ایک ہفتے تک گوشت کی سپلائی مکمل بحال ہوگی:کوٹھدار

سرینگر// سرکار اور کوٹھداروں و قصابوں کے درمیان گوشت کی قیمتوںکولیکر تنازعہ حل ہونے کے بعد بھی بیشتر قصابوں کی دکانیں ہنوز مقفل ہیں،تاہم کوٹھداروں کا کہنا ہے کہ گوشت کی سپلائی کو مکمل طور پر بحال ہونے میں ایک ہفتہ درکار ہوگا۔ کوٹھداروں اور انتظامیہ کے درمیان اگرچہ4ماہ بعد قیمتوں پر جاری مخاصمہ حل ہوا اور فریقین نے پرچون گوشت فی کلو535بغیر اجڑی اور490معہ اجڑی فروخت کرنے پر اتفاق بھی کیا،تاہم اس کے بعد بھی ابھی تک مکمل طور پر گوشت کی دکانوں کو نہیں کھولا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک بھی کئی مقامات پر قصاب گھروں میں چوری چھپے600روپے فی کلو گوشت فروخت کر رہے ہیں۔ صارفین نے شکایت کی کہ نوروز کیلئے بھی گوشت دستیاب نہیں تھا،اور جن لوگوں کو گوشت ملا انہیں بھی من مانے قیمتوں پر اس کو خریدنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے بھی اس سلسلے میں  قیمتوں کو مقرر کرنے کے بعد اس بات کو یقینی نہیں بنایا گیا کہ نوروز کے موقعہ پر گوشت دستیاب رکھا جائے۔ ہول سیل مٹن ڈیلروں کا کہنا ہے کہ وادی میں مکمل طور پر گوشت کی سپلائی بحال ہونے میں ایک ہفتہ لگ جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کو بھی دہلی کی منڈی بند رہتی ہے،جبکہ گزشتہ دو دنوں سے جو مال منگایا گیا اس کو بھی یہاں دہلی اور دیگر منڈیوں سے4سے5 روز لگ جائیں گے۔کشمیر ہول سیل مٹن ڈٖیلروس ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری معراج الدین گنائی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اگرچہ چہ منڈیوں سے مال آنا شروع ہوگیا ہے تاہم مکمل بحالی میں ایک ہفتہ تک لگ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر ان قصابوں کو مال فراہم کیا جائے گا،جن کے دکانات بند ہیں تاکہ وہ دکانیں کھول سکے،اور گھروں میں گوشت فروخت کرنے کا سلسلہ بند ہو۔ انہوں نے کہا کہ یونین کے صدر منظور احمد قانون کی سربراہی میں منعقد ہونی والی میٹنگ میں کوٹھداروں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ بیرون منڈیوں سے مال لائیں ،تاہم اس میں کچھ وقت درکار ہوگا۔گنائی نے کہا’’ کچھ فنی مسائل ہیں،اور وہ بھی حل ہو رہے ہیں،تاہم قیمتوں پر سرکار اور مٹن ڈیلروں کے مابین سمجھوتہ کے بعد کوٹھدار متحرک ہوگئے ہیں کہ مال کو جلد از جلد وادی درآمد کیا جائے‘‘۔ادھر محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی روز سے بیرون ریاستوں کی منڈیوں سے زندہ مال آرہا ہے اور گزشتہ3روز سے50بھیڑ بکریوں کی گاڑیاں وادی وارد ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق17مارچ کو15گاڑیاں اور18مارچ کو22 گاڑیاں وادی پہنچی۔