زباں پرصرف یہی نغمہ ہے کہ ’’تیرا جانا ارمانوں کا لٹ جانا‘‘۔اس شمع فروزاں کے ذکر کے سبب ان کی زبانیں گھس گئی ہیں۔ان کے ایمان میںبھی اب وہ گرمی باقی نہ رہی۔عاشقوں کے ساتھ ساتھ کبابیوں میں بھی غم و اداسی کی لہرسی دوڑی ہوئی ہے۔ کبابیے ’’ٹنڈے کباب‘‘کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے مرغ ،انڈے اور سبزی کا سہارا لے رہے ہیں۔لیکن گوشت ِمعظم کے بغیر ’’ٹنڈے کباب‘‘ کا وجودپارہ پارہ ہو گیا ہے۔
مذکورہ اشیاء کے بنے ہوئے ٹنڈے میں وہ بات کہاں؟نہ لطافت،نہ نزاکت ،نہ لذت،نہ عظمت۔ بس ایک رسمِ واجبی سی پوری ہو رہی ہے۔خدامعاف کرے!یہ تو ’’ٹنڈے کباب‘‘ کی شان میں سراسر گستاخی اور بے ادبی ہے۔دکانوں کے باہر’’ٹنڈے کباب‘‘کی جگہ ’’مرغ کباب‘انڈے کباب اور سبزی کباب‘‘ کی تختیاں لگا ئی گئی ہیں۔در اصل یہ تختیاں ’’ٹنڈے کباب‘‘ کی عظمت رفتہ کی داستان معلوم پڑتی ہیں۔لیکن اس کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ شاید کوئی نیا نسخہ ہاتھ لگ جائے۔
 بعض دکانوںپرجلی حروف میں فیض ؔ کی نظم’’ مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ‘‘ چسپاں کی گئی ہے لیکن داغ داغ اجالا اور شب گزیدہ سحر دیکھ کرعاشقوں کو یک گونہ سکون میسر نہیں۔ انھیں سفینۂ غم ِدل کے رک جانے کا شدت سے انتظار ہے۔ جنون ومحبت اورنالہ و فریاد کی یہ شدت پتھر کوبھی پگھلنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ قوی امید ہے کہ ’’ٹنڈے کباب‘‘ پر چھائے ہوئے سیاسی بادل جلد ہی چھٹ جائیں گے۔کیوں کہ’’ٹنڈے کباب‘‘کے پروانوں کا یقین ہے کہ ’’لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے‘‘۔عرض کرتا چلوں کہ گزشتہ جمعرات کی شب اکبری گیٹ پر ’’کبابی مشاعرہ ‘‘کے نام سے ایک شاندار شعری نشست کا انعقاد ہوا۔ اس تقریب میں سرزمین ِلکھنؤ کے نامی گرامی شاعروشاعرات جمع ہوئے۔مشاعرے کا ہجوم ایسا کہ سامعین کو مجبوراًامام باڑے کی چھت پر چڑھنا پڑا۔لوگ مکھیوں کی طرح ایک دوسرے سے چپک چپک کر بیٹھے تھے۔در اصل یہ ہجوم’’ٹنڈے کباب‘‘ کی شان وعظمت کی گواہی دے رہا تھا۔
کسی نے ’’ٹنڈے کباب‘‘ کی شان و عظمت میں قصیدے پڑھے تو کسی نے اس کی خستہ حالی کا مرثیہ سنایا۔مخمل بربادیؔ نامی ایک شاعر نے شہر آشوب کے پردے میں لکھنؤ کے تہذیبی زوال کی داستان پیش کی۔ انصاف کی بات ہے کہ اردو داں حضرات کو’’ ٹنڈے کباب کے عصری مسائل ‘‘کے موضوع پر آناً فاناً ایک کل ہند سیمینارمنعقد کرنا چاہیے،کیوں کہ اردو کے بیشتر کلاسیکی شعرا نے کباب ، شراب اور شباب کے سہارے ہی اپنا شعری لقمہ توڑا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ میرؔؔ جیسے عظیم المرتبت شاعر نے بھی اپنی ایک مشہور غزل کی بنیاد کباب، شراب، شباب،حجاب، اضطراب اور خراب جیسے قوافی پر رکھی ہے۔اس غزل کا ایک شعر ملاحظہ ہو۔’’داغ رہنا دل و جگر کا دیکھ/جلتے ہیں اس طرح کباب کہاں‘‘ یعنی وہ کباب کے بغیر اپنے دل و جگر کی سوزش وجلن سے پردہ اٹھانے میں قاصر ہیں۔ بہرحال مشاعرے میں ’’ٹنڈے کباب زندہ باد‘‘کے فلک شگاف نعرے بھی لگائے گئے۔ اس شعری محفل کی تکمیل میں پوری شب گزر گئی۔فجر کی اذان ہوتے ہی نا ظم مشاعرہ نے فیض کے اس شعر کے ساتھ سامعین کو خدا حافظ کہا    ؎
تم آئے ہو، نہ شبِ انتظار گزری ہے
تلاش میں ہے سحر، بار بار گزری ہے
قابل ذکر ہے کہ مٹن تکہ،چکن تکہ، مٹن بریانی،چکن بریانی،مٹن قورمہ ، چکن قورمہ جیسی مرغن غذائیں’’ ٹنڈے کباب‘‘ کے خلا کو پر کرنے میں ناکام ہیںلیکن اس قدر ہائے توبہ مچانا جائز نہیں۔اپنے اندر صبر ایوبی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ خدا کی نافرمانی پرتو حضرت آدم بھی جنت سے نکالے گئے تھے۔ ’’ٹنڈے کباب‘‘ کی حالت زار دیکھ کر ’’حیدرآبادی پایہ اورمرادآباد ی بریانی‘‘ بھی خوف زدہ ہیں۔انھیں فکر ہے کہ جانے کب سیاست کی برچھیاں ان کے سینے میں بھی اتار دی جائیں۔ 
ظاہر ہے کہ ’’حیدرآبادی پایہ اور مرادآباد ی بریانی‘‘کی شہرت تحت الثریٰ تک پھیلی ہوئی ہے۔ ان میںارض و سماء کی ساری وسعتیں سمائی ہوئی ہیں۔توجہ طلب ہے کہ پرانی دہلی کے معروف حکیم ہمدرد صاحب نزلہ اور پرانی کھانسی جیسی جاں گداز بیماریوں سے نجات کے لیے حیدرآبادی پایہ تجویز کرتے تھے۔تحقیق طلب نکتہ ہے کہ ’’ٹنڈے کباب‘‘ کسی بیماری کی دوا ہے کہ نہیںلیکن یہ توجگ ظاہر ہے کہ اس کے ہجرو فراق میں عاشقوں کی ایک بڑی جماعت بیمار ضرور ہو گئی ہے۔اب تو بس یہی التجا ہے    ؎
گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
فون نمبر8527818385